سپریم کورٹ نے قتل کے چار مختلف مقدمات نمٹادیئے

51

سپریم کورٹ نے قتل کے چار مختلف مقدمات نمٹادیئے
وکلائ کے دلائل سننے کے بعد محمد اشرف کی سزائے موت کوعمرقید میں تبدیل کردیا ملزم شفیق احمد پرالزام تھاکہ زمین کے تنازعہ پر جلال دین گھرمیں گھس کر قتل کیا تھا
اسلام آباد ٟبیورورپورٹٞسپریم کورٹ آف پاکستان نے قتل کے چارمختلف مقدمات نمٹا تے ہوئے دوملزمان کوبری اور دو کی سزائے موت کوعمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔ پیرکو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ پہلے کیس کے ملزم ارشد علی پر 2002 ئ میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے اپنے بھائی امجد علی کے ساتھ ملکر فیصل آباد کے علاقہ نشاط آباد میں محمد اشرف نامی شخص کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا تھا، عدالت نے وکلائ کے دلائل سننے کے بعد محمد اشرف کی سزائے موت کوعمرقید میں تبدیل کردیا جبکہ اس کے بھائی کوپہلے ہی بری کردیا گیاتھا۔ فیصل آباد ہی میں قتل کے ایک دوسرے کیس میں عدالت نے وجہ عناد ثابت نہ ہونے پر ملزم عارف علی کی سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کر دیا۔ تیسرے مقدمہ کے ملزم شفیق احمد پرالزام تھاکہ اس نے زمین کے تنازعہ پر اکتوبر 2006 ئ میں جلال دین نامی شخص کے گھرمیں گھس کر اسے قتل کیا تھا تاہم عدالت نے وجہ عناد ثابت نہ ہونے پر ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا، اسی مقدمے کے شریک ملزم پرویز کو ہائیکورٹ نے پہلے ہی بری کر دیا تھا، چوتھے مقدمہ میں ملزم امجد علی پرالزام تھا کہ اس نے دیرینہ تنازعہ پراپنے ایک عزیزکوقتل کیاتھا عدالت نے وکلائ کے دلائل سننے کے بعد ملزم کو عدم شواہدکی بنیاد پر بری کرتے ہوئے قراردیا کہ وہ اس کیس کاجائزہ لینے کے بعد حیران ہیں کہ ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے کس بنیاد پرملزم کوسزادی ہے کیونکہ مقدمہ میں تو کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہوئی۔ مقدمات

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.