ایف بی آر سے 1985سے 2016کے دوران وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلی

56

شریف خاندان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی منی ٹریل بھی حاصل کر لی گئی، ایف بی آر سے 1985سے 2016کے دوران وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات طلب کرلی گئےں سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی نے ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا کی سربراہی میں دستاویزات جمع کرانے کا کام تیز کردیا ،اب تک ملنے والے ریکارڈ کا موازنہ شروع ،نئے اٹھنے والے سوالات کو الگ کیا جا رہا ہے ،ذرائع

اسلام آباد ٟبےورورپورٹ،پی اےس آئی ٞ پاناما کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی منی ٹریل سے متعلق سوالنامہ تیار کر لیا۔ واجد ضیائ کی سربراہی میں قائم مشترکہ جے آئی ٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سٹیٹ بینک ، نیب اور حساس اداروں کے نمائندے شامل ہوئے۔ اجلاس میں شریف خاندان کی منی ٹریل کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے ٹیموں کو بیرون ملک بھیجنے سے متعلق لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی منی ٹریل سے متعلق سوالنامہ تیار کر لیا ہے جس کے بعد شریف فیملی کو قطری خط اور سرمایہ کاری سے متعلق جواب دینا ہوگا۔ذرائع نے مزید بتایاکہ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی منی ٹریل بھی حاصل کر لی ہے ،جبکہ جے آئی ٹی نے ایف بی آر سے 1985 سے 2016 کے دوران وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی جانب سے جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اب تک ملنے والے ریکارڈ کا موازنہ شروع کر دیا گیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی جے آئی ٹی نے ایڈیشنل ڈائریکٹر واجد ضیا کی سربراہی میں دستاویزات جمع کرانے کا کام تیز کردیا ہے۔ جے آئی ٹی میں اب تک ملنے والے ریکارڈ کا موازنہ کیا جارہا ہے اور اس دوران پیدا ہونے والے سوالات کو الگ کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے ایف آبی آر سے 1985 سے 2016 تک وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات منگوانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں ایف بی آر کو خصوصی طور پر خط لکھا جائے گا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے واجد ضیا کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی ہے جو 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کی پابند ہے۔ جے آئی ٹی

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.