ملزم گرفتار کیوں نہ ہوسکا،لگتا ہے پولیس دلچسپی ہی نہیں رکھتی ،جسٹس عمر عطائ

46

ملزم گرفتار کیوں نہ ہوسکا،لگتا ہے پولیس دلچسپی ہی نہیں رکھتی ،جسٹس عمر عطائ بندیال ڈی آئی جی میر پور خاص کی سخت سرزنش ، مقدمے کی سماعت تین ہفتوں کےلئے ملتوی
اسلام آبادٟبیورورپورٹٞ سپریم کورٹ نے سندھ میں و ڈیرے کی تھانے میں پولیس سے بدتمیزی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی میر پور خاص کی سخت سرزنش کی ہے ، جبکہ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ محکمے نے خود ہی اپنی عزت نہیں کی، جسٹس عمر عطائ بندیال نے ڈی آئی آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اپنی فورس کے وقار کو آپ نے خود قائم رکھنا ہے۔ گزشتہ روز ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ، دوران سماعت ڈی آئی جی میر پور خاص جاوید اوڈھو عدالت میں پیش ہوئے ، واقع کے مرکزی ملزم کی عدم گرفتار ی پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور ڈی آئی جی میر پور خاص کی سرزنش کرتے ہوئے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مرکزی ملزم اب تک گرفتار کیوں نہ ہوسکا،لگتا ہے پولیس گرفتاری میں دلچسپی ہی نہیں رکھتی ،جسٹس عمر عطائ بندیال نے نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ دو مئی کا واقعہ تھا آج تک آپ کیا کرتے رہے ہیں ،اپنی فورس کے وقار کو آپ نے خود قائم رکھنا ہے، اس پر ڈی آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ نواب زاہد تالپور اور آصف پٹھان نے حفاظتی ضمانت کروا رکھی ہے،،چھ ملزمان مفرور جبکہ دو گرفتار ہیں ، اخبار کے ذریعے ملزم کی گرفتاری کا علم ہوا، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کو یہ بھی علم نہیں کہ ضمانت کب اور کتنے دن کی ہوئی، جس پر ڈی آئی جی نے عدالت کو بتایا کہ بروقت اور درست اطلاع نہ دینے پر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کر دیا،اس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ دونوں افسران کو نواب صاحب کے حکم پر ہٹایا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے محکمے نے خود ہی اپنی عزت نہیں کی، ڈی آئی جی نے عدالت کو مزید بتایاکہ زاہدتالپور نے حال ہی میں اپوزیشن پارٹی جوائن کی ہے، ،علی گْل کیپری کی گرفتاری پر نواب ساتھیوں کے ہمراہ تھانے آیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ایک فون پر آپکو عدالتی حکم کی کاپی مل سکتی تھی ،ضمانت کی تفصیلات سے فوری طور پر آگاہ کریں ، اس پر معمولی وقفے کے بعد پولیس نے ملزمان کی ضمانت سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم زاہد تالپور 23 مئی جبکہ ملزم آصف پٹھان 18 مئی تک ضمانت پر ہیں ، اس پر جسٹس عمر عطائ بندیال نے کہا کہ 3 مئی کے واقعہ پر ضمانت 8 مئی کو لی گئی، اس دوران اگر ایس ایچ او ہمت کرتا تو ملزمان گرفتار کر لئے جاتے ،بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ۔ بدتمیزی کیس

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.