یہ نیٹو سپلائی اور گدھوں کا کاروبار نہیں ،فاٹا کے عوام کی نسلوں کا مسئلہ ہے

58

یہ نیٹو سپلائی اور گدھوں کا کاروبار نہیں ،فاٹا کے عوام کی نسلوں کا مسئلہ ہے،جلدی میں اس بل کو پیش نہ کیا جائے ورنہ ہم ہر چیز کو جام کر دینگے، فضل الرحمن فاٹا کے معصوم عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے لگتا ہے حکومت کی صفوں میں اختلاف ہے،خورشید شاہ ، بل پر جس کو اعتراض ہے کمیٹی میں آئے،صاحبزادہ طارق اللہ
اسلام آباد ٟشاکر رحمان سےٞدستور میں 29ویں اور 30ویں ترمیم کے بل قومی اسمبلی میں پیش کردیئے گئے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر زاہد حامد نے دستور ٟترمیمیٞ بل ٟ29ویں ترمیمٞ بل 2017ئ پیش کیا۔ وفاقی وزیر جنرل ٟرٞ عبدالقادر بلوچ نے دستور 30ویں ترمیم ٟبلٞ 2017ئ پیش کیا۔وفاقی وزیر جنرل ٟرٞ عبدالقادر بلوچ نے قبائلی علاقہ جات رواج بل 2017ئ ایوان میں پیش کیا ٖ یہ تمام بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کردیئے گئے۔ وفاقی وزیر جنرل ٟرٞ عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے بل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے سپرد کئے جائیں۔قومی اسمبلی کے پیر کے روز اجلاس میں وفاقی وزیر لیفٹیننٹ جنرل ٟرٞ عبدالقادر بلوچ نے قبائلی علاقہ جات رواج بل2017ئ پیش کیا تواس پر مولانا فضل الرحمن پھٹ پڑے اور کہاکہ یہ نیٹو سپلائی اور گدھوں کا کاروبار نہیں یہ فاٹا کے عوام کی نسلوں کا مسئلہ ہے ان سے پوچھے بغیر فاٹا کا سٹیٹس تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ جلدی میں اس بل کو پیش نہ کیا جائے ورنہ ہم ہر چیز کو جام کر دیں گے۔ انہوں نے بعد میں اپنے جذباتی روےے سے معذرت بھی کر لی۔ سپیکر نے کہا کہ متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد ہی کئے جائیں گے۔ زاہد حامد نے کہا کہ یہ بل فاٹا اصلاحات کا حصہ ہیں ٖ اس لئے انہیں کلب کرکے کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ متعلقہ کمیٹی میں ہی زیر بحث لائے جائیں تاہم اس کمیٹی میں متعلقہ ارکان کو مدعو کیا جائے۔ وفاقی وزیر زاہد حامد نے اپنی بات پر اصرار جاری رکھا کہ یہ بل ریاستوں و سرحدی امور کی کمیٹی کے سپرد کرنے کی بجائے قانون و انصاف کی کمیٹی کے سپرد کئے جائیں۔سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی برائے ریاستوں و سرحدی امور کو بھجواتے ہوئے ہدایت کی کہ فاٹا سمیت دیگر ارکان جو دلچسپی رکھتے ہوں انہیں مدعو کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبد الغفور حیدری پر حملہ افسوسناک ہےٴ فاٹا کے حوالے سے بل پیش ہونے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ فاٹا کے حوالے سے بل پر بات کرتے ہوئے جمعیت علمائ اسلام ٟفٞ کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بل کا جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے وہ حکومت اور ہمارے درمیان ہونے والے معاہدوں کے برعکس ہے اس سے فاٹا کو متنازعہ بنایا جارہا ہے، اس سے فاٹا کے عوام کو سکون نہیں ملے گا ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ جو باتیں ہمارے ساتھ طے ہوگئی ہیں اس کے خلاف یہ بل کیوں لایا گیا ہے ہم پہلے بھی بات کرنے کے لئے تیار تھے اب بھی تیار ہیں۔ اس پر فاٹا کے دیگر ارکان نے ایوان میں احتجاج شروع کردیا۔ مولانا فضل الرحمن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ برطانیہ میں بھی یورپی یونین کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے حوالے سے ریفرنڈم کرایا گیا ہے۔ اگر فاٹا کے عوام کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنی ہے تو یہ ان سے پوچھے بغیر نہیں ہو سکتا۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے بل پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ کمیٹی میں اپنا موقف پیش کرسکتا ہےٴ فاٹا کے عوام پارلیمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہیںٴ پارلیمنٹ نے آئین کے آرٹیکل 247 اور 248 میں ترامیم لانی ہیں۔ ترمیمی بل

یہ نیٹو سپلائی اور گدھوں کا کاروبار نہیں ،فاٹا کے عوام کی نسلوں کا مسئلہ ہے،جلدی میں اس بل کو پیش نہ کیا جائے ورنہ ہم ہر چیز کو جام کر دینگے، فضل الرحمن فاٹا کے معصوم عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے لگتا ہے حکومت کی صفوں میں اختلاف ہے،خورشید شاہ ، بل پر جس کو اعتراض ہے کمیٹی میں آئے،صاحبزادہ طارق اللہ

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.