حویلی بہادر شاہ اور بلوکی بجلی گھر اگلے سال آپریشنل ہونگے، 1200 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی

37

 اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ترقی واصلاحات کوبتایا گیا ہے کہ 1200 میگاواٹ بجلی کے بلو کی اور حویلی بہادرشاہ ایل این جی بجلی گھرفروری2018تک فعال ہوجائیں گے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو چیئرمین عبدالمجیدخانان خیل کی صدارت میں ہوا جس میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی اورسیکریٹری منصوبہ بندی کی عدم شرکت پرکمیٹی نے شدیدبرہمی کااظہارکر تے ہوئے آئندہ اجلاس میں حکام کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی۔کمیٹی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ایل ڈی سی کی بھرتیوں کے عمل کاجائزہ بھی لیا۔

دریں اثنا سینیٹ  کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو چیئرمین این ایچ اے کی جانب سے بتایا گیا کہ دسمبر کے آخر تک لیاری ایکسپریس وے منصوبہ مکمل ہوجائیگا،این ایچ اے کااس وقت کوئی منصوبہ رکا ہوا نہیں تاہم وزارت خزانہ کے ساتھ کچھ نکات پر معاملہ تاخیر کا شکارہورہاہے جس پر کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ کو طلب کر لیا۔اجلاس چیئرمین داؤد اچکزئی کی صدارت میں ہوا۔

دوسری جانب سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے مسائل کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے چیئرمین سینیٹر عثمان کاکڑ نے بلوچستان میں گیس کے سلیبزبنانے اورگیس پرٹیرف میں رعایت کے حوالے سے ایوان بالا سے متفقہ طورپرمنظور ہونیوالی قرارداد پرعملدرآمدنہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں اوگرا حکام کو طلب کرلیا۔

ادھر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی موسمیاتی تبدیلی نے راول ڈیم میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں، پولٹری فارمز اور قریبی علاقوں کے سیوریج کا پانی شامل ہونے اوررواں سال کے دوران ڈیم میں بڑی تعداد میں مچھلیوں کے مرنے کے معاملے کی اصل وجوہ جاننے کیلیے سب کمیٹی بنانیکا بھی فیصلہ کیا جب کہ کمیٹی نے وزارت کے حکام کوآئندہ اجلاس میں اس معاملہ کی تفصیلات پیش کرنیکی بھی ہدایت کی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.