غیر ملکی ادائیگیاں؛ عالمی مارکیٹ میں مزید 3 ارب ڈالر کے بانڈز بیچنے کا اعلان

33

 کراچی:  وزیرمملکت برائے خزانہ رانا محمد افضل خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی برآمدات میں ویلیوایڈڈسیکٹر میں اپیرل کے شعبہ کا برآمدات میں نمایاں حصہ ہے جس کے ساتھ حکومتی تعاون کی انتہائی ضرورت ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اثاثے ظاہر کرنے سے متعلق ٹیکس ایمنسٹی اسکیم مارچ کے وسط میں متعارف کرادی جائے گی، ٹیکسٹائل برآمدکنندگان کے واجب الادا 160 ارب روپے کے ریفنڈز میں سے ایک بڑا حصہ عنقریب ادا کردیا جائے گا۔ یہ بات انہوں نے منگل کی سہ پہر پی ایچ ایم اے ہاؤس میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں 2سال کی توسیع برآمدات کے لیے خوشخبری ہے جس میں وزارت تجارت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں حکومت ٹیکس سلیب 4 لاکھ روپے سے بڑھاکر8 لاکھ روپے کرنے اورٹیکسوں کی شرح کم کرکے20 فیصد تک لانے پر غورکررہی ہے جس سے ریونیو کی کمی کونئے ٹیکس دھندگان کی تعداد بڑھاکر پورا کیا جائے گا۔

پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے جون تک3 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس کے لیے عالمی مالیاتی مارکیٹ میں بانڈز فروخت کیے جائیں گے، حکومت نے قرضوں کی مارکیٹ مہنگی ہونے کے باعث بانڈزکی فروخت کا عمل روک دیا تھا جسے مارکیٹ بہتر ہونے سے دوبارہ شروع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایل این جی کے باعث انرجی مکس میں بجلی کی لاگت میں کمی آرہی ہے اور آئندہ 5 سال میں بجلی کے نرخ میں 5 سینٹ فی یونٹ کے حساب سے کمی ہوگی جس سے برآمدی لاگت میں برآمدکنندگان کو ریلیف ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کوعارضی ریلیف ملا ہے ہم اس پر سنجیدگی سے کام کررہے ہیں تاکہ آنے والے مہینوں میں ملک کو مالی مشکلات درپیش نہ ہوں، برآمدکنندگان کو ریفنڈز حکومت ایف اے ٹی ایف کے ہنگامی مسئلے کے باعث 15 فروری کی ڈیڈ لائن تک نہ دے سکی، حکومت کی پوری کوشش ہے کہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اتنے مستحکم ہوں کہ آنے والی حکومت کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے، آئندہ حکومت بھی مسلم لیگ ن کی ہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے سے تجارتی وصنعتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوا ہے۔

بڑی صنعتوں کی افزائش کافی بڑھی ہے جبکہ غیرملکی خریدار بھی اب پاکستان آرہے ہیں، چند سال قبل صنعتوں کے لیے گیس کی فراہمی سنگین مسئلہ تھا جسے بڑی حد تک ختم کردیا گیا ہے لیکن پنجاب میں صنعتوں کو دیگر صوبوں سے زیادہ مہنگی ایل این جی خریدنی پڑ رہی ہے اور ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ پنجاب کی صنعتوں کو کس طرح ریلیف فراہم کیا جائے تاہم حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدکنندگان کو بنگلہ دیش کی طرح ہائی ویلیو ایڈیشن کی جانب جانا چاہیے کیونکہ زیادہ ویلیوایڈیشن کی حامل صنعتوں کو مالی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ برسوں میں20 فیصد سالانہ کے حساب سے ٹیکس آمدنی میں اضافہ کیا جس سے صوبوں کو بھی زیادہ ریونیو ملا اور وہ انفرااسٹرکچر سمیت دیگر ترقیاتی اسکیموں پر رقوم خرچ کررہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.