شام کی صورتحال کے سبب تیل مہنگا ہونے کا خدشہ

29

پیرس: بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ روس اور اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی پیداوار کو محدود کرنے اور شام میں جاری حالیہ خانہ جنگی کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بلندی پر ہیں۔

دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں امریکا اور چین کی جانب سے تیل کے نرخ کے اعلانات سے یہ ابہام پیدا ہوا کہ اس سے عالمی سطح پر تیل کی قمیت کے مسائل بڑھ سکتے ہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات ختم ہونے کے بجائے تجارتی جنگ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

آئی ای اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی بے یقینی کی کیفیت جاری ہے، شام اور یمن میں اٹھائے جانے والے ممکنہ اقدامات کی غیر یقینی صورتحال کے سبب، خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔

رپورت میں یہ بھی کہا گیا کہ تیل کے نرخ میں اضافے کی ایک وجہ ویانا میں کیا جانے والا معاہدہ بھی ہے، جو سال 2016 میں عالمی سطح پر تیل کے نرخ انتہائی کم ہوجانے کے سبب کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سمجھوتے کے تحت، آرگنائزیشن آف دا پیٹرولیم ایکسپورٹنگ کنٹریز (او پیک) میں شامل تیل نکالنے والے ممالک اور روس، نرخوں میں استحکام کے لیے تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کے پابند ہیں۔

اس معاہدے کے بعد کچھ ممالک نے تیل کی پیداوار، کیے گئے وعدے سے بھی کئی گنا کم کردی، جس سے تیل کی قیمت 67.65 سے تجاوز کر کے 72.60 ڈالر فی بیرل تک جاپہنچی ۔

اس بات کو بھی سامنے لایا گیا کہ اوپیک کے سب سے اہم ملک سعودی عرب نے تیل کی پیداوار مقرر کردہ حد سے کافی کم کردی تھی، جبکہ لیبیا میں جاری خانہ جنگی کے سبب وہاں بھی پیداوار متاثر ہوئی۔

واضح رہے کہ اوپیک کی جانب سے کیے گئے پیداوار میں کمی اس فیصلے سے وینزویلا میں معاشی بحران پیدا ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ اپنی ضرورت کے لیے روس سے خام تیل برآمد کرنے پر مجبور ہوا۔

ایجنسی کا اپنی رپورٹ میں مزید کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے خام تیل بنانے میں تیزی آئی ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اوپیک ممالک کی محدود پیداوار اور بین الاقوامی طلب کی باعث قیمتیں مستحکم ہیں۔

آئی ای اے کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کی طرف سے پیداوار میں مزید کمی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر آئندہ ہفتوں میں تیل کے نرخ مزید بلند ہوسکتے ہیں، جس سے امریکا کی جانب سے خام تیل کی پیداوار میں اضافے کے اثرات زائل ہوجائیں گے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.