غیرملکی قرضے ریکارڈ91ارب76کروڑ ڈالرہوگئے

30

 کراچی: غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا مارچ کے اختتام تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 91 ارب 76 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے۔

ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ میں 5 ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طورپر رواں مالی سال تک 8ارب ڈالر تک کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق غیرملکی قرضوں کی ادائیگی میں اصل قرضے، قلیل مدتی قرضے اور سود کی ادائیگی شامل ہے۔

جولائی تا مارچ 3ارب 52 کروڑ ڈالر کے قرضے ادا کیے گئے اور سود کی ادائیگی کی مد میں 1ارب 44کروڑ ڈالر صرف کیے گئے، یہ رقم پیرس کلب اور دیگر مالیاتی اداروں کو ادا کی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران 2 ارب ڈالر ، دوسری سہ ماہی میں 1ارب 52کروڑ ڈالر جبکہ تیسری سہ ماہی میں 1ارب 35کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی۔ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے بقیہ مہینوں میں مزید 2 سے 3 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ قرضوں کو محدود رکھنے کے قانون کے مطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے 60 فیصد تک ہونا چاہیے۔

تاہم موجودہ حکومت کے 5سال مکمل ہونے پر قرضے جی ڈی پی کے 70 فیصد سے زائد ہو گئے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق آئندہ مالی سال میں پاکستان کو 13 ارب ڈالر مزید قرض کی ضرورت ہوگی۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرضوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی کی تھی کہ سال2020 تک پاکستان پر قرضوں کا حجم 114 ارب ڈالر ہو جائے گا۔رپورٹ کے مطابق رواں برس 2018 میں قرضوں کا حجم 93 ارب 27 کروڑ ڈالر ہے، رواں برس پاکستان کو 7ارب 73 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ سال 2019 میں ادائیگیاں بڑھ کر 12ارب 73 کروڑ ڈالر ہو جائیں گی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.