1200میگاواٹ کے پون منصوبے رواں سال فعال ہوجائیں گے

15

 کراچی: سال 2018 کے اختتام تک ملک بھر میں 1200 میگاواٹ کے پون منصوبے فعال ہوجائیں گے

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ترقی متبادل توانائی کا پہلا اجلاس فیڈریشن ہاؤس میں ہوا۔ صدارت ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر زاہد سعید اور چیئرمین کمیٹی فواد جاوید نے فیڈریشن ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔ جو ماہرین اس اجلاس میں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2018 کے اختتام تک ملک بھر میں 1200 میگاواٹ کے پون منصوبے فعال ہوجائیں گے اور 200 میگاواٹ بجلی کے پروجیکٹ بھی زیر تکمیل ہیں۔

فواد جاوید نے بتایا کہ تبادلے کے دوران پتہ چلا کہ زیادہ تر مکمل ہونے والے پروجیکٹس نے تمام تر ٹیکنیکل مالیاتی مقاصد پورے کرلیے ہیں اور اپنے مالیاتی مقاصد کے پورا کرنے کے قریب آگئے ہیں مگر ایم او یو کی وجہ سے حائل رکاوٹوں سے negationکی پالیسی میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔

کمیٹی نے قابل تجدید توانائی سیکٹر کے تمام تر فوائد جو پاکستان کے دیگر انرجی وسائل سے حاصل ہوں گے۔ ان سے متعلق تبادلہ خیال کیا مگر انہوں نے کہاکہ قابل تجدید توانائی پروجیکٹ پر کسی قسم کی فیول کاسٹ نہی آتی اور اس کے ذریعے زرمبادلہ کی بچت بھی ہو سکتی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے ممبرز کی ترجیح ہو سکتی ہے۔ ونڈ اور سولر دونوں فضائی ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور یہی وقت کی ضرورت بھی ہے کہ اس چیز سے انرجی حاصل کی جائے تا کہ پاکستان میں موجودہ توانائی بحران کو کم کیا جا سکے۔

ونڈ اور سولرٹیکنالوجی سے دن بدن قیمت میں کمی آرہی ہے اور ان دونوں چیزوں ونڈ سولرسے دنیا بھی میں انرجی کی قیمت کم سے کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ ابھی تک پاکستان امپورٹڈ کوئلے اور ایل این جی پر زیادہ تر انحصار کر رہا ہے جس کی وجہ سے عام صارف کیلیے بجلی الیکٹرک کی قیمت ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔

کمیٹی کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ جب تک قدرتی انرجی کو استعمال میں نہیں لایا جائے پاکستان مسلسل بجلی کی زائد قیمتوں پر انحصار کرتا رہے گا اور آگے جا کر برآمدات کاحجم نیچے ہو جائے اور انڈسٹری میں مسابقت نہیں ہو سکے گی۔

کمیٹی نے اس نظریے کو سختی سے رد کیا کہ ایل این جی ہی سے ہماری بچت ہے یہ بھی تبادلہ خیال کیا کہ ایل این جی پلانٹ میں ٹیرف کا تعین کرتے وقت کم دکھائے جاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلے ہی اس طریقے کے فیول سے 50 فیصد زیادہ بڑھ چکے ہیں اور دیگر یہ کہ پا کستانی روپے کی تیزی سے گرتی ہوئی قیمت ویسے ہی ایل این جی کی قیمت بڑھا رہی ہے۔ ایل این جی کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے جبکہ ونڈ ٹیرف کی قیمت اپنی جگہ پر قائم ہے۔

اب دیکھنا چاہیے اور بجائے ایل این جی پلا نٹس لگانے کے ونڈ پاور کو دیکھا جائے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ ایل این جی پلانٹس کے بجائے ونڈ پلانٹ ہی سستا فیول رہے گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.