سستے گھروں کی تعمیر، اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنانے کا مطالبہ

14

کراچی: پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم کے صدر شعبان الہی نے  بات چیت کے دوران کہا کہ وفاقی حکومت 50 لاکھ مجوزہ سستے گھروں کی اسکیم کے لیے کسی غیرملکی فرد یا ادارے کوذمے داری سونپنے کے بجائے اسکیم کو شفاف اور کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی قائم کرے جس میں مقامی بلڈرز، ڈیولپر ،آرکیٹکٹ اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے نمائندے شامل ہوں۔

شعبان الٰہی نے کہا کہ اسکیم کے تحت ملک بھر میں دستیاب اراضیوں کی نشاندہی اور معیاری تعمیرات کی لاگت کا درست تخمینہ لگانے کے لیے حکومت کوتمام اسٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ لینا ہوگا۔ شہر کے مضافات میں مجوزہ سستے گھروں کی اسکیم کی صورت میں وہاں کے الاٹیز کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر ڈیولپ کرنا ہوگا تاکہ مضافات میں بننے والے سستے گھروں کی اسکیم کو تیزرفتاری سے بسایا جاسکے۔

شعبان الہی نے بتایا کہ پاکستان کا تعمیراتی شعبہ کم لاگت میں معیاری کنسٹرکشن کے حامل مکانات کی تعمیرات کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے،حکومت کو اس مجوزہ منصوبے میں کسی غیرملکی فرد یا ادارے کی خدمات حاصل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی وصوبائی حکومتیں ایک پیج پر آکر اگر مقامی بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کو ان کی جان مال اراضیوں اور منصوبوں کو مکمل تحفظ کی فراہمی کے ساتھ متعلقہ لاتعدادایجنسیوں سے متعلق ون ونڈو آپریشن کی سہولت فراہم کرے تو یہ شعبہ ازخود سستے لاگتی رہائشی یونٹس متعارف کراسکیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف تعمیراتی لاگت میں کمی ممکن ہے بلکہ لوگ بھی سستے گھر خریدنے کے متحمل ہوسکیں گے۔

شعبان الٰہی نے بتایا کہ پاکستان میں اب بھی خطے کی نسبت پراپرٹی کی ویلیو کم ہے، اگر حکومت برآمدی شعبے کی طرز پر گھروں کی خریداری کے لیے آسان شرائط پربینکنگ سیکٹر سے4 فیصد شرح سود پر قرضوں کی اجرا  کی اسکیم متعارف کرائے تو عام آدمی کے کیے گھروں کی خریداری دسترس میں آجائے گی۔ نتیجتا ملک میں کچی آبادیوں میں اضافہ رک جائے گا اور پاکستان میں1 کروڑ20 لاکھ گھروں کمی کاسلسلہ بھی رک جائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ برطانیہ، امریکا سمیت دیگر متعدد ممالک  4فیصد شرح سود پر مجموعی تعمیرات اخراجات کا90 فیصد قرضوں کی سہولت فراہم کرکے وہاں کے عوام کو کامیابی سے اپنی چھت فراہم کررہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.