کیا دہشتگردی کے خاتمے کا کوئی شارٹ کٹ ہے؟

122

شتگرد چھوٹے گروہوں کی صورت میں کام کرتے ہیں، اور کبھی کبھی انفرادی طور پر بھی، اور آرام سے عوام میں گھل مل سکتے ہیں۔ چوں کہ انہیں زمان و مکان کی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، اس لیے وہ آسان اہداف کی ایک وسیع رینج سے اپنے اہداف کا انتخاب کر سکتے ہیں۔وہ اپنے جیسے دوسروں کے ساتھ نیٹ ورک بنا سکتے ہیں، اور اکثر اوقات ان کی امداد وہ ملکی و غیر ملکی قوتیں کرتی ہیں جو ریاست اور اس کے نظام کو اپنا دشمن تصور کرتی ہیں۔ان تمام اثاثوں، اور جدید ٹیکنالوجی اور مواصلات کے ذرائع آج کے دہشتگردوں کو کافی لچکدار بناتے ہیں اور قانون کی گرفت سے بچ نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی اور انٹیلیجنس بیورو جیسے خفیہ ادارے ایک مناسب حد تک درست بڑا پس منظر سمجھنے میں کامیاب ہو جائیں، مگر دہشتگردوں پر لمحہ بہ لمحہ نظر رکھنا بہت مشکل ہے۔ (پولیس کی اسپیشل برانچ کی ملک بھر میں موجودگی مدد کر سکتی ہے مگر اسے ایک عرصے سے نظرانداز کیا گیا ہے۔)ان اکا دکا واقعات میں جہاں ہمیں ‘قابلِ عمل معلومات’ ملتی بھی ہیں، وہاں پر ذمہ داران کو پکڑنے کے لیے صرف خفیہ طریقے ہی سب سے زیادہ کام آ سکتے ہیں۔ مگر اس طرح کے آپریشنز میں عرق ریز منصوبہ بندی، نہایت غور و خوض کے بعد عملی اقدام، اور ڈھیر سارا صبر درکار ہوتا ہے۔اور اگر یہ آپریشنز کامیاب ہو بھی جائیں، تب بھی یہ کچھ افراد کو تو ختم کر سکتے ہیں، مگر انہیں دہشتگردی پر اکسانے والے عوامل کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سیاسی اور انتظامی اقدامات کے علاوہ شہریوں کی باقاعدہ سرگرمی بھی درکار ہے۔ اگر ہمیں یہ پتہ بھی ہو کہ یہ کام کیسے کیا جائے گا، تب بھی یہ نہایت طویل مرحلہ ہوگا۔مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی دہشتگردی کا ایک بڑا واقعہ یا سلسلے وار واقعات ہوتے ہیں، جیسے کہ یہاں اکثر ہوتے ہی رہتے ہیں، تو عوام کو فوراً ‘ایکشن’ چاہیے ہوتا ہے۔پھر اس وقت ریاست کو یا تو کچھ کرنا پڑتا ہے، یا کم از کم یہ دکھانا ضرور پڑتا ہے کہ وہ کچھ کر رہی ہے۔ایسے واقعات کے رونما ہونے پر انسدادِ دہشتگردی کے اصولوں کو (ہر ملک میں) شارٹ سرکٹ کر دیا جاتا ہے۔ ہماری اپنی مثال لیتے ہیں۔شمالی وزیرستان کو خالی کروانا اس لیے ضروری تھا کہ دہشتگرد عوام میں گہرائی تک گھل مل چکے تھے (افسوس کی بات ہے کہ کراچی اور لاہور کو ایسے ہی خالی نہیں کروایا جا سکتا۔)یہ یقینی بنانے کا کوئی راستہ نہیں تھا کہ دہشتگرد نکلنے میں کامیاب نہ ہوں اور ایک اور جنگ لڑنے کے لیے باقی نہ رہیں۔ پھر جب وہ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، تو کچھ نہ کچھ کرنا ضروری تھا۔چنانچہ ہم نے افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاو¿ن شروع کیا۔ ہم نے چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو سنبھالا تھا۔ انسانی ہمدردی کے علاوہ یہ پڑوسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی ایک کوشش بھی تھی۔مگر جب ہمارے پاس آسان آپشنز ختم ہونے لگے تو ہمیں ان کو ملک بدر کر دینا ہی واحد حل لگا۔ اور بھلے ہی ان کے درمیان موجود دہشتگرد (اگر تھے تو) اس دوران ادھر ادھر منتقل ہوگئے ہوں، پھر بھی مقتدر قوتیں اسے ‘سخت ایکشن’ ضرور قرار دے سکتی تھیں۔ہم امریکا، اسرائیل اور انڈیا کو عسکریت پسند پیدا کرنے والی آبادیوں کے خلاف طاقت کے بہیمانہ استعمال پر تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں، مگر اپنے قبائلی علاقوں پر بمباری کرتے وقت ‘کولیٹرل ڈیمیج’ کا نام لینا بھی شجرِ ممنوعہ تھا۔ کیا اس سے فرق پڑتا ہے کہ مندرجہ بالا ولنز کے برعکس ہم اپنے ہی لوگوں پر بمباری کر رہے تھے، اور کیا کسی کو معلوم ہے کہ ان میں سے کتنوں نے اپنے خاندان کے افراد اور اپنے دوستوں کو اور اپنی تمام تر جائیداد کو گنوایا ہے؟صرف اس لیے کہ ہمارے پاس انسدادِ دراندازی کے پہلو اصول پر عمل کرنے کے لیے نہ وقت تھا نہ صبر، اور وہ اصول یہ ہے کہ طاقت صرف غیر عسکری طریقوں کا استعمال ممکن بنانے کے لیے استعمال کی جائے۔یہ ماننا ہوگا کہ ‘پختونوں کے خلاف نسلی تعصب’ پر مچنے والا شور کافی بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا تھا، مگر کسی خام شکل میں کسی مقامی سطح پر ایسا ضرور ہوا تھا، شاید کسی کی ‘ایکشن’ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے۔اگر اس سے کچھ دہشتگرد پکڑے گئے تو مجھے معلوم نہیں، مگر اس نے تمام غلط حلقوں کو درست ایندھن فراہم کیا۔مجھے یہ نہیں معلوم کہ کتنے ممکنہ خودکش بمبار ہمارے ملک میں ہر جگہ نظر آتنے والے ناکوں پر پکڑے گئے، مگر مجھے خوشی ہے کہ ان میں سے کسی نے بھی اپنے آپ کو اس وقت نہیں اڑایا جب سینکڑوں گاڑیاں ان بیریئرز میں سے گزر رہی ہوتی ہیں۔کم از کم آپ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر ‘کچھ نہ کرنے’ کا الزام نہیں عائد کر سکتے۔افغان مہاجرین کے ہمارا پسندیدہ نشانہ بننے سے قبل یہ مدارس تھے جو ‘دہشتگردوں کی نرسریاں’ کہلوا کر ہمارے نشانے پر آتے تھے۔سیاسی سائنسدان رابرٹ پیپ جیسے محققین کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق دہشتگرد حملوں میں ملوث افراد کا پانچویں سے بھی کم حصہ مدارس گیا تھا، جبکہ دو تہائی سے زیادہ نے کالجوں یا اس سے زیادہ تک کی تعلیم حاصل کی تھی۔مگر کیوں کہ ہم یونیورسٹیاں بند نہیں کر سکتے، اس لیے ‘عسکریت پسند ذہنیت’ کا ذمہ دار مدارس کو ہی ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ دہشتگردی کے عفریت سے نمٹنے کے لیے کوئی بھی حل اتنا ناپائیدار نہیں ہوسکتا جتنا کہ ہمارا تازہ ترین نعرہ — ‘دہشتگرد کی برین واشنگ کی گئی ہے، انہیں متبادل بیانیہ پڑھانا ہوگا۔’کوئی بھی شخص جو یہ سمجھتا ہے کہ خود کو اڑا دینے کی حد تک اپنے مقصد سے سچے لوگوں کو صرف کچھ باتیں پڑھا کر درست کیا جا سکتا ہے، اسے یہ معلوم ہی نہیں کہ انتہاپسندی سے اعتدال پسندی تک لانے کے لیے مستقل مزاج اور غور و خوض سے بھرپور ایکشن کی بہتات درکار ہوتی ہے۔مگر جب نیشنل ایکشن پلان بھی وہاں کوئی تحرک پیدا نہیں کر سکا ہے جہاں کرنا چاہیے تھا، یعنی کہ سول سوسائٹی میں، تو وہاں ہمارے پاس صرف بیانیہ ہی رہ جاتا ہے۔اور اگر وہ بھی کام نہ کرے، تو ہم دہشتگردی کے خلاف کامیابی کے ثبوت کے طور پر کرکٹ میچ تو کبھی بھی کروا سکتے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.