گہری ہوتی پاک چین دوستی

60

پاکستان پرجو پریڈ ہوئی وہ کئی لحاظ سے بہت اہم تھی۔ ایک ایسا ملک جسے طویل عرصے تک عسکریت پسندی کا سامنا رہا اور جسے اس کے دشمن ہمسائے تنہا کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں اور جوپانامہ کیس کے فیصلے کے انتظار کی سولی پر لٹکا ہے اسے یوم پاکستان پر خوش ہونے اور جشن منانے کا ایک اور موقع مل گیا۔ یہ پریڈ کئی لحاظ سے منفرد تھی۔ یہ پریڈ لگاتار تین برس سے منعقد ہو رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کے پاس اب اتنی گنجائش پیدا ہو گئی ہے کہ وہ اس سالانہ تقریب کے لئے جوانوں اور وسائل کو مختص کر سکے حالانکہ اسے دہشتگردی کے خلاف مسلسل جنگ کا سامنا ہے۔ ایس نہیں ہے کہ دہشتگردی ختم ہو گئی ہے کیونکہ حال ہی میں دہشتگرد حملوں میں ایک سو سے زائد لوگوں کی ہلاکت سے بھی ظاہر ہے کہ یہ خطرہ ابھی باقی ہے۔داعش کے جنگجو مسلسل مزاروں پر حملے کر رہے ہیں کیونکہ وہ صوفی ازم اور بریلوی نظریات کے خلاف ہیں۔ ایسے واقعات یاد دلاتے ہیں کہ حکومت کو دہشتگردی کے نظریاتی پہلوو¿ں پر سختی سے توجہ دینا ہو گی۔ تاہم ماضی سے موازنہ کیا جائے تو اس وقت سیکیورٹی صورتحال بہتر ہو چکی ہے۔ جس کی وجہ سے مسلح افواج کی بڑی تعداد سیکیورٹی کے فرائض سے فارغ ہو کردوسرے کام بھی کر سکتی ہیں اور یوم پاکستان کی تقریب بھی کبھی ممکن نا ہوتی اگر انہیں اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا جو سن دوہزار پندرہ سے پہلے جاری تھی۔ چینی، سعودی افواج کی شمولیت اورترکی کے فوجی بینڈ کی شمولیت اس پریڈ کی اضافی خوبیاں تھیں۔ ان کی شمولیت سے نا صرف تقریب کو چار چاند لگے بلکہ اس سے یہ پیغام بھی گیا کہ پاکستان تنہا نہیں ہے اور اس کے خطے میں طاقتور دوست موجود ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی تواعلانیہ پاکستان کو تنہا کرنے میں لگے ہیں۔ اس کی ایک افسوسناک مثال جہاں انہیں کامیابی ملی وہ یہ تھی کہ گزشتہ برس سارک کانفرنس کو ملتوی کر دیا گیا جس کی میزبانی پاکستان کرنے والا تھا۔ مودی نے گزشتہ برس جنرل اسمبلی میں پاکستان پر جو تنقید کی تھی ا س کا مقصد بھی پاکستان کو تنہا کرنا تھا۔ لاہور میں تمام تر مخالفت کے باوجود پی ایس ایل فائنل کا انعقاد اس بات کا ایک اور ثبوت تھا کہ پاکستان صورتحال کو معمول پر لانے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ عمران خان کو میچ کی مخالفت سے یقیناً انہیں سیاسی طور پر نقصان پہنچا ہو گا کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کے لوگ بھی عالمی کرکٹ کی واپسی کے حق میں تھے۔ اگرچہ عمران خان یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان میں پ±رامن ماحول قائم ہونے میں چند سال لگیں گے۔اس پریڈ میں صرف اعلیٰ فوجی مارچ ہی نہیں بلکہ تماشائیوں کو بہت سے جدید ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کو بھی دیکھنے کا موقع ملا جس کا زیادہ تر حصہ چین سے حاصل کیا گیا تھا۔ امریکااور مغربی ذرائع سے ہتھیارں کی خرید اب انتہائی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ ہتھیار فروخت کرنے والے بڑے ممالک ہتھیاروں کی فروخت کے ساتھ سخت شرائط بھی لاگو کر دیتے ہیں جیسا کہ ہم نے حال ہی میں ایف سولہ طیاروں کی خرید کے معاملے میں دیکھا ہے۔ مغربی ممالک کے ہتھیاروں کی زیادہ قیمتیں بھی ان ہتھیاروں کونا خریدنے کی وجہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے زیادہ تر بنیادی ہتھیار خریدنے کے لئے چین پر انحصار کرنے لگا ہے خواہ ان ہتھیاروں کی کوالٹی بہت اچھی نا بھی ہو۔ اس طریقہ کار کی بہت سی ٹھوس وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجہ تویہ ہے کہ چین سے پاکستان کو جو ہتھیار ملتے ہیں وہ اس گارنٹی کے ساتھ ملتے ہیں کہ ان کی سپلائی میں تعطل پیدا نہیں ہوگا جبکہ اس کے برعکس انیس سو پینسٹھ اور اکہتر کی جنگوں میں مغربی ملکوں کی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کواس وقت ہتھیاروں کی سپلائی بند ہو گئی تھی جب اسے ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ چین اب جدید ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر رہا ہے اور وہ مغربی ہتھیاروں کے ڈیزائن مقامی سطچ پر تیار کر رہا ہے اور اس کے ساتھ نئے اور بہتر ہتھیار بھی بنا رہا ہے۔ ایک دہائی کے اندر یہ دفاعی تحقیق میں بہت آگے نکل جائے گا۔ بیجنگ جنگی ٹیکنالوجی مین اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہے لیکن وہ اس پر قابو پانے کیلئے بھی تیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے انجینئنرگ، سائنسی تعلیم اور تحقیق پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رکھی ہے مالی سال دوہزار پندرہ،سولہ میں پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تجارت بڑھ کر دس ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی لیکن اس میں چین کا زیادہ حصہ تھا۔ امید ہے کہ سی پیک کے فعال ہونے کے بعدپاکستان کو بھی موقع ملے گا کہ وہ اپنی برا?مدات بڑھاکر اس عدم توازن کو ختم کر دے۔ تجارت کی وجہ سے چین اور دوسرے ملکوں سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ہم پہلے ہی چینی سرمایہ کاری کے فوائد سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ ڑونگ میں اکیتس ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں جبکہ چینیوں کی تعداد اکیس ہےجو زیادہ تر انتظامیہ یا تکنیکی شعبوں میں ہیں۔ سی پیک کے منصوبوں پرشرح سود بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے بہت سے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ واضح طور پر یہ خدشات بے جا ہیں۔ حکومت کیلئے یہ بہتر ہو گا کہ وہ سی پیک کے منصوبوں کی تفصیلی معلومات کو ویب سائٹ پر جاری کرے۔ پاکستان اور چین کے قانونی نظام مختلف ہیں لیکن یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس منصوبے کی تیاری میں ان باتوں کا خیال رکھا گیا ہو گا۔معیشت میں بہتری اورعوام کو غربت سے نکالنے کیلئے توانائی منصوبوں، سڑکوں اور انفراسٹرکچر پر توجہ دینا درست ہے۔ تاہم اس بات کو بھی سمجھنا ضروری ہے کہ چین نے جو ترقی کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ چین نے سائنسی اور فنی تعلیم میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ اگر ہم بھی سی پیک سے ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے سیاسی لیڈروں کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو نظراندازنا کریں۔ اگر ہم نے ترقی کرنی ہے تو پھرہماری سیاسی جماعتوں کو اپنا موجودہ غیرذمہ دارانہ رویہ چھوڑ کرقوم کی تعمیر پر توجہ دینا ہو گی۔ سی پیک اور پاکستانی عوام کی مجموعی خوشحالی محنت سے حاصل ہو گی۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ چینی حکومت سمجھتی ہے کہ یہاں ہمارے مفادات ایک ہو گئے ہیں اس لئے وہ اس میں ہماری مدد کر رہی ہے۔ جب یورپ دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہ ہو گیا تھا تو امریکیوں نے مارشل پلان کے ذریعے اسے بحال کیا۔ اس سے امریکا کوبھی اتنا ہی فائدہ ہواجتنا یورپ کو کیونکہ جب یورپ کی معیشت بحال ہو گئی تو امریکا اور یورپ دونوں بڑے تجارتی پارٹنر اور سوویت توسیع پسندی کے خلاف بڑے اتحادی بن گئے۔ اس سے گلوبلائزیشن کو بھی بہت ترقی ملی۔ اسی طرح چین کا ”ون بیلٹ ون روڈ“ کا اقدام بھی دونوں ملکوں کے کروڑوں لوگوں کی زندگی بدل سکتا ہے۔اس سب کا نچوڑ یہ ہے کہ سی پیک گلوبلائزیشن کا نیا ماڈل ہے جس کا فائدہ پاکستان کو بھی ہو گاکیونکہ اسے وسطی ایشیا تک رسائی مل جائے گی اور چین اپنے مغربی خطے کو بحرہند سے جوڑ سکے گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.