ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی کا اتحاد،’اسٹیبلشمنٹ کے غلبے میں چلنے والی جمہوریت کا ماڈل‘

21

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ کی دیگر جماعتوں کو بھت اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دیمتحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماو¿ں نے ‘چھ ماہ کی مشاورت اور گذشتہ رات کے اجلاس کے بعد صوبہ سندھ میں ووٹ بینک کو تقسیم ہونے سے بچانے ، عدم تشدد اور عدم تصادم کی پالیسی کو ہر حال میں کامیاب بنانے کے لیے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا ہے ۔
یہ اتحاد بھی بظاہر ‘گذشتہ رات کی طویل مشاورت’ کے بعد جلد بازی ہی میں قائم کیا گیا کیونکہ بتایا گیا ہے کہ اس اتحاد کے نام اور منشور کا فیصلہ بعد میں مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ یہ باکل ویسے ہی جیسے مصطفیٰ کمال نے اپنی جماعت بنانے کا اعلان تو کر دیا لیکن اس کا نام اور نشان کے بارے میں اعلان بعد میں کرنے کا کہا۔ایم کیو ایم اور پی ایس پی: ایک نام اور ایک نشان ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سندھ کی دیگر جماعتوں کو بھت اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی۔ تاہم انھوں نے ساتھ ہی یہ شعر پڑھ کر اس پیشکش کے بارے میں کہا کہ یہ محدود مدت کے لیے ہے :مرا یہ دل تمہاری ہی محبت کے لیے ہے مگر یہ پیش کش محدود مدت لیے ہے اس اتحاد کے بارے میں میں تجزیہ کار توصیف احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا جو ماڈل بنا ہے اس کو یہ کہا جا سکتا ہے کہ عسکری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی ہے ۔’ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے سیاسی اتحاد میں عسکری بالادستی ہے اور یہ عسکری اسٹیبلشمنٹ ہی بنیادی فیصلے کر رہی ہے ۔ یہ نیا ماڈل عسکری اسٹیبلشمنٹ کے غلبے میں چلنے والی جمہوریت کا ماڈل ہے ۔’ان کا کہنا تھا کہ ان دونوں جماعتوں کا اتحاد سندھ میں ہونے والے آئندہ انتخابات کے لیے ایک اہم موڑ ہے ۔’ایم کیو ایم الطاف کے ساتھ لوگ تھے اور آئندہ انتخابات میں اس جماعت کا حصہ نہ لینے کے امکانات نہیں تھے ۔ اس لیے جب ایک اتحاد سامنے آئے گا تو ممکن ہے کہ یہ اتحاد ووٹ بینک کو سلامت رکھ سکے گا۔’فاروق ستار کی جانب سے دیگر جماعتوں کو اس اتحاد میں شامل ہونے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہ مہاجر سیاست کا ایک نیا دور ہو۔’امکانات ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ، ایم کیو ایم حقیقی اس اتحاد میں شامل ہوں جائیں اور شاید مہاجر سیاست کا ایک نیا دور آئے ۔’ایم کیو ایم پاکستان کا لندن سے اظہار لاتعلقی اور پاک سرزمین پارٹی کا قیام دونوں ہی ڈراما ہیںلا: خالق جونیجوتاہم ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف اس ضمانت کے ساتھ واپس آئیں گے کہ ان کے خلاف مقدمات ختم کیے جائیں۔ انھوں نے جو غلطی پہلی کی تھی وہ اب نہیں کریں گے ۔توصیف احمد نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ اگر سندھ قوم پرست جماعتیں اس اتحاد میں شامل ہوتی ہیں تو یہ اتحاد ایک خوش آئند بات ہے ۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اس اتحاد کے جواب میں اگر سندھی قوم پرست جماعتیں بھی اپنا اتحاد بنا لیتی ہیں تو پھر معاملہ خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔’اگر سندھی قوم پرست جماعتوں کا ایسا اتحاد بن جاتا ہے تو معاملہ خرابی کی جانب جائے کیونکہ اس سے نئے تضادات ابھریں گے اور ایسا ہونے کے امکانات بھی ہیں کیونکہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اگلے انتخابات کے لیے سندھ کے لیے بھی اور پورے ملک کے لیے بھی نیا نقشہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔’تاہم سندھی قوم پرست جماعت جئے سندھ مہر کے سربراہ خالق جونیجو نے اس اتحاد کو ایک ڈراما قرار دیا ہے ۔’ ایم کیو ایم پاکستان کا لندن سے اظہار لاتعلقی اور پاک سرزمین پارٹی کا قیام دونوں ہی ڈراما ہیں۔ اس وقت جو پریشر تھا اس کو ہٹانے کے لیے یہ دونوں اقدامات لیے گئے ۔’انھوں نے کہا کہ جلد ہی لندن والے بھی اس اتحاد میں شامل ہو جائیں گے اور اس سیاسی اتحاد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔’مہاجر قومی موومنٹ سے جب متحدہ قومی موومنٹ کی گئی تو اس کے کریکٹر میں کوئی فرق نہیں آیا تھا اسی طرح اس نئے اتحاد کے کریکٹر میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔’جب ان سے پوچھا گیا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے دیگر جماعتوں کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے تو ان کا کہنا تھا ‘ہماری جماعت کا موقف واضح ہے کہ جو گروپ یا جو جماعت سندھ کو توڑنے کی بات کرتا ہے اس سے کوئی اتحاد نہیں ہو سکتا۔ جو زبان الطاف بولتا ہے وہی زبان فاروق ستار بولتے ہیں۔’سندھی اتحاد کے حوالے سے وہ بولے کہ جب ایم کیو ایم نے مہاجر نسل پرستی پر سیاست کی تو کچھ لوگوں نے سندھی نسل پرستی پر اس کا جواب دیا۔ لیکن ہماری جماعت نسل پرستی کی سیاست کے حق میں نہیں ہے اور سندھی اتحاد کے حق میں نہیں ہے ۔ ہاں اگر سیاسی بنیادوں پر اتحاد کی بات ہوتی ہے تو اس پر ہم سوچیں گے ۔”میں تو کہتا ہوں کہ جب سے ایم کیو ایم بنی ہے جتنے نعرے تبدیل کرے ، نام تبدیل کرے ، شکلیں بدل لے یا ٹوپیاں بدل لے ہم ان کا اصل مقصد سمجھ گئے ہیں۔ ‘

 

 

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.