سوویت انقلاب کے اثرات

21

سوویت انقلاب کی100ویں سالگرہ منگل کو دھوم دھام سے منائی گئی (گریگورین کیلنڈر کے مطابق)۔ کراچی اور لاہور میں اس حوالے سے منعقد ہونے والے بہت سے اجلاسوں نے کئی دلوں میں طوفان برپا کیا خاص طور پر پرانے لوگوں کے دلوں میں۔ ان تقریبات میں مقبول دانشوروں نے اپنی بہترین تقاریر کیں۔ اس حوالے سے طبقاتی جدوجہد گروپ نے ایک بہت شاندار کام یہ کیا کہ لیون ٹروٹسکی کی منفرد کتاب ”انقلاب روس کی تاریخ“ کا بارہ سو صفحات پرمشتمل ترجمہ شائع کیا۔ مترجم کا کام یقیناً شاندار ہے حلانکہ کئی جگہوں پر فنی اصلاحات ناگزیر ہیں لیکن پھر بھی اسے ترجمے کو پڑھنا بہت آسان ہے۔ اس میں ترتیب سے بتایا گیا ہے کہ انقلاب اکتوبر کا سوویت یونین کے لوگوں کیلئے کیا مطلب تھا اور باقی دنیا پر اس کے کیا اثرات ہونے والے تھے۔ سوویت یونین اور وسطی ایشیائی جمہوریاو¿ں کے عوام کی زار یا جاگیرداروں کے مزاعوں سے تبدیل ہو کر پہلی دنیا کے شہری بننے میں کامیابی دراصل انسانی تاریخ کا ایک زریں باب ہے۔ سوویت یونین کے فوجیوں نے بھی بے پناہ قربانیاں دیں اور فاشزم کے خلاف جنگ جیت لی اور اس کے ساتھ سوویت یونین نے علم اور سائنسی تحقیق کو بھی پھیلایا اور نوآبادیاتی دور کے خاتمے کے عمل کو بھی تیز کردیا۔ انیس سو پینتالیس سے انیس سو انہتر کے دوران سو کے لگ بھگ نوآبادیات آزاد ہوئیں جن کی آزادی کا زیادہ تر دارومدار سوویت یونین پر تھا۔سوویت یونین ہی کی وجہ سے لوگوں کو شہری اور سیاسی حقوق کے ساتھ معاشی، سماجی اور ثقافتی
حقوق بھی ملے اور اس سے انسانی حقوق ناقابل تقسیم ہو گئے۔ سوویت یونین کی کامایبیوں کو یاد کرتے ہوئے انسان کی توجہ خودبخود اس بات پر چلی جاتی ہے کہ اگر اکتوبر کا انقلاب مختلف سمت میں گامزن ہو جاتا تو کیا مزید کامیابیاں بھی حاصل ہو سکتی تھیں۔ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سٹالن کے دور میں جو زیادتیاں ہوئیں کیا وہ انقلاب کو بچانے کا واحد راستہ تھا۔ کیا سوشل دنیا کو بچانے کیلئے سرمایہ داروں کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ضروری تھی؟ کیا سوشلسٹ بھی اب لینن کے معاشی ایجنڈے پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ سوویت یونین صرف اس لئے تباہ ہو گیا کیونکہ پرچون فروشوں کو بروقت روٹی مہیا نہیں کی جا سکی، بیوروکریسی نااہل اور کرپٹ ہو چکی تھی اور یہ کہ روسی سفید فام قوم پرستی دوبارہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی؟ یا پھر یہ اس وجہ سے تباہ ہوا کیونکہ سوویت کمیونسٹ پارٹی کے پاس ایسے ماہرین کی کمی ہو گئی تھی جو معاشرے کے اطمینان اور ترقی کیلئے کوئی قدم اٹھا سکتے؟تاہم یہ ساری بحث سماجی مفکرین کیلئے چھوڑ دیتا ہوں۔ جو بات عام پاکستانی شہریوں کیلئے ا ہم ہے وہ یہ ہے کہ انقلاب روس کے پاکستانی تاریخ پر کیا اثرات ہوئے اور ان کا آج کی دنیا سے کیا تعلق ہے۔
انقلاب روس کی وجہ سے دنیا بھر میں نوآبادیات کے اندر آزادی کی جدوجہد بیدار ہو گئی خاص طور پر ہندوستان میں۔ بہت سے انقلابی ماسکو جا کر کے لینن سے رہنمائی اور مدد کے طالب ہوئے۔ ہندوستان کی عبوری حکومت کے خاتمے کے بعد (کابل میں مہیندرا پرتاپ اور عبیداللہ سندھی نے یہ جلاوطن حکومت قائم کی تھی)، انیس سو بیس میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا وجود میں آ گئی۔ جن ہندوستانی نوجوانوں نے سب سے پہلے ماسکو کی کمیونسٹ یونیورسٹی میں داخل لیا تھا ان میں لاہور کے دس نوجوان بھی شامل تھے (بشمول فیروزالدین منصور اور فضل الہٰی قربان) اور نو کا تعلق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے تھا ( ان میں ایم شفیق اکوڑہ خٹک، گوہر رحمان ہری پور اور کوہاٹ کے عبدالکریم شامل تھے)۔ اور پھر منفرد شخصیت کے مالک دادا عامر حیدر نوآبادیاتی اقوال کی عالمی کانفرنس کی مجلس قانون ساز کے رکن تھے۔ نوآبادیاتی قوت نے ان نوجوانوں کا بے رحمی سے تعاقب کیا اور وہ لوگ اپنوں سے وہ حمایت حاصل نہیں کر سکے جس کے وہ مستحق تھے لیکن انہوں نے برصغیر کی آزادی کیلئے ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں۔ انقلاب روس سے متاثر ہونے والوں کی دوسری نسل نے جدوجہد آزادی کے آخری مراحل میں نا صرف یہ کہ بھرپور محنت کی بلکہ بعد میں پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کو بھی مفاد عامہ کو ترجیح دینے پر مجبور کیا۔ پاکستان میں کمیونسٹ پارٹی ریاست کے جارحانہ رویے کے باوجود قومی سیاست کا ایک اہم جزو بن گئی۔ لیکن آخرکار اسے مسلسل دباو¿ کے سامنے جھکنا پڑا۔ اس دوران حسن ناصر اور ناصر عباسی کی زیرحراست اموات ان مظالم کا سب سے خوفناک اظہار تھیں۔ اس نے سوویت پارٹی پر زیادہ انحصار کر کے بھی خود کو ہلاکت میں ڈال لیااور چین اور روس میں پھوٹ پڑنے کے بعد یہ چینی پارٹی سے بھی دور ہو گئی۔ بائیں بازوکے لوگوں نے کئی طبقات پر مشتمل جماعتیں قائم کیں لیکن یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر نہیں چلا کیونکہ اس کی حکمت عملی خامیوں سے بھرپور تھی۔
آج پاکستان میں بائیں بازو کے لوگ انتشار کاشکار ہیں۔ پاکستان میں کمیونزم کے زوال کی بڑی وجوہات میں سب سے پہلی وجہ تو یہ ہے کہ مارکسٹ طریقہ کار کے مطابق قومی سطح پر نظریات کو پروان چڑھانے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ مارکسٹ حکمت عملی پر تاریخ سے سیکھے گئے اسباق کو نظرانداز کرنے
کے رجحان بھی رہا ہے اور یہ سمجھا گیا کہ اگر یہ نظریہ دنیا کے ایک حصے میں کامیاب ہو چکا ہے تو دوسرے حصے پر بھی اسے لاگو کیا جا سکتا ہے حالانکہ وہاں کے زمینی حقائق الگ تھے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ بائیں بازو کے لوگ یہ بھول گئے کہ قومی سیاست میں ترقی پذیر عنصر کا اندازہ لوگوں کی سمجھ بوجھ سے لگایا جاتا ہے۔ ساری دنیا میں بائیں بازو کے لوگوں نے معاشروں کے اندر زبردستی وہ بنیادی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی جس کیلئے وہ تیار نہیں تھے۔ پاکستان میں مختلف کمیونسٹ جاعتوں کے بھلے ہی کچھ ایسے علاقے ہوں جہاں ان کی نظریاتی حمایت بہت زیادہ ہے لیکن بکھرے ہوئے بائیں بازو کے لوگوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت عوامی سطح پر کون سی سیاست ممکن ہے اور انہیں اس میں حصہ لینا چاہیے۔ پاکستانی معاشرہ کئی دہائیوں سے بہت پیچھے چل رہا ہے۔ وہ کبھی بھی سماجی انقلاب کیلئے تیار نہیں تھا۔ انیس سو اکہتر سے پہلے کا پاکستان بورڑوا جمہوریت کی دھندلی تصویر قبول کر سکتا تھا اور سماجی جمہوریت کی طرف بڑھنے پر سنجیدگی سے غور ہو سکتا تھا۔ریاستی ٹوٹ پھوٹ نے لوگوں جمہوری نظریات سے دور کیا اور ساری توجہ عسکریت پسندی اور مذہبی قانون سازی پر مرکوز ہو گئی۔ آج بورڑوا اندرونی معاشی جنگ کی وجہ سے کمزور ہو رہے ہیں اور انتہائی دائیں بازو کے لوگ جو مذہب سے متاثر اور اسلحے سے لیس ہیں وہ قتل عام کیلئے متحرک ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال میں بائیں بازو کی مداخلت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے تاکہ مرکز کو گرنے سے بچایا جائے اور ریاست کو اپنی جمہوری شناخت مکمل طور پر کھونے سے روکا جا سکے۔کیا بائیں بازو کے عام کارکن اس کیلئے تیار ہیں؟ وہ شاید انہی نظریات کی بنیاد پر سیاست میں کسی حد تک اپنا مثبت کردار اب بھی ادا کرسکتے ہیں جو انہوں نے انیس سو پچاس کی دہائی میں پروان چڑھائے تھے۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.