سینیٹ کا الیکٹورل کالج خطرات میں ہے

20

پی ٹی آئی شدو مد سے گزشتہ چند ماہ سے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے۔قبل از وقت سے اسکی مراد مارچ2017 سے پہلے انتخابات کا انعقاد ہے تاکہ موجودہ اسمبلیاں سینیٹ کے انتخاب کا آئینی حق و فرض ادا نہ کر پائیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ پی ٹی آئی کے جناب شاہ محمود قریشی نے سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے بلائے گئے اجلاس میں شرکت کی جس میں انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کیلئے مطلوب اقدامات پر اتفاق رائے ہوا۔تاہم پی ٹی آئی میں موجود مشرف کے رفیق خاص جناب فواد چوہدری نے گزشتہ روز یہ درفطنی چھوڑی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے کے بعد فوری طور پر قبل از وقت انتخابات کرائے جاسکتے ہیں۔اس حد تک تو بات درست ہے اور سیاسی فہم کی عکاسی کرتی ہے مگر ساتھ ہی
انہوں نے پیشکش کی ہے کہ ایسا کرنے کیلئے صوبہ کے پی کے کی اسمبلی فوراً تحلیل کی جاسکتی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ درپیش صورتحال میں جہاں واقعات مبہم انداز میں آگے بڑھتے ہوئے سینیٹ کے انتخاب کی روک تھام والی منصوبہ بندی سے آگے نکل گئے ہیں۔چوہدری فواد کا بیان ان میں ایک بنے ڈرامائی موڑ کی نشاندہی کرگیا ہے۔
غالب گمان ہے کہ اگر2018کے انتخابات شفاف اور غیر جانبدار انداز میں ہوں تو مشکلات کے باوجود مسلم لیگ کی جیت کا واضح امکان موجود ہے۔اس دھندلی صورتحال میں سینیٹ کے بروقت آئینی انتخابات کرانے کا خطرہ مول لینا شاید آسان آپشن نہ ہو۔ایک ممکنہ صورت تو یہ ہوسکتی ہے کہ اگلے انتخابات کے بروقت انعقاد کو معدوم کردیا جائے یا بروقت انعقاد کے آئینی جبر کے سپرد ڈالتے ہوئے مسلم لیگ کے مقابل پنجاب میں نواز شریف مخالف انتخابی اتحاد قائم کیا جائے۔اس کی ایک کوشش ملی مسلم لیگ اور لبیک پارٹی کی تشکیل کی صورت سامنے آچکی ہے۔دونوں جماعتیں خود انتخاب جیتنے کی بجائے اسٹبلیشمنٹ مخالف امیدواروں کی ناکامی میں کردار ادا کرسکتی ہیں۔خیال ہے کہ فیصلہ سازوں نے عام انتخابات میں من پسند نتائج ملنے کی امید ترک کردی ہے۔چنانچہ اقتدار و اختیار کی رائج تفریق کو مستقل برقرار رکھنے کیلئے اب ایک بار پھر سینیٹ کے انتخابات سبوتاڑ کرنے کے آپشن پر غور کیا گیا ہے اور فوادچوہدری نے اس راز کو بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے۔
سینیٹ انتخابات کے التوا کا ایک امکانی راستہ جسے شاید پی ٹی آئی ایمپائر کے اشارے پر اختیار بھی کرلے ،یہ ہوسکتا کہ مارچ کے پہلے ہفتے میں کے پی کے اسمبلی تحلیل کرکے سینیٹ کا الیکٹرول کالج سبوتاژکردیا جائے تاکہ الیکٹورل کالج میں رخنہ پڑ جائے اور سیاسی بحران کی شدت میں اضافہ ہو۔تاہم اس اقدام سے سینیٹ انتخاب کا التوا قانوناً ممکن نہیں۔ہاں پی ٹی آئی اور کے پی کے کی اسمبلی کے موجود ارکان سینیٹرز منتخب کرنے سے محروم ہو جائیں گے۔یہ کام فوری طور پر
کرنے سے گریز کیا جائے گا کیونکہ اس صورتحال میں وفاقی حکومت صوبے میں انتخابی عمل کا آغاز کرکے پی ٹی آئی کو چاروں شانے چت کرسکتی ہے۔پی ٹی آئی قیادت اس خدشے کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا وار عین اس وقت کرسکتی ہے جب سینیٹ کے انتخابات کا اعلان ہو جائے اور عام انتخابات کے انعقاد میں چند ماہ باقی ہوں تاکہ دلیل دی جاسکے کہ سینیٹ کے الیکٹورل کالج کی تکمیل کے انفرادی عمل کو ملک بھر میں عام انتخابات کے ساتھ منسلک کرلیا جائے اس طرح سینیٹ کے انتخابات کا مرحلہ ملتوی ہو جائے تاہم دیکھنے اور سوچنے کا سوال یہ ہے کہ ایسا کرنے سے پی ٹی آئی کے ہاتھ کیا آئے گا؟کیا وہ اگلے انتخابات میں اپنی مکمل فتح کا خواب دیکھ رہی ہے؟ایسا ہے تو وہ خوش فہمیوں کے سفینے پر محو سفر ہے تاہم اگر اس کے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں تو پانے کیلئے بھی کچھ زیادہ نہیں۔البتہ وہ اپنے اعمال سے پاکستان میں وفاقیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے کہ صوبوں کی اسمبلیوں کو ان کے آئینی کردار و استحقاق سے محروم کرنے کا اس کے علاوہ کوئی مطلب و نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.