جیمز میٹس کی اعلی حکام سے ملاقاتیںپاکستان کی تعریف اور ڈو مور بھی

21

امریکی وزیرِ دفاع جیمز میٹس سے ملاقات میں پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے ملک کے اس موقف کو پھر دہرایا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہیں۔امریکی وزیرِ دفاع اسلام آباد پہنچے ، جہاں انہوں نے پاکستان کے وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ خواجہ آصف، وزیر دفاع خرم دستگیر، وزیرِ داخلہ احسن اقبال، وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ، آئی ایس آئی چیف نوید مختار اور امریکی سفیر برائے پاکستان ڈیوڈ ہیل بھی موجود تھے۔اس ملاقات کے اعلامیے کے مطابق جیمز میٹس نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد طویل المدتی تعلقات کو آگے بڑھانا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ وہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بھی سراہا۔ اعلامیے کے مطابق شاہد خاقان عباسی نے اس موقع پر کہا، ”افغانستان میں امن سب سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پاکستان اور امریکا کے افغانستان میں امن کے لیے مشترکہ مفادات ہیں۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کے امریکی عزم کے معترف ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انٹیلیجنس بنیادوں پر آپریشن پاکستان کے مفاد میں ہے۔“پاکستانی ذرائع ابلاغ پر اس ملاقات کی کوریج سے لگتا ہے کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی لیکن سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک میں تلخیاں باقی ہیں اور تعلقات میں گرم جوشی نہیں ہے۔ اس دورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں پر پاکستانی بہت نالاں ہیں۔ پاکستان کی حکومت بھی ان امریکی دھمکیوں پر بہت ناراض ہے اور اس کا ایک مظاہر ہ آج کا استقبال ہے۔ آج امریکی وزیر دفاع کے استقبال کے لئے کوئی بڑا وزیر موجود نہیں تھا بلکہ وزارتِ خارجہ اور دفاع کے حکام نے ان کا استقبال کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کو امریکی دھمکیوں پر سخت تحفظات ہیں۔“ان کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع مزید مطالبات لے کر آئے ہیں،”لیکن میرے پاکستان کی سیاسی قیادت کو امریکا کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے چاہییں، جس میں ، ڈرون حملے بند کرنے کی وارننگ اور افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کو بند کرنے کا مطالبہ شامل ہونا چاہیے تھا۔“امریکا کو افغانستان سے نکلنے کے لیے باعزت راستہ چاہیے،”اور اس کے لئے صرف پاکستان ہی امریکا کی مدد کر سکتا ہے۔ اسی لئے امریکا پاکستان کو بالکل چھوڑنا نہیں چاہتا اور ہم یہ امریکی پالیسی میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ ایک طرف سی آئی اے کا ڈائریکڑ پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے اور دوسری طرف جیمز میٹس مشترکہ گراونڈ تلاش کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔ امریکا افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے، جہاں اب وہ فوجی بھی طالبان کے ساتھ مل رہے ہیں، جن کو امریکا نے تربیت دی تھی۔ تو یہ صورتِ حال واشنگٹن کے لئے بڑی پریشان کن ہے۔ ایسے موقع پر امریکا اگر پاکستان کو مکمل طور پر دیوار سے لگاتا ہے، تو اس کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔“ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان نفسیاتی جنگ چل رہی ہے،”دونوں ممالک ایک دوسرے کو پیغامات بھیج رہے ہیں۔ تاہم امریکا اس سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔ وہ ڈرون حملے بڑھائے گا اور اس کے علاوہ افغانستان میں جنگ کو پرائیویٹ کنڑیکٹر کے بھی حوالے کر سکتا ہے۔ امریکا پہلے طالبان کو شکست دینا چاہتا ہے اور پھر مذاکرات، جب کہ پاکستان اس مسئلے کا ایک سیاسی حل چاہتا ہے۔ اگر امریکا اس سیاسی حل پر راضی ہوجائے تو دونوں ممالک امن کے لئے مشترکہ نکات تلاش کر سکتے ہیں۔“لیکن کچھ ناقدین افغانستان میں امن کی کنجی پاکستان کے ہاتھ میں دیکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں افغانستان میں اس وقت تک امن نہیں ہوسکتا، جب تک ہم اس ملک کو اپنا پانچواں صوبہ سمجھنا بند نہ کریں،”ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ افغانستان ایک خود مختار ملک ہے اور ہمیں اس کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمیں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرنی چاہیں اور افغان طالبان کی حمایت بند کر کے انہیں جمہوری طریقے سے اقتدار میں آنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ اگر ہم چاہیں تو افغانستان میں امن آسانی سے قائم ہو سکتا ہے لیکن اگر ہم نے اپنی روش نہیں بدلی اور بین الاقوامی برادری کا پیمانہ ء صبر لبریز ہوا تو پھر ہمارے ملک کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ ہم پر پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں اور ہمارے مسائل میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔“

دوسری جانب ذرائع کے مطابق، آمی چیف اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقات میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن، یہ کہ ”پاکستان کو اپنے ملک میں موجود دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کی سرکوبی کے لیے اپنی کوششوں کو دگنا کرنا ہوگا‘پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) نے بتایا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں پاکستان نے امریکی وزیر دفاع سے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ سے اعتماد کے علاوہ کچھ نہیں چاہیئے“۔اسلام آباد میں پاک فوج کے ترجمان ادارے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ”اس اہم ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال، بالخصوص افغانستان کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔“آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بین الاقوامی کمیونٹی کے ایک پ±رامن ر±کن کے طور پر، اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس جنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر، انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا اور بھارت کی جانب سے افغان سرزمین اپنے خلاف استعمال کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا؛ جبکہ آرمی چیف نے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی اور سرحد پار دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے حوالے سے اپنا نکتہ نظر امریکی وزیر دفاع کے سامنے رکھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، اس موقع پر، امریکی وزیر دفاع نے افغانستان میں دہشت گرد ایجنڈا کی تکمیل کے لیے پاکستانی سرزمین کے استعمال پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ امریکہ پاکستان کے تحفظات دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور امریکہ پاکستان سے مزید مطالبات نہیں بلکہ مل کر کام کرنے کی کوشش کرے گا۔آرمی چیف نے امریکی وزیر دفاع کا پاکستانی تحفظات کو سمجھنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان کو امریکہ سے اعتماد کے علاوہ کچھ درکار نہیں۔ ا±نھوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی طرف موجود دہشت گردوں کے تمام محفوظ ٹھکانے ختم کردیے ہیں۔ لیکن، کچھ دہشت گرد پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی مہمان نوازی کا غلط استعمال کررہے ہیں،ملاقات میں دونوں رہنماو¿ں نے ”ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا“ جسے مبصرین خوش آئند قرار دیتے ہوئے مستقبل کے لئے بہتر قرار دئے رہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.