یمن میں مکافات عمل

9

علی عبداللہ صالح کئی دہائیوں تک یمن کے حکمران رہے اور اس دوران وہ کئی قاتلانہ حملوں میں بچ نکلے لیکن پیر کے روز سابق صدر کی قسمت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا وہ کسی جھڑپ میں ہلاک ہوئے ہیں یا پھر انہیں ان کے پرانے حوثی اتحادیوں نے حراست میں لے کر موت کے گھاٹ اتارا ہے جبکہ وہ یمنی دارالحکومت سے فرار ہورہے تھے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کی موت کا فوری طورپر اس خانہ جنگی کا شکار ملک پر کیا اثر ہو گا جس پر انہوں نے تیس برس تک حکومت کی تھی۔ اپنے اتحادی بدلنا صالح کی پرانی عادت تھی۔ درحقیقت یہ ان کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ انہوں نے انیس سو نوے کی د ہائی میں صدام حسین سے قریبی تعلقات قائم کئے لیکن سن دوہزار میں امریکی بحری جہاز پر القاعدہ کے حملے کے بعد امداد کی کشش انہیں امریکہ کے قریب لے گئی اور نائن الیون کے بعد تو انہوں نے امریکی ایجنسیوں کو ڈرونز کی مدد سے اپنے دشمنوں کا شکار کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ شاید یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کواسامہ بن لادن کی تنظیم کا
خطرناک حصہ قرار دے دیا گیا۔ صالح نے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ایک نوجوان فوجی کی حیثیت میں جمہوریہ یمن کی فوج میں رہتے ہوئے سعودی حمایت یافتہ افواج کے خلاف لڑائی لڑی تھی لیکن بطور صدر وہ کبھی سعودیوں کی پسندیدہ شخصیت بنتے تھے تو کبھی ناپسندیدہ۔ سعودی عرب نے صالح کی طرف سے صدام کی حمایت کا بدلہ لینے کیلئے آٹھ لاکھ یمنی کارکنوں کو نکال دیا لیکن جب عرب سپرنگ دوہزار گیارہ میں صنعا تک پہنچا تو سعودی عرب کی خواہش تھی کہ صالح اقتدار نہ چھوڑیں۔ آخر صالح کو اس بات پر قائل کر لیا گیا کہ وہ اپنے نائب صدر عبدالرب منصور ہادی کے حق میں دستبردار ہو جائیں جو گزشتہ چند برس سے ریاض میں مقیم تھا ۔صالح نے طویل دور صدارت میں زیادہ تر وقت حوثی باغیوں سے لڑائی میں گزارا چنانچہ جب انہوں نے ہادی کے خلاف حوثی فورسز کی حمایت کا فیصلہ کیا تو اس سے بہت سے لوگ حیران ہوئے۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے ریاض، ابوظہبی کے سفارتکاروں سے بات چیت کے دروازے بھی کھلے رکھے اور یہ کہا جاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے سفیروں نے صالح کو ایک بار پھر اپنا اتحاد بدلنے پر قائل کیا،سعودی میڈیا نے حال ہی میں انہیں ”معزول آمر“ کی جگہ ”سابق صدر“ کہنا شروع کردیا
تھا اور یہ افواہیں ہیں کہ انہیں یا تو دوبارہ صدر بننے کی پیشکش کی گئی تھی یا پھر یہ طے پایا تھا کہ ان کے بیٹے نئے لیڈر بن کرآئیں گے۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جاتا ہے کہ محمد بن سلمان جن کے ہاتھوں میں سارے اختیارات ہیں وہ صالح کے بیٹے احمد علی سے ناراض ہیں کیونکہ دونوں میں دو برس پہلے لڑائی ہوتے ہوتے بچی تھی تو پھر کسے معلوم ہے کہ اصل قصہ کیا ہے؟ جو بات واضح ہے وہ صرف یہ ہے کہ گزشتہ ہفتے اتحاد کی تبدیلی کی وجہ سے صنعا پر کنٹرول کیلئے لڑائی چھڑ گئی جس پر اب تک حوثی باغیوں اور صالح کے وفاداروں کا مشترکہ کنٹرول تھا۔ صالح کے وفاداروں کو شکست ہوئی اور ان کے سربراہ نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہ زیادہ دور نہیں جا سکے۔تجزیہ کاروں کو خدشہ ہےکہ صالح کے منظر سے ہٹنے کے بعد تنازعہ تیز ہو جائے گا۔ کیونکہ صالح کے حامی اور سعودی حکومت جو کہ سابق صدر کی اپنے اتحادیوں سے منہ موڑنے کی پالیسی کو ایک بڑا بریک تھرو قرار دے رہی تھی، انتقام لینے کی کوشش کریں گے۔
اس معاملے کے قلیل مدتی نتائج تو درحقیقت ایسے ہی ہوں گے۔ لیکن اس بڑی تصویر میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی کہ خطے کی امیر ترین طاقت امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے خریدے گئے ہتھیاروں کی مدد سے اپنے غریب ترین ہمسائے کو سزا دینے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ سعودی میڈیا
مسلسل حوثیوں کو ایرانی ملیشیازقرار دیتا ہے جوکہ واضح طور پرغلط بیانی ہے۔ سعودی حملے کے بعد ایران کی شمولیت میں اضافہ ہوا ہے لیکن اسے جارحیت کا جواز بنانے والی بات ہمیشہ سے غلط تھیی۔ اور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ سعودی اور اماراتی حکومتیں یہ امید کر رہی تھیں کہ پاکستان اس موقع پرجنگ کیلئے انسانی جانوں کی قربانی پیش کرے گا۔لیکن پاکستان پیچھے ہٹ گیا اور ان ممالک کو مایوسی ہوئی۔ لیکن انہیں جنرل راحیل شریف کی شکل میں ’مسلم نیٹو‘ کیلئے ایک سربرا مل گیا جس کی محمد بن سلمان بہت تشہیر کرتے ہیں اور یہ فورس درمیانی مدت میں صرف خطے کے اندر ایرانی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے استعمال ہو گی۔ ایران کے عزائم جو بھی ہوں لیکن وہ سعودی عرب کے اپنے منصوبوں سے بدتر نہیں ہو سکتے۔ سعودی عرب نے حال ہی میں فلسطینیوں کو نظرانداز کر کے ٹرمپ اور نیتن یاہو سے قربت اختیار کرلی ہے۔ کسی کو علم نہیں ہے کہ ’مسلم نیٹو‘ کا یمن میں کیا کردار ہو گا۔ لیکن دوسری جانب سب کو علم ہے کہ اس تنازعے سے انسانیت کو کتنی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے بلکہ جدید دور میں ہیضے کی بدترین وباء بھی پھیلی ہے اور قحط تو اس قدر زیادہ ہو گیا ہے کہ لوگوں کو شام کی حالت زار بھول گئی ہے۔ انسانیت کے خلاف ان جرائم کا زیادہ تر الزام مستقبل کے فرمانروا اور ان کے اتحادیوں کے سر جاتا ہے۔صالح کے منظر سے ہٹنے سے یمن کو شاید فوری فائدہ نہ ہو لیکن اس سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اس ملک کی تباہی میں ان کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.