پاکستان چین کے کیمپ میں

9

بیرونی تبدیلیوں نے پاکستان کو اپنے اتحادی چین کے قریب تر کردیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے حوالے سے جو طریقہ کار اپنایا ہے اس سے واشنگٹن کی اسلام آباد کے حوالے سے پالیسی سخت ہو گئی ہے اور پاکستان کا چین کی طرف مزید جھکاو¿ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ وائٹ ہاو¿س کو یقین ہے کہ افغانستان میں امریکی پوزیشن اس وجہ سے خراب ہوئی ہے کیونکہ پاکستان اپنے قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ بھارت سے بھی قریبی تعلقات قائم کر رہی ہے۔ نومبر کے آخر میں صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ بھارت گئیں اور نریندر مودی نے ان کی میزبانی کی۔ میں نے ا ور شیریں طاہر خیلی نے واشنگٹن میں سرگرم ایک تھنک ٹینک کیلئے ایک تحقیق کی ہے اور اس میں ہم اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ واشنگٹن کو یہ واضح پیغام دے کہ اگرچہ اس نے ماضی میں امریکی مالی امداد پر بہت زیادہ انحصار کیا ہے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔ اب چین کی شکل میں پاکستان کو سرمائے کا ذریہ مل گیا ہے۔ گزشتہ تین ادوار میں جب واشنگٹن کے پاکستان سے تعلقات بہت مضبوط تھے تو سرمائے کی آمد کی وجہ سے معاشی شرح نمو میں بہت اضافہ ہوا۔ لیکن واشنگٹن یہاں اپنی مرضی سے آیا تھا اور پھر پیچھے ہٹ گیا اور اکثر جب اسے پاکستان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی تو وہ فوری طورپر آنکھیں پھیر لیتا تھا۔لیکن چین کے یہاں طویل مدتی مفادات ہیں جس کا
پاکستان بھی حصہ ہے۔ جس طریقے سے چین نے اپنے ہمسائیوں سے تعلقات بڑھانا شروع کئے ہیں اس اکثر ’جیو اکنامکس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں معیشت کی مدد سے جیوپولیٹیکل اہداف حاصل کئے جا رہے ہیں۔ رابرٹ بلیک ویل اور جینیفر ہیرس نے دوہزار سولہ میں اپنی کتاب وار بائی ادر مینز: جیو اکنامکس اینڈ سٹیٹ کرافٹ میں چین کے متعلق کہا ہے کہ یہ جیواکنامکس میں ورلڈ لیڈر ہے بلکہ اس کی وجہ سے علاقائی اور عالمی سطح پر طاقت کے مظاہرے کا رخ واپس معیشت کی طرف ہو گیا ہے (فوجی طاقت کے مظاہرے کے برخلاف)۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ چھوڑا اور تنقید کی اور نریندر مودی کے بھارت نے بھی اس سے منہ موڑ لیا جس کے بعد پاکستان بڑی سختی کے ساتھ چین کے کیمپ میں جا چکا ہے۔ اس اقدام کے پاکستان اور چین دونوں کیلئے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان کی بیرونی پالیسی میں اس ڈرامائی پالیسی کے تناظر میں پالیسی سازوں کو اسس بات پر گہری نظر رکھنا ہو گی کہ چین اپنی سرحدوں سے باہر موجود دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے بہتر بنا رہا ہے۔ تین ایسے معاملات ہیں جو بیجنگ کے دنیا سے متعلق نظریے پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ ایک تو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے عروج کا ردعل ہے، دوسرا چین میں شی چن پنگ کی حکومت کی مضبوطی اور تیسرا بیجنگ کی طرف سے نئے معاشی ماڈل کو اپنانا ہے۔
امریکی صدر نے ایک ٹی وی انٹرویو کے بعد شی چن پنگ کو ”چین کا بادشاہ“ قرار دیا تھا۔ اگرچہ یہ بیان مبالغہ آرائی ہے لیکن اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شی چن پنگ کیسے اس طاقتور چین کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں جس پر پہلے صرف ماو¿زے تنگ اور ڈینگ ڑیاو¿ پنگ کا کنٹرول ہوا کرتا تھا۔ اب ’شی چن پنگ نظریے‘ کو چین کیلہئے ’نئے دور‘ کی رہنمائی مانا جاتا ہے۔ نئے دور کی یہ اصطلاح شی چن پنگ نے اکتوبر میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں کانگریس کے اندر اپنے طویل خطاب میں بار بار استعمال کی تھی۔ انہوں نے اپنے عروج کی منصوبہ بندی بڑی احتیاط سے کی تھی اورانہوں نے چینی سیاست اور معاشی نظام میں کرپشن سے عوام کی نفرت سے بھی فائدہ اٹھایا اور اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی۔ چین میں کام کرنے والی ایک بڑی مشاورتی فرم پامیر کنسلٹنگ نے اس بات کا کچھ اشارہ دیا ہے کہ اینٹی کرپشن مہم کے کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس مہم کی وجہ سے کمیونسٹ پارٹی کے اندر دو لاکھ اٹھہتر ہزار لوگوں کو سزا ملی جس میں چار سو چالیس وزارتی یا صوبائی حکام بھی شامل تھے جبکہ تینتالیس اراکین کا تعلق سینٹرل کمیٹی سے تھا۔فوج کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس مہم کے تحت تیرہ ہزار افسر برطرف ہوئے اور پچاس سے زائد جرنیلوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ اس وقت پولٹ بیورو کے پچیس اراکین میں سے سترہ شی چن پنگ کے اتحادی ہیں جبکہ سٹینڈنگ کمیٹی کےسات میں سے چار اراکین بھی چینی صدر کے ساتھ ہیں۔شی چن پنگ نے چینی نظام پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد باقی دنیا پر توجہ دینا شروع کی ہے۔ پانچ برس پہلے جب انہیں کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری جنرل اور صدر مقرر کیا گیا تھا تو شی نے چین کے علاقائی طاقت بننے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ انیسویں پارٹی کانگریس میں اپنے طویل خطاب میں شی نے اپنے عزائم بتائے اور دوہزار پچاس تک چین کی ترقی کا ایجنڈا پیش کیا جو ان
کے خیال میں ان کے ملک کو دنیا کا جدید ترین مضبوط ملک بنا دے گا جو ٹیکنالوجی، فنانس اور سیکیورٹی کے شعبوں میں برتری لے گا اور اس کے دنیا کے ساتھ مضبوط تعلقات ہوں گے۔ فنانشل ٹائمز کیلئے کالم لکھنے والے رچمین نے حال ہی میں مغرب کو درپیش چینی چیلنج کے متعلق لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہےک کہ وہ تین محاذوں پر سرگرم ہے: نظریاتی، معاشی اور جیوپولیٹیکل۔ چین کا سیاسی ماڈل باقی دنیا کو امریکی جمہوریت کے متبادل کے طور پر فراہم کیا جا سکتا ہے۔ اس کوشش میں بیجنگ کو ٹرمپ کے طور طریقوں سے کافی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ چین کو مسلسل یہ اعتماد بھی ل رہا ہے کہ وہ سخت سیاسی کنٹرول کے ساتھ تیز رفتار معاشی ترقی اور جدت بھی لا سکتا ہے۔
چین اب کئی نئی ٹیکنالوجیز میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔ کئی شعبوں میں وہ دوسروں سے آگے نکل گیا ہے جس میں روبوٹس، ڈرونز، شمسی توانائی اور مصنوعی ذہانت شامل ہیں۔ چین کا سب سے زیادہ اثر جیوپولیٹکس میں ہو گا۔ اگرچہ امریکہ کھلے سمندر میں چین کو چیلنج کر سکتا ہے لیکن زمینی رابطے میں چین کو برتری حاصل ہو گی۔ ون بیلٹ ون روڈ کے منصوبے کا مقصد چین کیلئے یوروایشیا میں نئی مارکیٹس پیدا کرنا ہے جس میں وسطی ایشیا اور ایشیا سے یورپ اور افریقہ کی طرف راستے نکالے جا رہے ہیں۔ چین کے بیس شہر اب یورپ کے ساتھ ریلوے کے ذریعے منسلک ہو چکے ہیں اور دوہزار تیرہ کے بعد سے ان راستوں کے ذریعے سامان کی ترسیل کئی گنا بڑھ گئی ہے خاص طور پر چینگ ڈو سے پراگ اور ووہان سے لیون جانے والے راستوں نے تو اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ یوں پاکستان نے چین کے کیمپ میں شامل ہو کریہ فائدہ حاصل کر لیا ہے کہ اب وہ جیواکنامکس کی بنیاد پرایک نئے ابھرتے ہوئے نظام کا حصہ بن گیا ہے۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.