شمسی توانائی کا حصول اور غیر سرکاری تنظیموں کا کردار

26

ان علاقوں میں شمسی توانائی کی اہمیت سے کسی طور انکار ممکن نہیںجہاں لوڈ شیڈنگ اپنے عروج پہ ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں بجلی کی شدید شارٹ فال ہے اور گزشتہ کئی دیہایوں سے حکومت اس مسئلے سے نبردآزما ہے لیکن تا دم تحریر اس میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے مختلف شہروں بلخصوص چھوٹے شہروں میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بجلی بند ہوتی ہے۔ اس حوالے سے ملک کے وہ علاقے شدید متاثر ہوتے ہیں جہاں شدید گرمی پڑتی ہے۔ ان علاقے کے مکینوں کی سب سے بڑی اوراہم ضرورت یہی ہوتی ہے کہ موسم گرما میں کم از کم ان کو اتنی بجلی کی سہولت میسر ہو کہ وہ اپنے گھروں میں اور کام کی جگہوں پے پنکھے چلا کر خود کو اور اپنے بچوں کو گرمی کی شدت سے بچا سکیں۔
چونکہ گزشتہ کئی دیہایوں سے بجلی کا حل نظر نہیں آ رہا اس لئے ضرورت محسوس کی گئی کہ بجلی کے حصول کے متبادل اور سستے زرائع اپنائیں جائیں جن میں سر فہرست شمسی توانائی کے زریعے بجلی کا حصول ہے تا کہ عوام جو بجلی کے بحران کی وجہ سے نفسیاتی مریض بنتے جا رہے ہیں اس اذیت سے چھٹکارا حاصل کر سکیں شمسی توانائی کی سب سے بہترین خاصیت یہ ہے کہ اس سے حاصل کی جانے والی بجلی نہایت آسان اور سادہ ہے اور ہر قسم کی آلودگی سے پاک بھی ہے ایک سروے کے مطابق دیگر زرائع سے حاصل ہونے والی 10000کے مقابلے میں سورج کی روشنی سے 36گنا زیادہ توانائی حاصل کی جاسکتی ہے سورج سے حاصل ہونے والی توانائی انسان کے پاس ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی بھی ختم نہیں ہو گا اب یہ ہماری عقل مندی ہے کہ ہم قدرت کے اس نعمت سے کس طرح بھر پور فائدہ لے سکتے ہیں اگر ہم خود کو خوشحال دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کا بہترین حل یہی ہے کہ ہمیں شمسی توانائی کی اہمیت کے شعور کو اجاگر کرنا ہو گا اگر حکومت اس سلسلے میں بروقت فیصلے کر تی اور آج سے دودیہائی بیشتر ان منصوبوں پر سنجیدگی سے غور کرتی تو آج بجلی کا یہ شدید بحران ہمیں دیکھنے کو نہ ملتااور نہ ہی فیکٹریاں اور ملز بند ہوتے جن کی وجہ سے بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے جس سے ہماری معیشت بھی کمزور ہوئی اس ضمن میں مقامی سطح پر سولر پینلز کی تیاری اور ان کے تنصیب کا کام عمل میں لایا جائے تو یہ نہایت موزوں ثابت ہو سکتا ہے جب کہ کم قیمت ہونے کی وجہ سے عوام تک ان کی رسائی بھی قدرے آسان ہو گی۔
بجلی کی مسلسل فراہمی اگر گورنمنٹ کی جانب سے ممکن نہیں ہو پار رہی تو اپنی فیمیلی اور گھرانے کو اذیت سے بچانے کے لئے ہم اپنی طرف سے ایک کوشش کر سکتے ہیں ہو سکتا ہے کہ 90%قارئین اتنے اخراجات برداشت نہ کرسکیں جو شمسی توانائی کے لئے بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنا سکے راقم کے اندازے کے مطابق دو پنکھوں اور چار انرجی سیور اور موبائل وغیرہ کوچارج کرنے کے لئے اور گھر میں چوبیس گھنٹے برقی سسٹم چلانے کے لئے تیس سے چالیس ہزار روپے اخراجات آتے ہیںجو ایک گھرانے کو مسلسل اور سال کے 24گھنٹے بجلی کی ترسیل کو یقینی بنا سکتا ہے اس ضمن میں مقامی سطح پر سولر پینلز کی تیاری اور ان کی تنصیب کا کام عمل میں لایا جائے تو یہ نہایت موزوں ثابت ہو سکتا ہے جب کہ کم قیمت ہونے کی وجہ سے عوام تک ان کی رسائی بھی قدرے آسان ہو گیاسی سلسلے کی کڑی کے طورحکومت پاکستان نے ملک بھر کے مختلف علاقوں میں بجلی کے حصول کئے لئے متعدد پروجیکٹس پر کام کا آغاز کر دیا ہےجس سے سولر پےنلز کی تنصیب کا عمل مکمل ہو ا ہے جو متبادل زرائع کے طور پرکامیابی سے بجلی کی ترسیل کا کام کر رہی ہےںپاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال کی ایک بہترین مثال موٹر وے پر دیکھی جا سکتی ہے جہاں بذریعہ ٹیلیفون ہیلپ لائین کی فراہمی کے لئے کھمبوں کے ساتھ سولر پینل نصب کئے گئے ہیں ان میں سے ایک پینل کے نیچے ایک بیٹری بھی نصب ہے جو رات کے وقت کے لئے بھی بجلی محفوظ کر لیتی ہے موٹر وے پر نصب ٹیلی فون کا نظام مکمل طور پر شمسی توانائی کی مدد سے کام کر رہا ہے اس سلسلے میں ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے کردار سے انکار ممکن نہیں جو ہمہ وقت عوام کی ترقی اور خوشحال زندگی کے لئے کوشاں ہیں اس کی ایک مثال یو ایس ایڈ کی ہے جو اپنے چھوٹے فنڈنگ کی مد میں اب تک بارہ پرجیکٹس بلوچستان میں مکمل کر چکی ہے جب کہ حال ہی میں ضلع جعفرآباد اور صحبت کے چھ دیہاتوں کے87گھرانوں میں شمسی توانائی کے زریعے بجلی کی بلا معاوضہ تنصیب کی زمہ داری مقامی این جی او جینڈر اینڈ امپاورمنٹ آرگنائزیشن کی مدد سے مکمل کرنے جا رہی ہے جو یقینا خوشحالی اور روشن صبح کی دلیل ثابت ہو گی اس ابتدائی منصوبے کے تحت جینڈر اینڈ امپاورمنٹ این جی او ضلع صحبت پور کے ان دو دیہاتوں اور ضلع جعفرآباد کے چار دیہاتوں کے تمام گھرانوں میں شمسی توانائی کے زریعے بجلی کی ترسیل کو یقینی بنائے گی جہاں اس دور میں بھی بجلی کی سہولت میسر نہیں۔ جینڈر اینڈ امپاورمنٹ آرگنائزیشن ان دیہاتوں کے باسیوں کو نہ صرف بجلی کی سہولت میسر کرے گی بلکہ ان دیہاتوں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو شمسی توانائی کے حوالے سے فنی تربیت بھی فراہم کرئے گی تاکہ آنے والے دنوں میں ا ن کے گاﺅ ں میں کبھی سولر پینلز میں خرابی ہو جائے تو وہ ان خرابیوں کو دور کر سکیں مقامی این جی او کے اس پرجیکٹ کے تحت مجموعی طور پر بارہ سو سے زائد غریب افراد مستفید ہوں گے۔ بلاشبہ اس طرح کے این جی اوز کے کام علاقے میں عوام کی زندگی میں بہتری لانے کا باعث بنیں گے اور لوگ اس ترقی یافتہ دور میں نہ صرف بجلی کی سہولت سے مستفید ہو سکیں گے بلکہ وہ ذہنی کوفت اور اذیت سے نجات حاصل کر کے اپنی فیملی اور بچوں کے ساتھ بہتر زندگی گزارسکیں گے
چونکہ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کل بڑے شہروں اور خاص طور چھوٹے شہروںاور دیہی علاقوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹوں کی طویل لوڈشیدنگ سے زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے کوئی بھی پیشنگوئی کرنا مشکل ہو گا نہ صرف یہ بلکہ بجلی کے نرخوں میں مسلسل اخافہ جلتی پہ تیل ڈالنے کے مترادف ہے ہماراملک اس وقت جہاں معاشی بحران اور دہشت گردی کے مسائل میں گھرا ہو ا ہے وہاںبجلی کی کمی کی وجہ سے عوام کی زندگیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں سورج کی کرنیں اللہ کا دیا ہوا تحفہ ہیں اور ضلع جعفرآباد اور صحبت پور کے عوام کے لئے امریکی عوام کی جانب سے ان کرنوں سے مستفید ہونے کا جو تجربہ مقامی ادارے جینڈر اینڈ امپاورمنٹ آرگنائزیشن نے دیا ہے اسی طرح دوسرے علاقوں میں بھی اس طرح کے اجتماعی فلاحی منصوبوںکی اشد ضرورت ہے تا کہ عوام کا معیار زندگی بلند ہو اور انہیں ذہنی اذیت اور کوفت سے نجات مل سکے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.