پاکستان کو اپنے لئے جگہ تلاش کرنا ہو گی

40

پاکستان کا اسلامی دنیا میں ایک اہم مقام ہے۔ یہ واحد مسلم ملک ہے جو مذہب کی بنیادوں پر قائم ہوا ہے۔ اسرائیل دوسری مذہبی ریاست ہے جو ایک خاص گروہ کے فائدے کیلئے بنا ہے۔ دونوں ممالک ایک ہی وقت میں وجود میں آئے۔ لیکن ان میں فرق ہے۔ اسرائیل اپنی حدود میں ساری دنیا کی یہودی آبادی کو بسا سکتا ہے اور وہ ایسا کرنا بھی چاہتا ہے۔ دنیا کی مسلم آبادی کی تعداد ایک ارب ساٹھ کروڑ ہے۔ پاکستان میں انیس کروڑ پچاس لاکھ مسلمان آباد ہیں جو پوری دنیا کے مسلمانوں کی تعداد کا بارہ فیصد ہے۔ اس تعداد کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی پالیسی سازوں کو دنیا کے ان حصوں سے متعلق سوچنا پڑتا ہے جہاں مسلمان مشکلات کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تبدیلیاں پاکستانی عوام کے نزدیک بہت اہم ہیں۔ امریکہ کے من موجی صدر کے ایک فیصلے نے اسلامی دنیا کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ چھ دسمبر کو ٹرمپ نے وائٹ ہاو¿س سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ انہوں نے یروشلم کو یہودی ریاست کا دارالحکومت مان لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو
پچانوے میں امریکی کانگریس نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کردیا جائے۔ تاہم ربع صدی تک امریکی صدور اس ایشو کو التواء میں ڈالتے رہے اور فیصلے پر عمل نہیں ہوا۔ موجودہ صدر نے تاریخ کو مسترد کرکے یہ قرار دیا کہ ان کے فیصلے کو زمینی حقائق سے سپورٹ مل رہی ہے۔ کیونکہ اسرائیل کے قیام سے اب تک یروشلم اس کا دارالحکومت رہا ہے اور یہیں اسرائیلی حکومت قائم ہے اور کام کررہی ہے۔ ملک کے صدر اور وزیراعظم کے گھر بھی اسی شہر میں ہیں۔ یہاں اسرائیلی سپریم کورٹ بھی واقع ہے۔ لیکن یہ حقائق تو ہمیشہ سے ہی سب کو معلوم تھے۔ اس کے علاوہ دیگر زمینی حقائق بھی موجود تھے۔ مسلم دنیا یروشلم کومکہ مدینہ کے بعد اپنا تیسرا مقدس ترین شہر مانتی ہے۔ انیس سو سڑسٹھ میں اسرائیل نے اردن کی فوج کو شکست دے کر یروشلم پر قبضہ کیا تو عالمی برادری نے اس قبضے کو نہیں مانا۔ جنگ میں جیتے گئے علاقے کو اپنا قرار دینا عالمی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ یہ ہمیشہ مانا گیا تھا کہ یروشلم کا درجہ اسرائیل اور فلسطین میں معاہدے کےبعد ہی طے ہو گا۔ ٹرمپ نے اس معاملے میں یروشلم کو اسرائیل کے حوالے کر کے خود کو یہودی ریاست کے ساتھ شامل کر لیا ہے اس لئے وہ کبھی بھی ایک ایماندار ثالث نہیں بن سکتا حالانکہ انیس سو سڑسٹھ سے وہ یہی کردار ادا کر رہا ہے۔ امریکی صدر کے اس فیصلے پر مسلم دنیا کا ردعمل کیا ہو گا؟ کیا اس سے مسلم دنیا دو حصوں میں بٹ جائے گی۔ ان میں سے ایک وہ ہوں گے جو ظاہری ناخوشی دکھائیں گے اور کچھ لوگ بہت زیادہ غصہ کریں گے؟ اصل بات یہ ہے کہ زیادہ تر عرب ممالک کندھے اچکائیں گے اور آگے بڑھ جائیں گے۔ دوسری جانب ترکی، پاکستان، ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک کا ردعمل دیرپا ہو گا۔ دا نیویارک ٹائمز کیلئے لکھنے والے صحافیوں کے ایک گروپ نے عرب دنیا کے ردعمل کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ” اگرچہ عرب لیڈر فلسطینیوں کی حمایت میں بیان بازی کرتے رہتے ہیں لیکن عرب سپرنگ، عراق، شام اور یمن میں جاری جنگوں کی وجہ سے اس کی اہمیت ختم ہو چکی ہے، داعش اورسعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات سے بھی اس پر اثر پڑا ہے۔ سعودی عرب جیسی خلیجی ریاستوں کو ایران کے ساتھ اپنی رقابت کا زیادہ خیال ہے اور ان کے مفادات تیزی سے اسرائیل کے قریب ہوتے جا رہے ہیں“۔
اس تجیزے کو اس رپورٹ سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ٹرمپ کے داماد اور مشرق وسطیٰ کے
معاملات کے نگران جیرڈ کشنر نے شہزادہ محمد بن سلمان سے طویل ملاقاتیں کی تھیں اور فلسطین کے معاملے کو حل کرنے کیلئے ایک منصوبہت یار کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینی ریاست ان بکھرے ہوئے علاقوں پر مشتمل ہو گی جو یہودی آبادکاروں کو نہیں ملے۔ مشرقی یروشلم کو شہر کے مغربی حصے سے ملا لیا جائے گا، اس شہر کو اسرائیلی دارالحکومت مان لیا جائے گا۔ فلسطینی ریاست رملہ کو دارالحکومت بنائے گی لیکن اس کی کوئی فوج نہیں ہو گی اور اسے یہ گارنٹی دینا ہو گی کہ وہ یہودی ریاست پر دہشتگرد حملوں میں مدد نہیں دے گی اور فلسطینیوں کی نصف صدی کی جدوجہد ختم ہونے کے بعد سعودی عرب پوری طرح سے ایران پر توجہ دے سکے گا۔ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ عرب ممالک کا س±نی حصہ اب مشرق وسطیٰ میں غیرضروری شیعہ سنی دشمنی پر زیادہ توجہ دے گا۔ ایک معیشت دان کے حوالے سے میں اس کے دو پہلو دیکھ رہا ہوں۔ دنیا میں ایشیائی مسلمان امریکہ اور سعودی عرب سے مزید دور ہوں گے اور وہ ایران اور چین کے زیادہ قریب ہوں گے۔ ایران نے انسانی وسائل کی ترقی میں بھرپور سرمایہ کاری کی ہے اور اس کا معاشی مستقبل سنی عربوں سے بہتر ہے۔ جبکہ چین کے ون بیلٹ ون روڈ سے بھی ایشیا کے مسلمان ممالک قریب آجائیں گے۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.