ایک کروڑ لاپتہ عورتیں

29

نئے سال میں سب سے بڑی امید یہی باندھی جا سکتی ہے کہ عام انتخابات موجودہ سویلین سیٹ اپ کے تحت بنا کسی آڑے ترچھے جواز ، حادثے یا انہونی ناخوشگواریت کے بغیر ہو جائیں۔مگر انتخابی عمل کے معاملے میں اس بار بھی مدعی (سیاسی جماعتیں) سست،گواہ ( الیکشن کمیشن ) چست پایا گیا ہے۔سیاسی جماعتیں جمہوری تسلسل کی جتنی وکیل ہیں،انتخابی عمل کے اپ ٹو ڈیٹ اور شفاف ہونے کی ضرورت سے اتنا ہی تساہل برتتی آ رہی ہیں۔دو ہزار تیرہ کا انتخابی عمل مکمل ہوتے ہی غلغلہ اٹھ گیا کہ انتخابی نظام شفاف نہیں ہے۔اسے جدید اور الیکشن کمیشن کو بااختیار بنانے کی اشد فوری ضرورت ہے۔ چار برس ضرورت ہے ضرورت ہے ضررت ہے کا وظیفہ جاپنے میں گذر گئے۔اس دوران جس الیکشن کمیشن کو بھارت کی طرز پر خودمختار و طاقتور بنانا مقصود تھا، اسے ہر سرکردہ جماعت نے سخت سست کہا۔بالخصوص تحریکِ انصاف اور الیکشن کمیشن کے درمیان جو زبانی و قانونی ملاکھڑا وقفے وقفے سے جاری رہا اور جاری ہے ایسے میچ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ تحریک ِ انصاف کی نگاہ سے یوں لگتا ہے گویا شفاف جمہوریت کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو غریب الیکشن کمیشن ہے۔ جس کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ وہ کتنا خودمختار،کتنا پابند اور کس کا پابند ہے۔اس دوران خود پارلیمنٹ کا یہ حال رہا کہ جو الیکشن ایکٹ دو برس پہلے منظور ہوجانا چاہیے تھا۔وہ بھانت بھانت کی فرمائشوں اور انتہائی مشکل یا آسان ، اصولی و موقعہ پرستانہ تجاویز کے گرداب میں پھنسا رہا اور ریں ریں کرنے کے بعد عین آخری وقت پر منظور ہو پایا۔اس کے بعد بھی الیکشن کمیشن یہی معلوم کرتا رہا کہ بھائیو انتخابی فہرستوں کا کیا کروں، نئی مردم شماری کے عبوری نتائج کے
مطابق بناوں یا پرانی فہرست سے ہی کام چلاتا رہوں۔کوئی اور ملک ہوتا تو اس اہم سوال پر پارلیمنٹ برق رفتاری سے اٹھ جاتی اور فاسٹ ٹریک قانون سازی میں لگ جاتی۔مگر یہاں بھی سیاست پنجہ چھکا کھیلنے سے باز نہ آئی۔کسی نے کہا، یار اٹھانوے کی مردم شماری کی بنیاد پر بنی فہرستوں سے ہی کام چلا لو۔کسی نے کہا جب تک نئی مردم شماری کے حتمی نتائج کو تمام سیاسی جماعتیں قبول نہیں کرتیں تب تک عبوری اعداد و شمار کی بنیاد پر فہرستیں بنانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جب کسی نے کان میں پھونکا کہ مردم شماری کے حتمی نتائج اپریل سے پہلے شایع ہونا مشکل ہیں اور آئین نئی مردم شماری کے بعد پرانی مردم شماری کی بنیاد پر وضع ہونے والی قانونی فہرستوں کو نہیں مانتا۔کہئے تو الیکشن ہی ملتوی کر دیں۔جس پر پارلیمنٹ پھر سے ہڑبڑا کر اٹھی اور قومی اسمبلی نے عبوری اعداد و شمار کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو فہرست سازی کا اختیار دے دیا۔مگر جن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں اس بل کی حمائت کی وہی جماعتیں سینیٹ میں اس کے حق میں ووٹ نہ دینے کی لا منطق پر اڑ گئیں اور پھر سینیٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو غیر ضروری تاخیر کی اذیت سے لطف اندوز کرنے کے بعد یہ اختیار بطور احسان اس کے منہ پر دے مارا ( جمہوری عمل کے ساتھ منتخب پارلیمنٹ کا ایسا مثالی کمٹمنٹ ابِ طلا سے لکھنے لائق ہے )۔
مگر اس سے بھی سنگین ایک اور مسئلہ ہے جس کی شدت کا احساس سوائے سول سوسائٹی کسی سیاسی ارسطو کو نہیں۔یعنی کتنے ایسے پاکستانی شہری ( بالخصوص خواتین ) ہیں جو صرف اس لیے تازہ ووٹرز لسٹ میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے پاس قومی شناختی کارڈ ہی نہیں۔ ( دو ہزار دو کے انتخابات تک کوئی بھی متبادل شناختی دستاویز دکھا کے ووٹ ڈالا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد سے یہ سہولت ختم کر دی گئی )۔اس پابندی کے جہاں یہ فوائد ہیں کہ بوگس ووٹنگ کی کسی حد تک روک تھام ہوئی، وہیں سب سے زیادہ نقصان خواتین کو ہوا کہ جن کی اکثریت گھریلو ہے لہذا ان کے شناختی کارڈ ہونے نہ ہونے کو اکثر گھرانوں کے مرد یہ کہہ کر اہمیت نہیں دیتے کہ تجھے کون سا ملازمت کرنی ہے،کون سا پاسپورٹ بنوانا ہے، بہت ہی چاہ ہے تو شادی کے وقت بنوا لینا وغیرہ وغیرہ۔ویسے تو انیس سو ستر سے آج تک ہر انتخابی فہرست میں مرد ووٹروں کی تعداد ہمیشہ خواتین سے زیادہ رہی لیکن پچھلے دو انتخابات کے بعد یہ فرق بڑھتے بڑھتے تقریباً ایک کروڑ سے اوپر نکل گیا ہے۔یعنی پچپن مرد ووٹر اور تینتالیس خواتین ووٹر۔یعنی بارہ فیصد خواتین وجود رکھنے کے باوجود ووٹرز لسٹ سے غائب ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان کے ایک سو چونتیس میں سے صرف دو اضلاع ایسے ہیں جہاں خواتین اور مرد ووٹروں کی تعداد میں فرق دس فیصد سے کم ہے۔اناسی اضلاع ایسے ہیں جہاں خواتین ووٹروں کا اندراج مردوں کے مقابلے میں چالیس فیصد کم ہے۔یہ اتنی بھدی تصویر ہے کہ اسے ہر سیاسی جماعت کو ایک قومی سکینڈل کے طور پر دیکھنا چاہیے اور الیکشن کمیشن کی ہر طرح سے مدد کرنی چاہیے۔مگر جس طرح بالائی و زیریں دیر کے انتخابات سے خواتین کی مکمل غیر حاضری کو سیاسی جماعتوں نے ایک مسلسل حقیقت کے طور پر قبول کر لیا ، اسی طرح ایک کروڑ عورتوں کے انتخابی عمل سے باہر رہ جانے کے بھی کوئی معنی نہیں۔اس بارے میں بھی چیخ و پکار سول سوسائٹی ، این جی اوز یا زیادہ سے نیشنل کمیشن آف اسٹیٹس آف ویمن یا نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن جیسے بے ضرر ادارے ہی کر رہے ہیں کہ جن کا موم بتی مافیا کہہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے۔مگر کیا یہ چیخ و پکار بھی زمینی حقائق بدل سکتی ہے۔ شائد نہیں۔ وجوہات بالکل سامنے ہیں۔اچھی بات ہے کہ الیکشن کمیشن ترجیحی بنیادوں پر نادرا کے
ساتھ مل کر ان اناسی اضلاع کو ہدف بنا رہا ہے جہاں عورتوں کے شناختی کارڈ نہ ہونے کا مسئلہ سب سے سنگین ہے اور الیکشن کمیشن کو امید ہے کہ وہ اس برس ہونے والے انتخابات میں ایک کروڑ غائب عورتوں میں سے کم ازکم چھیالیس لاکھ کو حتمی ووٹر فہرست میں شامل کرانے کے لائق ہو جائے گا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پورے ملک میں نادرا کے صرف پانچ سو انتالیس رجسٹریشن مرا کز ہیں۔ ان میں سے صرف خواتین کے لیے مخصوص مرا کز کی تعداد چودہ ہے باقی مخلوط ہیں۔دور دراز علاقوں میں رجسٹریشن کی سہولت گھر تک پہنچانے کے کام کے لیے نادرا کے پاس دو سو چونتیس موبائل رجسٹریشن وین ہیں۔یعنی فی ضلع ڈیڑھ رجسٹریشن وین۔نادرا بہت زور بھی لگائے تب بھی وہ روزانہ سات ہزار شناختی کارڈ ہی پرنٹ کر سکتا ہے۔گویا روزانہ ساڑھے تین ہزار خواتین کے لیے ہی شناختی کارڈ پرنٹ ہو سکتے ہیں۔مگر پرنٹنگ کے مرحلے سے پہلے ضروری دستاویزات منسلک کرنے اور تصدیق کرانے کے عمل میں کم ازکم دو چکر ، ایک ہفتہ اور ایک ماہ بھی لگ جاتا ہے۔اس رفتار سے نادرا اگلے اٹھارہ سے تئیس برس میں پاکستان کی تمام خواتین کو شناختی کارڈ بنا کے دے دے گا اور اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ ایک کروڑ غائب خواتین دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے قابل ہو سکیں تو پھر نادرا کو آج سے لے کر اگلے چھ ماہ تک روزانہ ستر ہزار کارڈ پرنٹ کرنے ہوں گے۔اس کا مطلب ہے نادرا کے موجودہ رجسٹریشن مراکز ، عملے، رجسٹریشن وینز ، ہرنٹنگ کی سہولت اور بجٹ میں کم ازکم چار گنا فوری اضافہ۔کیا آپ نے اس بحران کے بارے میں کسی سرکردہ اور جمہوریت کی دلدادہ سیاسی جماعت کی چیخ سنی ؟ فی الحال تو مسئلے کا بس ایک ہی حل ہے۔ اسے بھی سی پیک کے کھاتے میں ڈال دیا جائے ورنہ ا? تو مالک ہے ہی۔ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا۔کوئی اور مسئلہ بتائیے؟

 

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.