صلہ ڈرتی ہے اور زینب مرتی ہے

37

کاش صلہ نہ ڈرتی اور سب کو بتا دیتی کہ اس کے گھر میں رہنے والا شخص جو کہ ماموں کے رشتے کا نقاب اوڑھے ہے وہ اسے جنسی طور پر ہراساں کر رہا ہے۔صلہ کی کہانی کچھ اور ہوتی اور اس معاشرے کی بھی جہاں صلہ جیسی لڑکیاں قطرہ قطرہ زندگی کو ترستی ہیں اور زینب جیسی بچیوں کی زندگی ہی ختم کر دی جاتی ہے۔کاشف نثار کی ڈرامہ سیریل ’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ آج کل ہم ٹی وی پر ٹیلی کاسٹ ہو رہی ہے۔کاشف نثار اپنے ہم عصر ڈائریکٹرز سے کافی مختلف ہیں۔ان کے ڈرامے زیادہ تر ان افراد کے گرد گھومتے ہیں جو معاشرے میں مین سٹریم سے باہر دھکیل دئیے جاتے ہیں اور وہ حاشیے میں رہتے ہوئے اپنے وجود کا جواز تلاش کرتے رہتے ہیں۔’ڈر سی جاتی ہے صلہ‘ بھی کچھ ایسے ہی کرداروں کی کہانی ہے۔پہلی قسط کے بعد بہت سے لوگوں نے اسے ’ہماری اقتدار‘ کے منافی قرار دیا۔پیمرا کی طرف سے چینل کو اس ڈرامے پر نوٹس بھی ایشو ہو گیا۔اس سے پہلے ایسا ہی نوٹس پیمرا نے ڈرامہ سیریل ’ا±ڈاری‘ کو بھی جاری کیا تھا۔کاشف نثار یہ ڈرامہ اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں اور اپنے بچوں سے پوچھتے ہیں کہ صلہ کیوں ڈرتی ہے؟ان کا خیال ہے کہ وہ اس ڈرامے کے ذریعے معاشرے کو جھنجھوڑ کر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کم از کم اپنے بچوں کو اور گھر کی عورتوں کو اتنا اعتماد تو دے وہ اپنے ساتھ ہونے والی کسی قسم کی جنسی ہراسگی کے بارے میں بتا سکیں۔ ان پر پدر سری معاشرے کا بوجھ کچھ ہلکا تو کریں تاکہ وہ تھوڑا سا سانس لے سکیں۔مگر لگتا ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک باسی کڑھی بن چکا ہے جس میں زینب جیسا واقعہ کبھی کبھی ابال لے آتا ہے۔ہم شور مچاتے ہیں چیختے ہیں اور اس کے بعد تھک ہار کر بیٹھ جاتے ہیں۔اس ایک واقعے نے
ہمارے اندر دبے غصے کو نکلنے کا ایک راستہ فراہم کر دیا ہے۔چند دن بعد جب یہ غصہ ختم ہو جائے گا تو میڈیا اور سوشل میڈیا پھر سے پیروں اور مریدوں کی شادیوں کے پیچھے چڑھ دوڑے گا۔اس سے پہلے 2015ء میں جو واقعہ قصور میں ہوا تھا وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے کافی تھا لیکن اس کا اور اس واقعے کے متاثرین کا انجام کوئی اچھا نہیں ہوا۔مختلف اخباری رپورٹس اور فیچرز کے مطابق اس واقعے کے متاثرین مخلتف شہروں میں نام بدل کر باقی کی زندگی عافیت میں گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسی طرح کا سیکینڈل سوات میں بھی سامنے آیا لیکن پھر خاموشی اختیار کر لی گئی۔گزشتہ سال نومبر میں ایسویسی ایٹڈ پریس ( اے پی ) پاکستان میں مدرسوں میں پڑھنے والے بچوں کے جنسی استحصال پر ایک رپورٹ جاری کی۔رپورٹ کے مطابق ہر سال سیکڑوں بچے کسی نہ کسی طریقے سے جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ان کے کیسز یا تو درج نہیں ہوتے یا ہوتے ہیں تو گاو¿ں کی پنچایت اور با اثر افراد کے کہنے پر عدالت سے باہر ہی مصالحت کر لی جاتی ہے۔اپریل2017ءمیں سرگودھا میں پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا جو بچوں کو کمپیوٹر سیکھنے کا لالچ دے کر ان کی پورن ویڈیوز بنا کر ناروے میں دوسو، تین سو یورو کے عوض بیچتا تھا۔ یہ دھندہ ملزم نے 2007ء میں شروع کیا تھا اور وہ بڑے آرام سے 10 سال تک اس نیٹ ورک کو چلاتا رہا۔یہ مکرہ دھندہ بے نقاب نہ ہوتا اگر ناروے میں ان ویڈیوز کا خریدار گرفتار نہ ہوتا۔اس کی گرفتاری کے بعد ناروے کے حکام نے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کر کے اس شخص کے بارے میں معلومات فراہم کی تو ہمارے اداروں کو ہوش آیا۔لیکن ایف آئی اے نے تحقیق و تفتیش میں تین مہینے لگا دیے، اتنے میں وہ مزید 25 بچوں کی زندگیوں کو برباد کر چکا تھا۔اس کے کمپیوٹر سے کوئی 65 ہزار کلپ بر آمد ہوئے تھے جس میں وہ بھی شامل تھے جو اس نے دوسری ویب سائٹس سے حاصل کیے تھے۔اس کیس کی تحقیقات اس وقت پیچیدہ ہو گئیں جب زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں اور ان کے والدین نے معاشرے کے عزتی اور بے عزتی کے معیارات اور دوہرے رویوں کی وجہ سے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ ان کی ویڈیوز یا تصاویر بنائی گئی ہیں۔پانچ سال سے لے کر ٹین ایج تک بچے ریپ کا آسان شکار ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ذہنی ناپختگی اور کمزور جسمانی صورتحال کی وجہ سے اپنا تحفظ نہیں کر پاتے۔ معاشرے کی روایتی اخلاقی ساخت کی وجہ سے وہ بتا نہیں پاتے کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے؟اس کیس کا دوسرا پہلو شاید زیادہ سنجیدہ اورکٹھن ہے۔ابھی تک ہمارے ملک میں کوئی ایسا سروے نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کے جنسی رویے کیا ہیں؟ معاشرے کے جنسی رویوں کو سمجھنے کے لیے ریسرچ کی اجازت یونیورسٹیاں بھی نہیں دیتیں۔ میڈیا سٹڈیز میں پورنوگرافی کے اثرات پر ہونے والی شاید ہی کوئی ریسرچ ملے۔جنس سے متعلق جرائم کی نوعیت کو سمجھنے اور جاننے کے لیے ضروری ہے کہ آبادی کے جنسی رجحانات کا کوئی باقائدہ اور مستند ڈیٹا ہو۔ایسے اعداد و شمار کی غیر موجودگی کی وجہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کا ایک سٹریو ٹائپ میڈیا کے ذریعے بنا دیا جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ ایسا ملزم نشئی ہوگا یا پھر عادی مجرم ہوگا۔لیکن دوسری اور بہت سی وجوہات جو اس جرم کی طرف لے جاتی ہیں ان کا احاطہ نہیں کیا جاتا۔ڈاکٹر ڈیوڈ لسیک کی پی ایچ ڈی کے مقالے Rapist Un detected The( ایسے ریپسٹ جن کا سراغ نہ لگایا جاسکے) کے مطابق اصل حالات ایسے نہیں جو جنسی جرائم کے سٹریوٹائپس میں نظر آتے ہیں۔ان کے مطابق مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ جنسی طور
پر زیادہ متحرک انسان بھی اس جرم کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔ ایسے لوگ جو اپنے نظریات کی وجہ سے عورت کو صرف اور صرف ایک جنسی آبجیکٹ تصور کرتے ہیں ان میں بھی ریپسٹ ہونے کے میلانات ہو سکتے ہیں۔عورت کے لیے غصے اور نفرت کے جذبات رکھنے والے بھی ان افراد کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں جو کہ ریپ جیسے جرم کا ارتکاب کر سکتے ہیں۔اس سٹڈی میں انہوں نے اور بھی بہت سی وجوہات بیان کی ہیں جو اس میلان کا سبب بن سکتی ہیں لیکن اس سب کے لیے ضروری ہے کہ معاشرے کے جنسی رجحانات کا کوئی مطالعہ موجود ہو۔ ایسا نہیں ہے تو کم از کم ریپ کے جرم میں سزا پانے والوں کا ڈیٹا بنک ضرور موجود ہونا چاہیے۔اس کے تجزئیے سے جنسی جرائم کی طرف مائل کرنے والے رحجانات کی طرف راہمنائی ملے گی۔ہمارا مین سٹریم میڈیا ایسی کوئی بھی تجویز دینے سے قاصر رہا ہے۔وہ واقعات کی سٹریو ٹائپ انداز میں رپورٹنگ شروع کر دیتا ہے جس میں معاملہ فہمی، تجزیے اور رپورٹنگ سے زیادہ جذباتی کا عنصر زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔میڈیا خود کار اور غیر محسوس طریقے سے لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کرتا ہے۔یہ میڈیا ہی ہے جو سماج کے بڑے سانحات سے پیدا ہونے والی تشویش کو چالاکی سے تحلیل کردیتا ہے اور بعض اوقات معمول کے واقعات کو انوکھا، زوردار اور پر اثر بنا کر ڈرامائی انداز میں پیش کرتا ہے۔کوئی واقعہ کتنا سنگین اور کتنا عام ہے، اس بات کا فیصلہ میڈیا کرتا ہے۔کتنی عجیب بات ہے کہ میڈیا جب تک چاہتا ہے ہمیں واقعہ یاد رہتا ہے اور جب وہ ’معاملات‘ کو لپیٹتا ہے تو ہم بھی اسے بھول جاتے ہیں۔یہیں سے میڈیا کے کردار پر شک ہوتا ہے۔جب تک ہم اپنے اردگرد کے حالات کو تبدیل نہیں کریں گے، ٹیبوز کی دیواریں نہیں گرائیں گے، تب تک ’صلہ‘ یونہی ڈرتی رہی گی اور زیب یونہی مرتی رہے گی۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.