بلوچستان ، حکومتیں اور محلاتی سازشیں(3)

13

نواب محمد اکبر خان بگٹی اور بے نظیر بھٹو کے قتل کے واقعات پرویز مشرف کی آمریت کے سیاہ دور میں پیش آئے ۔ 27دسمبر 2007ءکو بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں ۔ اس سانحے کے ردعمل میں بلوچستان کے سندھ سے متصل اضلاع میں پرتشدد احتجاج ہوا۔ قومی تنصیبات و املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ 2008ءکے انتخابات ایسے دنوں میں ہوئے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا سانحہ ابھی تازہ تھا۔ بلوچستان میں اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے تحت پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ، نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔ پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ ن اور جمعیت علماءاسلام نے اے پی ڈی ایم کے فیصلے سے منحرف ہو کرپوری طرح انتخابات میں حصہ لیا۔ جماعت اسلامی قومی و صوبائی سطح پر الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کے ساتھ تھی ۔ اور تحریک انصاف بھی بائیکاٹ کی صف میں شریک تھی ۔ بلوچستان میں نیشنل پارٹی ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور بی این پی مینگل نے یقینا اس بائیکاٹ کا نقصان اُٹھایا۔ البتہ نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے پھر بھی آزا د حیثیت سے اپنے چند لوگ انتخابات میں حصہ لینے کےلئے کھڑے کر رکھے تھے جن میں چند کامیاب بھی ہو گئے ۔ بائیکاٹ کی وجہ سے جمعیت علمائے اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی، اور پیپلز پارٹی کو فائدہ ہوا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے برتری حاصل کر لی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بننے کے امکانات روشن ہو گئے ۔ اس طرح بلوچستان کے کئی آزاد ارکان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ۔ صوبے میں پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام ف(ف) ،بی این پی عوامی، عوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق پر مشتمل مخلوط حکومت بن گئی۔ جبکہ نوابزادہ طارق مگسی آزاد بینچ پر بیٹھ گئے۔ پیپلز پارٹی نے نواب اسلم رئیسانی کوپارلیمانی لیڈر چن لیا ۔جس دن سراوان ہاﺅس میں ان کے پارلیمانی لیڈر بنانے کا اعلان ہوا تو اجلاس کے معاً بعد سراوان ہاﺅس ہی میں پیپلز پارٹی کے میر صادق عمرانی نے فیصلے سے اختلاف کیا۔تاہم فیصلہ اکثریت کا تھا اور نواب اسلم رئیسانی وزیر اعلیٰ بن گئے ۔پینسٹھ کی اسمبلی میں سوائے چند کے سب ارکان وزیر و مشیر بنا دئیے گئے ۔یہاں تک کہ مسلم لیگ نواز کے کیپٹن عبدالخالق اچکزئی کو بھی وزارت دے دی گئی ۔ مسلم لیگ قائد اعظم کے شیخ جعفر خان مندوخیل نے وزارت نہیں لی ۔لیکن شیخ جعفر خان مندوخیل اس اسمبلی میں متحرک رہے جہاں ضروری سمجھتے با معنی اور وزنی تنقید ضرور کیا کرتے تھے ۔نواب اسلم رئیسانی اور آصف علی زرداری کے درمیان کچھ عرصہ بعد تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ادھر صوبے اور کوئٹہ میں امن و امان کی صورتحال بہت خراب تھی۔وفاقی حکومت بھی بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے میں مطلق ناکام تھی ۔ ہزارہ برادری پر بڑے سفاکانہ حملے ہوئے ،سینکڑوں مرد و خواتین اور بچے فرقہ وارانہ دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ گئے ۔آبادکاروں کا بھی سینکڑوں کی تعداد میں قتل عام کیا گیا۔ اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں وقفے وقفے سے اور منظم طریقے سے ہوتی رہیں ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے بلوچستان حکومت کے بارے عبوری حکم نامے کے بعد صوبے میں آئینی بحران نے جنم لیا۔ سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری بارہ اکتوبر 2012 نے اس عبوری حکم میں قرار دیا کہ بلوچستان حکومت شہریوں کے جان و مال کو تحفظ دینے میں نہ صرف ناکام ہو چکی ہے بلکہ صوبائی حکومت حکمرانی کی اہلیت بھی کھو بیٹھی ہے ۔سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا کہ صوبے میں خفیہ اداروں کی مداخلت بھی ثابت ہوگئی ہے ۔ اور وفاقی حکومت کو عوام کے جان و مال کے تحفظ کےلئے اقدامات اُٹھانے کا کہا۔ سپریم کورٹ کے بارہ اکتوبر کے اس حکم کو پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے بد خواہوں نے اپنے مفادات کےلئے استعمال کیا۔ نگران حکومت کےلئے بھی بھاگ دوڑ ہو رہی تھی ۔ حز ب اختلاف کا قائد بننے کےلئے دوڑ دھوپ کی جا رہی تھی ۔ اُس وقت کے اسپیکر محمد اسلم بھوتانی جو آئندہ کی نگران حکومت میں اپنے بڑے بھائی سردار صالح محمد بھوتانی کو نگران وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے تھے ۔ اسلم بھوتانی اسلام آباد میں جا کر بیٹھ گئے اور وہیں سے حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں کرتے رہے ۔ نواب اسلم رئیسانی نے اسپیکر کو اسمبلی اجلاس بلانے کا کہا مگر اسلم بھوتانی نے انکار کر دیا۔ اور جواز یہ پیش کیا کہ عدالت کے حکم کے بعد اسمبلی اجلاس طلب کرنا توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے ۔ اسپیکر نے گورنر بلوچستان کو بھی لکھا تھا کہ وہ کورٹ کے حکم کو مد نظر رکھ کر اسمبلی نہ بلانے کا فیصلہ کریں۔ یہ وقت تھا کہ جب نواب اسلم رئیسانی اور اُن کے اتحادی اس بات پر متفق تھے کہ اسپیکر اسلم بھوتانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے ۔اسپیکر کو بھی ان کے ارادوں کو علم تھا۔ چونکہ اسلم بھوتانی اپنی بات پر اڑے رہے اور وہ مسلسل اسمبلی اجلاس کی صدارت سے انکار کرتے رہے ۔ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اس پر بھی اسمبلی میں کافی بد نظمی دیکھی گئی ۔آخر ِ کا 26 دسمبر 2012 کواسلم بھوتانی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹا دے گئے ۔ جمعیت علماءاسلام کے مطیع اللہ آغا جو کہ ڈپٹی اسپیکر تھے ، اسپیکر بنائے گئے اور بی این پی عوامی کی ڈاکٹر فوزیہ مری صوبے کی پہلی خاتون ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئیں۔ اسلم بھوتانی نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کوبلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔لیکن ہائی کورٹ نے ان کی درخواست خارج کر دی۔ گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی بلوچستان حکومت کے معاملات سے الگ نہ تھے ، اُن کے بھائی نوابزادہ طارق مگسی تقریباً ساڑھے چار سال بعد منظر عام پر آئے اور اسمبلی آتے ہی انہوں نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی درخواست دے دی۔نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی صوبائی حکومت سے برابر مستعفیٰ ہونے کا مطالبہ کر تی رہیں۔ خصوصاً ان کے نشانے پر جمعیت علمائے اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی تھیں۔10جنوری 2013ءکو علمدار روڈ پر دو خود کش حملوں کے بعد جاں بحق افراد کی میتیں علمدار روڈ پر رکھ کر طویل دھرنا دیاگیا۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کوئٹہ آئے ۔ ہزارہ برادری کے معتبرین ، شیعہ تنظیموں نیز ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے ان کے سامنے بھی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ رکھا ۔ پیپلز پارٹی کے رُکن قومی اسمبلی ناصر علی شاہ نے بھی گورنر راج کا مطالبہ کیا۔ نواب رئیسانی کے خلاف در اصل محلاتی سازشوں کا جال پہلے ہی بچھ چکا تھا۔چناں چہ اس دھرنے کے بعد 14جنوری 2013ءکو صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ دراصل نواب اسلم رئیسانی کے خلاف محلاتی سازشوں کا دور دورا تھا ، دیکھا جائے تو گورنر راج میں بھی امن بحال نہ ہو سکا۔ ہزارہ ٹاﺅن میں بارود سے بھرے پانی لانے والے ٹینکرکے ذریعے دھماکہ کیا گیا جس میں سو سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ امن کی صورتحال جام یوسف کے دور میں بھی بد ترین تھی بلکہ اس دور میں مسلح تنظیمیں قوی ہوتی رہیں۔ اور 2013ءکے عام انتخابات کے بعد بھی بھی بد امنی برقرار رہی ۔نواب رئیسانی کا آخری دنوں میں اپنی جماعت اور دوسرے حمایتیوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ تاہم جمعیت علماءاسلام ف اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی آخری وقت تک نواب رئیسانی کے ساتھ رہیں۔ جیسا کہ کہا گیا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی جو کہ اسمبلی میں نہ تھیں مگر وہ برابر نواب رئیسانی کی حکومت کو کوستی رہیں ۔اسمبلی کے اندر وہ ارکان جو نواب رئیسانی ،جے یو آئی اور بی این پی عوامی کے مخالف تھے کا پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی سے رابطہ اور گٹھ جوڑ تھا۔ 13مارچ 2013ءکو گورنر راج ہٹایا گیا ۔ نواب اسلم رئیسانی نے اپنا منصب پھر سے سنبھال لیا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے پھر بھی اسے استعفادینے پر مجبور کیا جاتا رہا ۔ مگر انہوں نے اپنی حکومت کی مدت پوری ہی کر لی ۔ اب ان کے پیش نظر نگران وزیر اعلیٰ اور کابینہ کا انتخاب تھا ۔ آٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نگران وزیر اعلیٰ و کابینہ حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضا مندی سے نامز د کئے جاتے ہیں۔اس مقصد کےلئے جمعیت علماءاسلام نے وزارتوں سے استعفا دے کر اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی درخواست دے دی۔ اس معاملے پر سابق اسپیکر اسلم بھوتانی کی نظر تھی اسی مقصد کے تحت نوابزادہ طارق مگسی نے پہلے ہی قائد حزب اختلاف کےلئے درخواست دی تھی ۔ اسلم بھوتانی ، شیخ جعفر خان مندوخیل اور نوابزادہ طارق مگسی نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔ اور یہ موقف اختیار کیا کہ پانچ سال وزارتوں پر رہنے والے آخری دنوں حزب اختلاف کی نشستوں پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں ؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے چنانچہ عدالت نے طارق مگسی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ اسپیکر اسلم بھوتانی اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے سے پہلے ہی اسمبلی کا کچھ ریکارڈ الماری کا تالہ توڑ کر لے گئے ۔ جو واپس نہیں کیا گیا۔ اسمبلی قواعد کے مطابق کوئی بھی رکن یا جماعت کسی بھی وقت حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنے کا حق رکھتی ہے ۔چونکہ رائے عامہ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت کے خلاف بن چکی تھی۔ لہذا عدالت نے بھی فیصلہ اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے بر خلاف دیا۔ گویا یہ فیصلہ درست نہ تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جمعیت علمائے اسلام اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتی ۔ تاکہ اسمبلی کے اس ضابطے اور قاعدے کی وضاحت آجاتی ۔ نواب غوث بخش باروزئی نگران وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے ۔پیپلز پارٹی کے اندر اُکھاڑ پچھاڑ شروع ہو چکی تھی ۔ پارٹی کے صوبائی صدر لشکری رئیسانی نے پہلے ہی صوبائی صدارت اور سینیٹ کی رکنیت سے استعفا دے دیا تھا۔ اور نواب اسلم رئیسانی بھی پارٹی سے الگ ہو گئے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے علی مدد جتک نے نواب رئیسانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ ان کے ساتھ آغا عرفان کریم اور درپردہ پیپلز پارٹی کے دیگر ارکان اسمبلی کھڑے تھے ۔علی مدد جتک کے پاس خوراک کی وزارت کا قلمدان تھا ۔ نواب رئیسانی نے اسے کابینہ سے نکال دیا ، جب وہ سُدھر گئے تو پھر صادق عمرانی کی جگہ اس کومواصلات و تعمیرات کا قلمدان سونپ دیا ۔ جام یوسف کی حکومت کی طرح نواب رئیسانی کی حکومت میں بھی بری طرز حکمرانی ،عدم شفافیت ،بد عنوانی ،اقرباءپروری بیوروکریسی کو ماتحت رکھنے کی داستانیں زبان زد عام تھیں۔ 2013ءکے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کا بلوچستان سے مکمل صفایا ہو گیا۔( جاری ہے )

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.