اصغر خان کی یاد میں

11

ریٹائرڈ ائرمارشل اصغر خان کی وفات کے ساتھ ہی پاکستان نے اپنا سب سے معزز سیاستدان کھو دیا ہے جو اپنی دیگر انتہائی غیرمعمولی کامیابیوں کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ اپنی سیاسی ناکامیوں اور غلطیوں کے باوجود وہ ایک عظیم انسان بننے کیلئے پیدا ہوئے تھے۔ دنیا کی ایک مقبول ائرفورس کے کم عمر ترین سربراہ کی حٰثیت سے انہوں نے کارکردگی کی انتہاء کر دی۔ وہ پاکستان ائرفورس کے حقیقی معمار تھے اور اس حیثیت میں انہوں نے پاکستان ائرفورس کو ایک ایسی فورس بنا دیا جو آج تک دنیا کی بڑی افواج میں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان ائرفورس کو ان کی موجودگی میں اس بات کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ جعلی طیارے ظاہر کئے جائیں جو کہ وزارت داخلہ نے اس لئے ظاہر کئے تھے تاکہ فورسز کا گرتا ہوا مورال بڑھائے جائیں کیونکہ اس کے جنرلزکی کارکردگی سب پر عیاں ہو گئی تھی۔ وہ تاریخ کے بارے میں سچا نظریہ رکھتے تھے اور انہیں اپنے اچھے اندازوں اور تنقید کیلئے ہمیشہ جاری رکھا جائے گا جو انہوں نے پاکستان کی جنگوں اور ان تنازعات کے متعلق کی جن سے پاکستان ایوب خان اور ضیاء الحق کے ادوار میں دوچار ہوا تھا۔ کیونکہ ان ادوار میں قومی افواج کو کرائے کی فوج بنا دیا گیا اور جنرل مشرف نے کارگل میں خود شکستگی کا کردار ادا کیا اور پھر امریکی ڈکٹیشن کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے جس میں ان سے کہا گیا تھا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا پھر ان
کے ساتھ۔ اصغرخان ان سب واقعات کے ناقد تھے۔ میری ان سے تھوڑی واقفیت تھی لیکن میں انہیں ایک ایماندار اور بااصول شخص کی حیثیت میں جانتا تھا۔ میں نے جرات کرتے ہوئے انہیں تجویز دی کہ وہ سیاستدان کی بجائے ایک مختلف کردار ادار کریں۔ مثال کے طور پر وہ پاکستان کے تیزی سے زوال پذیر معاشرے کیلئے سماجی مصلح کا کام کرسکتے تھے۔لیکن اصغرخان ایک مضبوط اعصاب کے مالک انسان تھے اور وہ سیاست میں مسلسل ایسے کام کر رہے تھے جو دوسروں کیلئے حیران کن تھے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ ناکام رہے۔ جنرل ضیاءکی حمایت کرنا ان کا سب سے غلط فیصلہ تھا اور وہ اس پر ہمیشہ پچھتائے۔اپنی تھوڑی خامیوں کے باوجود وہ مجموعی طور پر ان لوگوں کیلئے رول ماڈل تھے جو ان کے بااصول ہونے پر یقین رکھتے تھے۔ بععد میں انہوں نے جنرل ضیاء کی حکومت کا تختہ الٹے کیلئے بینظیر اور نصرت بھٹو سے اتحاد کرلیا اور اس طرح انہوں نے اپنی غلطیوں کی تلافی کی کوشش کی۔ انتخابی سیاست ان کیلئے موزوں نہیں تھی، وہ اپنی پارٹی کو عوامی طور پر منظم نہیں کر سکے اور پھر ان کے بیٹے عمر اصغرخان کے قتل نے بھی انہیں توڑ پھوڑ کررکھ دیا۔ ایک باضمیر شخص ہونے کے ناطے وہ صرف خاموش تماشائی بن کران قوتوں کے کرتوتوں کا نظارہ نہیں کر سکتے تھے جو سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں کی جوڑ توڑ میں ج±تی تھیں۔ وہ کئی الیکشن نہ جیت سکے اور سیاست کو نہیں سمجھ پائے۔ تاہم ان کا جمہوریت میں شاندار کردار اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ بوناپارٹ طرز کے جرنیل اور انٹیلیجنس ایجنسیاں سیاست میں اپنا حتمی کردار برقرار رکھنے کیلئے کتنا گندا کھیل کھیل رہے ہیں۔انیس سو چھیانوے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں انسانی حقوق پر پٹیشن دائر کی اور سار کچہ چٹھہ کھول دیا۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ کیسے آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل نے بینظیر بھٹو کو انیس سو اٹھاسی میں شاندار فتح حاصل کرنے سے روکنے کیلئے جوڑ توڑ کی سیاست کی تھی۔ اور اس کے بعد کیسے آئی ایس آئی نے ان کی غیرمثالی عوامی مقبولیت کے باوجود انہیں دو مرتبہ الیکشن ہروایا تھا۔
چنانچہ اصغرخان نے ملک کے سامنے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس ا?ئی اور دیگر ماورائے آئین عوامل کے متعلق کردار کو بے نقاب کیا جو انیس سو نوے کی دہائی میں بینظیر بھٹو کے خلاف استعمال ہوا تھا۔آئی جے آئی کی تخلیق اور نواز شریف کو جنرل ضیاءکا جانشین بنانا جمہوریت کے خلاف انہی سازشوں کا حصہ تھا۔ ان کا اصولی موقف یہ تھا کہ جرنیل سیاست سے دور رہیں اور جمہوریت کو کام کرنے دیں۔یہ ثابت کرنے میں سولہ سال لگ گئے کہ انیس سو نوے کے جنرل الیکشن میں ایوان صدر میں ایک الیکشن سیل بنایا گیا تھا تاکہ الیکشن پر اثرانداز ہوا جا سکے اور اس میں جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ جو اس وقت آرمی چیف تھے اور جنرل ریٹائرڈ اس درانی جو اس وقت آئی ایس آئی کے سربراہ تھے کا بھی کردر تھا۔ انہوں نے الیکشن سیل کی غیرقانونی سرگرمیوں میں حصہ لے کر فوج اور آئی ایس آئی کی بطور ادارہ ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی کی تھی۔ چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے یہ آبزرویشن دی کہ آئی آیس آئی اور ایم آئی پاکستانی
سرحدوں کی حفاظت اور وفاقی حکومت کو مدد دینے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ان کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے، وہ سیاسی حکومتوں کی تشکیل یا کسی بھی سیاستدان یا سیاسی جماعت کو کسی بھی طریقے سے کوئی فیور نہیں دے سکتیں۔ اس حوالے سے جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے عدالت کو تفصیل فراہم کی ہے کہ نواز شریف، غلام مصطفیٰ جتوئی اور بہت سے دیگر سیاسی رہنماو¿ں کو پیسے دیئے گئے تھے۔تاریخی فیصلے نے یہ بات بھی طے کر دی کہ اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ اور جنرل ریٹائرڈ اسد درانی اور دیگر لوگوں سے مل کر الیکشن سیل بنانے میں مدد دی تھی۔ یہ بات بھی بتائی گئی کہ اعلیٰ عہدیداروں نے قومی خزانے سے چودہ کروڑ روپے کی رقم نکال کر بھٹو مخالف سیاستدانوں کو دی تھی۔ عدالتی فیصلے میں ان لوگوں کے خلاف آرٹیکل دو سو پینتالیس کے تحت کارروائی کا بھی حکم دیا گیا تھا۔ اس میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کی طرف سے حکومت کوغیرمستحکم کرنے یا الیکشن کمیشن میں مداخلت کرنے کے کردار پر بھی بات ہوئی تھی۔کسی بھی ملک کے اندر ریاست کی رٹ کو اس وقت موثر سمجھا جاتا ہے جب اس کی اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کو حرف بحرف نافذ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کو اس کیس پرفیصلہ دینے میں سولہ برس لگ گئے۔ چونکہ آرمی چیف اور چیف جسٹس دونوں ہی حالیہ عدالتی فیصلوں کی وجہ سے ایک آزمائش سے دوچار ہو چکے ہیں تو ضروری ہے کہ ائرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کی انیس سو چھیانوے کی پٹیشن پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا تھا اسے نافذ کرکے اس ایماندار اور بااصول سپاہی کو حقیقی خراج عقیدت پیش کیا جائے۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.