نہ میں مومن وچ مسیت آں نہ میں وچ کفر دی ریت آں!

26

مسلم لیگ نواز کی میڈیا ٹیم ایک مدت سے عمران کے پیچھے پڑی تھی۔ بڑے بڑے الزامات لگائے گئے، مالی طور پر نواز کے برابر کرپٹ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اسٹیبلشمنٹ کا ٹاوٹ بتایا گیا، مگر لوگوں نے پینتیس برس سے اسٹیبلشمنٹ کی ٹاوٹی کرتی آ رہی جماعت کے ان الزامات کو بھی گھاس نہ ڈالی۔ کچھ کارگر ثابت نہ ہوا،کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ کیونکہ سچ یہی تھا کہ ان تمام باتوں کی بنیاد پر اسکا نواز سے کوئی موازنہ نہیں بنتا تھا۔ کمرشل لبرلز نے اسے طالبان خان کہا مگر وہ نعرہ بھی کسی گندی گالی کیطرح انہی کے منہ پر آ لگا کہ اگر وہ افغان طالبان کی بات کرتا تھا تو یہاں دوسری جماعتیں لشکر جھنگوی جیسی جماعتوں کیساتھ سیٹ ایڈجیسٹمنٹ کرتے پائی جاتی تھیں۔ ایل ای جے کی قیادت کو سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتیں سرکاری پروٹوکول دیتی تھیں اور رانا ثنا اللہ جیسے وزرا کے ان سے تعلقات بھی کسی سے پوشیدہ نہ تھے۔ مذہبی لوگوں نے مذہب کا استعمال کر کے جوئے کے طعنے دئیے۔ خود عمران نے اپنے انٹرویو میں بے باک طریقے بیٹنگ کے پیسوں سے قرض اتارنا قبول کیا۔ شاید اکثریت کو اسکے مذہبی یا لبرل ہونے سے کچھ خاص غرض نہ تھی۔ عوام کم و بیش ہر معاملے میں بیباکی کے ساتھ سچائی پسند ثابت ہو رہی تھی۔ مگر یہ کیا کہ اچانک ایک غیر سنجیدہ ایشو اتنا سنجیدہ بن کر ا±بھرا؟ سوال جتنا مشکل ہے جواب اتنا ہی آسان ہے۔ بات بہت سادہ سی ہے۔ لوگوں کی اکثریت نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کی سیاست سے محض اس لیے عاجز تھی کہ انکی قیادتیں جمہوریت کو حصول اقتدار، وراثت اور ذاتی مفادات سے آگے نہیں دیکھ پا رہی تھیں۔ عوام جو گزشتہ ستر برس سے ہر آنیوالے دن کے بدترہونے کی شاہد تھی ،وہ انکے اس خود غرضانہ رویے سے تنگ آ چکی تھی۔ سیاستدانوں سے لیکر ملک کے ہر شعبے ہر ادارے ہر طبقے تک مالی کرپشن ایک حقیقت تھی۔ مگر دونوں جماعتوں کی قیادتوں نے کبھی اسے اشو مانا ہی نہیں، کبھی اسپر ایسا فوکس کیا ہی نہیں جیسا عمران نے کیا۔ وہ ہمیشہ خود پر لگے الزامات میں خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف رہیں اور کبھی سنجیدگی سے غیر جانبدار احتساب پر کوئی پیش رفت نہ دِکھاسکیں۔ ہر سطح پر انکی ذات اور ذاتی مفادات ہی انکی اولین ترجیح رہے۔ اس مختصر سی دو لفظوں کی بات کو جتنا مرضی لاسٹک ڈال کر لمبا کر لوں میں مگر دو حرفی بات یہی ہے کہ ”عوام اپنی ذات کے گرد گھومنے والی مفاد پرست خود غرض سیاست سے ا±کتاچکے تھے“۔اوریہ بھی کیا خود غرضی ہے کہ عوامی جدو جہد کے ہر دوسرے تیسرے سال ستاسٹھ برس کی عمر میں آپکو اپنی شادی یاد آ جاتی ہے؟ آپکو یاد آتا ہے کہ آپکو کبھی سچا پیار نصیب نہ ہوا ،کبھی اچھی اور پر سکون ازدواجی زندگی میسر نہ ہوسکی؟ یہ سب باتیں اگر آپ اپنے سیاسی احداف مکمل کرنے کے بعد کہیں اپنی بائیوگرافی یا انٹرویو میں بیان کرتے تو شاید انکے کچھ اور معنی لیے جاتے، آپکے چاہنے والوں کو آپ سے بجا طور پر ہمدردی ہوتی۔وہ شرمندگی کی بجائے ان سب باتوں پر فخر محسوس کرتے کہ ہمارے لیڈر نے ہم پر اپنی ذاتی خواہشات قربان کر دیں۔ مگربد قسمتی سے ایسا کچھ ثابت نہ ہوسکا۔
اس خبر کے قابل قبول اور اس اشو کے پر اثر یا نقصان دہ ہونے کی دوسری اہم وجہ کہیں خان صاحب کے ماضی کی چھاپ بھی ہے۔معرو ف الزامات درست ہوں یا غلط، ماضی کی چھاپ سے نکلنا تقریباً نا ممکنات میں سے ہی ہے۔ اسکی بہترین یا بدترین مثال آصف زرداری ہی ہیں جو بنا کچھ ثابت ہوئے، گیارہ سال جیل کاٹنے اورعدالتوں سے رہائی پانے کے باوجود، آج بھی مخالفین میں کرپٹ ہی سمجھے جاتے ہیں۔سو جنگ گروپ اور میاں صاحبان کے پینل کے صحافیوں کی محنت آخر کار رنگ لائی اور حملہ کامیاب ہوا۔حملے کو کامیاب کروانے میں خودتحریک انصاف نے بھی اپنی حماقت سے اہم رول ادا کیا۔ ایک جھوٹی خبر پر وضاحت پیش کر کے تحریک انصاف نے عمران سے دوستی نہیں دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔خود عمران کوبطور ایک مقبول لیڈراپنے ماضی کی چھاپ کے حوالے سے ان معاملات میں جسقدر محتاط ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہوئے۔ حق تو یہ تھا کہ وہ اپنی شادی کاکوئی نیا پروپوزل سامنے لانے کی بجائےکم از کم اگلے آٹھ نو ماہ تقوی اور پرہیز گاری سے گزارتے۔ شادی جیسے ذاتی اور نجی(تحریک انصاف کے ان لوگوں کے لیے جو پبلک فگر کی نجی زندگی پر بات کرنا برا سمجھتے ہیں)معاملات کو ملکی سیاست کے ان اہم اور فیصلہ کن دنوں سے دور رکھتے۔
خیر ،ہمارے تحریک انصاف کے جودوست آجکل میری تحریروں کا بہت برا مان رہے ہیں انکے لیے عرض کرتا چلوں کہ، ہم تجزیہ نگاری پسند نا پسند کی بنیاد پر نہیں کر سکتے اور نہ ہی خلا میں رہتے ہیں جو زمینی حقائق سے اسقدر ناواقف ہوں۔محسوس کر سکتے ہیں کہ اس سارے معاملے کو ملک میں موجود کنزرویٹو اور لبرل سیکولر حلقوں کی اکثریت کے نزدیک حتمی طور پرکیسے دیکھا جائے گا۔سچ پوچھیں تو یہ دو دھاری تلوار کا وار ہے۔ مکمل سنجیدگی سے سمجھتا ہوں کہ عمران کو مس بشرا ع±رف پنکی کے اشو نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔بشری بی بی کے سابقہ شوہر مانیکا صاحب کا بیان روایت پسند اور بنیاد پرست حلقوں میں کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے (اور مستقبل میں بھی شاید دیکھا جاتا رہےگا)وہ یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا۔مت بھولیں کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں اوریا مقبول جیسے عریانی ریسرچرزآباد ہیں،جہاں کا م±لا بھائی بہن کے ایک ساتھ گانا گانے پر معترض رہتا ہے اور جہاں آج بھی شاید لاکھوں کی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو تصویر بنوانا گناہ سمجھتے ہیں۔ جہاں آئے دن غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔تحریک انصاف کے دوستوں سے بس اتنی گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ، بھائی معذرت کیساتھ اگر تو یہ آپکی شرمندگی ہے تو یہ مجھ خاکسار کو برا بھلا کہنے سے کم ختم نہیں ہوگی۔ پانچ بچوں والی نانی سے شوہر کہے ”جا سمرن جی لے اپنی زندگی“ تو میں آپ جیسے بھلے مانس لوگوں کی ذہنی حالت پر محض افسوس ہی کر سکتا ہوں۔ اس لمحے اپ اپنا آپ دیکھنے سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آپ کسقدر کمزور اور فلمی بیانیئے کا دفاع کر رہے ہیں۔یہ نہ مذہبی حلقوں کے حلق سے اتر پا رہا ہے نہ حقیقت پسند لبرل سیکولراسے قبول کر پا رہے ہیں۔لبرلز کے لیے آپکے روحانیت کے ع±ذر ناقابل یقین ہیں اور مذہبی لوگوں کے لیے آپکا ماضی بھلانا ممکن نہیں۔ ویسے یہ کونسی روحانیت ہے جو شادی کی محتاج ہے؟ افسوس آپ نے تو روحانیت پر بھی سوال اٹھا دئیے۔اور کیا لبرل ہونے کے لیے دوستوں کی بیویوں پر نظر رکھنا اور مذہبی ہونے کے لیے متعدد شادیاں کرنا ضروری ہے؟ اگر لبرلزم اور مذہب پسندی کی یہ تعریفیں ہیں تومیں تو اپنے سیکولر بابے کے انہی الفاظ پر اپنا بیان ختم کرنا چاہوں گا کہ ” نہ میں مومن وچ مسیت آں نہ میں وچ کفر دی ریت آں!

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.