بلوچستان، حکومتیں اور محلاتی سازشیں (4)

27

پانچ سال اسمبلیوں سے باہر رہنے کے بعدگیارہ مئی 2013ءکے عام انتخابات میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے بھر پور حصہ لیا۔آخر الذکر دو جماعتوں نے نمایاں کامیابی حاصل کرلی ۔ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ،فقط ایک نشست جیت سکی ۔یہ نشست قبائلی اثر و رسوخ کی بنیاد پر جیتی گئی ۔توقع تھی کہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل بڑی قوم پرست پالیمانی جماعت کے طور پر اُبھرے گی، مگر ایسا ممکن نہ ہوا ، محض سردار اختر مینگل اور گوادر سے حمل کلمتی کامیاب ہو سکے ۔ اس الیکشن میں مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر دس اُمیدوار کامیاب ہوئے جس کے بعد 7 آزاد ارکان بھی شامل ہو گئے ۔ ایک نشست عوامی نیشنل پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے ایک اُمیدوار کامیاب ہو سکے ۔ پرویز مشرف کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد مسلم لیگ قائد اعظم بھی پس منظر میں چلی گئی ۔ بلوچستان میں شیخ جعفر خان مندوخیل نے اپنا تعلق ق لیگ سے ہی جوڑے رکھا۔ جعفر خان مندوخیل نے اپنے ہم خیال لوگوں کوق لیگ کے ٹکٹ پر ا الیکشن لڑنے پر تیار کیا۔اور حیرت انگیز طور پر ق لیگ کے چار ارکان انتخابات میں کامیاب ہو گئے ۔ یعنی ان امیدواروں نے ووٹ اپنے اپنے قبائل اور حلقہ اثر کی بنیاد پر حاصل کئے ۔ ق لیگ خواتین کی مخصوص نشست پرڈاکٹررقیہ ہاشمی کو بھی منتخب کرنے میں کامیا ب ہوئی ۔ اس طرح اس اسمبلی میں ق لیگ کے اراکین کی تعداد پانچ ہو گئی ۔ شیخ جعفر خان مندوخیل ذہین اور ایماندار شخص ہیں ، انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ مسلم لیگ ق اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے ۔ مگر وہ بلوچستان میں نواب زہری کی سربراہی کے بجائے اپنی جداگانہ حیثیت کے ساتھ اسمبلی میں آنا چاہتے تھے ۔ دوئم شیخ جعفر خان مندوخیل اور میاں محمد نواز شریف کے درمیان تعلقات بھی کچھ اچھے نہیں رہے تھے ۔ کیونکہ پرویز مشرف کی گود میں بیٹھنے والوں میں شیخ جعفر خان مندوخیل بھی شامل تھے ۔ شیخ جعفر خان مندوخیل نے کمال تدبیر سے ق لیگ کو ن لیگ کی مخلوط حکومت کا حصہ بنایا۔ مخلوط کابینہ میں شیخ جعفر خان مندوخیل کو ریونیو ،ٹرانسپورٹ اورایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی وزارت دی گئی ۔ ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو ڈپٹی اسپیکر بنائے گئے۔ جب شیخ جعفر خان مندوخیل نے وزارت لی تو اس پر ق لیگ کے عبدالکریم نوشیروانی، قدوس بزنجو اور امان اللہ نوتیزئی نے فیصلہ کیا کہ وہ جعفر خان مندوخیل کے بجائے آپس میں کسی کو ق لیگ کا پارلیمانی لیڈر بنائیں گے۔وجہ یہ بتائی کہ جعفر خان کے ساتھ یہ معاہدہ یہ ہوا تھا کہ وزارت ق لیگ کے ارکا ن کے درمیان اڑھائی اڑھائی سال کے فارمولے کے تحت تقسیم ہو گی ۔اور جعفر خان مندوخیل نے اس معاہدے سے رو گردانی کر لی ۔پھر میر امان اللہ نوتیزئی وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ایکسائز ایند ٹیکسیشن نامزد کئے گئے تو وہ خاموش ہو گئے ۔ مخلوط حکومت مسلم لیگ نواز،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی ، ق لیگ اور مجلس وحدت المسلین پر مشتمل بنی۔ ن لیگ کے پاس اکیس ارکان کی اکثریت تھی ، مری معاہدہ جس میں مسلم لیگ ن ،نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے درمیان ایک لمبی بحث کے بعد یہ طے ہوا کہ پہلے اڑھائی سال کےلئے نیشنل پارٹی کو وزارت اعلیٰ دی جائے گی ۔ اس طرح ڈاکٹر عبدالمالک وزیر اعلیٰ بن گئے۔ ان کے سامنے مسائل و مشکلات کا انبار تھا ۔خراب امن اور مسلح گروہوں کی کاروائیاں الگ ایک اعصاب شکن مسئلہ تھا۔ ان گروہوں نے نیشنل پارٹی کو بھی ہدف بنا لیا۔ نیشنل پارٹی ماضی کے مو¿قف اور دعوو¿ں سے دستبردار ہوئی۔البتہ صوبائی خود مختاری کا نعرہ ان کے لبوں پر اس دوران موجود رہا۔ اپنی حکومت میں سب بہتر کا راگ ا لا پتی رہی ۔ ڈاکٹر عبدالمالک کی وزارت اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری اور لیگی اراکین اسمبلی کو برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔ ان اڑھائی سالوں میں ان کو بہت تنگ کئے رکھا۔ ن لیگی کبھی وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کا بائیکاٹ کرتے تو کبھی اسمبلی اجلاسوں کا۔ گویا ڈاکٹر مالک کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔ اسمبلی کے فلور پر بھی وزیر اعلیٰ اور دیگر لیگی ان کو کھری کھری سناتے۔ اس مخلوط حکومت کو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی جیسی مشکل اتحادی کا بھی سامنا تھا۔یہ جماعت اپنی بات پر اڑی رہنے کا مزاج رکھتی ہے۔پشتونخوا میپ نے وفاق سے صوبے کی گورنری بھی حاصل کرلی۔محمود خان اچکزئی کے بڑے بھائی محمدخان اچکزئی کو گورنر بلوچستان بنایا گیا۔ یہ جماعت ن لیگ کے بعد دوسرے بڑی پارلیمانی جماعت ہے۔ اس طرح اڑھائی سال کا بھاری عرصہ بیت گیا اور 24دسمبر 2015ءکو نواب ثناءاللہ زہری نے اگلے اڑھائی سال کےلئے وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھا لیا۔ جمعیت علمائے اسلام اپنے آٹھ اراکین ، بلوچستان نیشنل پارٹی اپنے دو، عوامی نیشنل پارٹی اور بی این پی عوامی اپنی ایک ایک نشست کے ساتھ اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھ گئیں۔در حقیقت جمعیت علمائے اسلام کا اختلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی سے رہا ہے ۔ ان دو قوم پرست جماعتوں سے بی این پی کے دونوں دھڑ ے بھی بدظن ہیں۔ نواب ثناءاللہ زہری اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان تعلقات بڑے خوشگوار اور تعاون کے رہے ۔ یعنی لیگیوں کے ساتھ جمعیت کا تعلق فرینڈلی ہے ۔جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی مخلو ط حکومت کو قوم پرستوں کی حکومت کہہ کر پکارتی رہیں۔ حالانکہ وزیر اعلیٰ مسلم لیگی تھا۔ مارچ 2015ءکے سینیٹ کے انتخابات کے دوران ن لیگ کے اندر ٹکٹوں کےلئے کھینچا تانی شروع ہوئی ۔ نواب زہری نے اپنے بھائی نعمت اللہ زہری اور اپنے بردار نسبتی آغا شہباز دُرانی کو سینیٹر منتخب کرایا۔ جان محمد جمالی جو کہ میاں نواز شریف کے نا پسندیدہ ہیں ۔الیکشن سے کچھ عرصہ قبل ن لیگ میں شامل ہوئے اور جعفرآباد سے رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے ۔انہیں اسپیکر بنایا گیالیکن اس کے باوجود جان جمالی نے اپنی بیٹی ثناءجمالی کو سینیٹ کا ٹکٹ دلوانے کے جتن شروع کر دئیے ۔ ٹکٹ نہ ملا تو انہیں آزاد حیثیت سے اُمیدوار بنایا۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق پارٹی کے اندر کے معاملات پر اتفاق رائے کےلئے کوئٹہ آئے۔ لیکن جان جمالی نے سعد رفیق کی بھی ایک نہ مانی۔اپنی بیٹی کے لئے سات ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے۔ اور خود جان جمالی نے بھی اپنا ووٹ پارٹی فیصلے کے بجائے اپنی مرضی سے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کے حق میں استعمال کیا۔ اور یہ بھی اعلان کیا کہ ا نہوں نے اپنے ووٹ کا استعمال ضمیر کے مطابق کیا ہے ۔ساتھ ہی جان محمد جمالی نے اعلان کیا کہ وہ ہم خیال ارکان کے ساتھ ملکر بلوچستان مسلم لیگ بنائیں گے۔ اس صاف بغاوت پر ن لیگ نے جان جمالی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کر لیا۔ جان جمالی کےلئے اسپیکر کے منصب پر بیٹھنے کی مزید گنجائش نہ رہی اور انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک آنے سے پہلے ہی استعفا دے دیا۔ ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو اسپیکر شپ کے خواہشمند تھے لیکن نواب ثناءاللہ زہری نے اپنی جماعت کی مس راحیلہ دُرانی کو اسپیکر منتخب کروایا پچھلی اسمبلی میں ق لیگ سے تعلق تھا اور ان کے فنڈز پارٹی کے مرد اراکین استعمال کرتے رہے ۔ نواب زہری سے عبدالقدوس بزنجو نالاں ہوگئے اورڈپٹی اسپیکر شپ سے استعفا دے دیا۔ یہ عہدہ آخر تک پُر نہ کیا جا سکا۔ جان محمد جمالی نے ردعمل میں نصیر آباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے ایم پی اےز پر مشتمل اتحاد بنانے کا شوشہ بھی چھوڑ دیا۔ لیگیوں کے درمیان یقینا مختلف حوالوں سے اختلافات ہوں گے۔مگر جب میاں محمد نواز شریف نا اہل ہو گئے ۔ شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنائے گئے تو بلوچستان کے لیگیوں کے تیور بھی بدلنا شروع ہوئے۔ نواز شریف مقتدرہ کے خلاف کُھل کر سامنے آگئے ۔اور نواز شریف کے خلاف بھی کھلاڑی سرگرم ہو گئے ۔بلوچستان میں اس تبدیلی کے بعد لیگیوں نے اندر ہی اندر جال بُننا شروع کر دیا۔ دیکھا جائے تو نواب زہری نے اپنا تعلق اس پورے عرصے میں کسی سے بھی خراب ہونے نہیں دیا۔ یہاں تک کہ وہ حزب اختلاف کے قائد مولانا عبدالواسع کو بھی ساتھ رکھنے میں کامیاب رہے ۔ چونکہ ہدف میاں محمد نواز شریف ہیں اس لئے اُن پر وار بلوچستان سے بھی ہوا۔حقیقت یہ بھی ہے کہ نواب زہری اول روز سے ہی اچھی ٹیم نہ بنا سکے ۔ پارٹی کے اندر سے انپڑ قسم کے لوگوں کو اپنے ارد گرد رکھا اور جو ذہین اور با صلاحیت لوگ تھے وہ در اصل اُن کے دست و بازو نہ تھے ۔ مثال کے طور پر انوار الحق کاکڑ نواب زہری کے حلف لینے کے ساتھ ہی صوبائی حکومت کے ترجمان بنائے گئے ۔لیکن یہ شخص مسلم لیگ نواز یا نواب زہری کے سودوزیاں سے لاتعلق تھے۔انوار الحق کاکڑ صوبائی حکومت کے ترجمان تھے ،حکومت پر آفت آئی تو وہ بھی پس منظر میں چلے گئے، ان کا اسطرح گوشہ نشین ہونا بالارادہ تھا۔وہ اس لئے کہ نوا ب زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے والوں کے ساتھ ان کا دماغ بھی شامل تھا۔ نواب زہری نے17افراد کو اسپیشل اسسٹنٹ،کوآرڈینیٹر،اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر،پولیٹیکل سیکریٹری اور اسسٹنٹ پولیٹیکل سیکریٹری کے عہدوں پر تعینات کر رکھا تھا جو کسی کام کے نہ تھے ۔بلکہ مفت میں حکومتی مراعات لیتے رہے۔ایک اور شخص جان اچکزئی کو وزیر اعلیٰ بلوچستان کا میڈیا کوآرڈینیٹر بنایا گیا۔ یہ شخص پہلے جو یو آئی ف میں تھے۔بلوچستان سے سینیٹ کی ٹیکنوکریٹ کی نشست پر جے یو آئی کے اُمیدوار بھی تھے ۔جے یو آئی نے کمال عیاری سے ان کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے ہی نہ دئیے ۔ وزیر اعلیٰ کے خلاف جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو جان اچکزئی اسلام آباد سے وزیر اعلیٰ کے ترجمان بنے رہے۔ اور ٹی وی چینلز پر اس شناخت سے ٹاک شوز میں بیٹھ کر گویا خود کو نمایاں کئے رکھا ہے ۔ جان اچکزئی بلوچستان حکومت کی اندر کے اُتار چڑھاﺅ سے لا علم تھے ،لیکن پھر بھی وہ خود کو ایک با خبر اور ماہر لیگی کے طور پر پیش کرتے رہے۔(جاری ہے )

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.