کچھ مزید زیادتیوں کے بارے میں

36

ملالہ یوسفزئی نوبیل انعام جیتنے والی دوسری پاکستانی شخصیت ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ نوبیل کی حق دار قرار دی جانے والی یہ دوسری پاکستانی شخصیت بھی ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہے۔ یہی نہیں بلکہ دوسری مرتبہ بھی ہم اپنے اس شہری کا بھرپور ساتھ نہیں دے رہے جس کی تعریف میں پوری دنیا رطب اللسان ہے۔1979 ہو یا 2014، سب کچھ تبدیل ہو گیا مگر کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا۔ ملالہ کو نوبیل انعام دیے جانے کے اس تاریخی واقعے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لہٰذا میں اس پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کروں گا تاہم مجھے جنوبی ایشیا میں بچوں کے حقوق کے وسیع موضوع پر سوچنے اور کہنے کی اجازت ضرور دیجیے۔پہلی بات یہ ہے کہ ملالہ کے ساتھ اس انعام کا مشترکہ حق دار قرار دی جانے والی دوسری شخصیت کیلاش ستیارتھی تھے جو بھارت میں بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔اس مشترکہ کامیابی سے واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں ملکوں میں بعض مخصوص حلقوں کی جانب سے ایک دوسرے کو ازلی مخالف قرار دیے جانے کے باوجود پاک بھارت مسائل، ان کا حل اور درحقیقت دونوں
ملکوں کا مقدر بھی ایک دوسرے سے وابستہ ہے۔مثال کے طور پر بھارت میں کیلاش ستیارتھی اب تک 80 ہزار سے زیادہ بچوں کو چائلڈ لیبر کی مصیبت سے چھٹکارا دلا چکے ہیں۔ پاکستان میں یہ موذی رحجان تاحال موجود ہے۔ بھارت میں ان کا کام اتنا ہی نازک اور خطرات سے بھرپور ہے جتنا کہ پاکستان میں ہو سکتا ہے۔اسی طرح بچوں کی تعلیم سے متعلق مسائل خصوصاً بچیوں کی تعلیم اور بنیادی حقوق ایک مشترکہ جدوجہد ہیں (پاکستان اور بھارت دونوں نے تعلیم کے حق سے متعلق قوانین بنا رکھے ہیں) اس میدان میں پاک بھارت مشترکہ جدوجہد کی ضرورت اور اہمیت کا احساس کرتے ہوئے نوبیل کمیٹی نے دونوں کو یقیناً درست تناظر میں رکھا۔دوسری بات یہ کہ کچھ عرصہ قبل مجھے برطانوی ٹی وی چینل فور پر ‘پاکستان کی مخفی ذلت’ کے عنوان سے اعلیٰ درجے کی دستاویزی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ بے گھر بچوں کی دل خراش داستان ہے جنہیں ہم تقریباً روزانہ اپنے اردگرد دیکھتے ہیں مگر ان پر دھیان نہیں دیتے۔پاکستان میں ایسے بے گھر بچوں کی تعداد کم و بیش 40 لاکھ ہے جو بذات خود ایک المیہ ہے، مگر بدترین امر یہ ہے کہ ان بچوں کی بڑی تعداد باقاعدگی سے جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے۔ ہم سب اس بارے میں جانتے ہیں، سفاکی پر مبنی ایسی لاتعداد کہانیاں موجود ہیں، مگر یوں لگتا ہے جیسے معاشرے کو اس کی فکر ہے اور نہ ہی حکومت کوئی پروا کرتی ہے۔کسی سماج کی ترقی کا اندازہ یقیناً اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے انتہائی کمزور ارکان سے کیا برتاو¿ کرتا ہے۔ اس پیمانے کو مدنظر رکھتے ہوئے بے گھر بچوں کے تحفظ کے حوالے سے ہمارا متضاد رویہ ناقابل معافی ہے۔وقت آ گیا ہے کہ حکومت بچوں کو زیادتی سے بچانے کے لیے واضح قوانین متعارف کرائے اور ایسے واقعات میں ملوث مجرموں کی گرفتاری اور ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے۔جب ہماری اگلی نسل کی بڑی تعداد کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے یوں غیرانسانی سلوک کیا جاتا رہے تو حکومت کا ہمیں طالبان سے تحفظ دلانے کا کیا فائدہ؟تیسری بات یہ کہ میں بچوں سے زیادتی کا مسئلہ خاندان کے اندر اٹھائے جانے کا خواہش مند ہوں۔ حال ہی میں مجھے متعدد ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جو بچپن میں ایسے ہی غیراخلاقی رویوں کا شکار ہوئے تھے، یہی نہیں بلکہ بعض لوگوں کو بیس اور تیس سال عمر میں بھی ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں یہ ناخوشگوار یادیں ان کے اذہان کو خوف اور اذیت میں مبتلا کیے رکھتی ہیں۔انڈین فلم ‘ہائی وے’ میں ویرا (عالیہ
بھٹ) نامی لڑکی کا کردار دکھایا گیا ہے۔ فلم میں ایک ‘انکل’ کی جانب سے ویرا کے ساتھ مسلسل بدسلوکی’ محض فلمی کہانی نہیں بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا ہم میں لاکھوں افراد کو سامنا ہوتا ہے۔میں پاکستان میں سالہا سال سے مسلسل یہ سنتا چلا آرہا ہوں کہ ‘مغرب’ میں بچوں کو بہت سے حقوق حاصل ہیں یہاں تک کہ اگر والدین انہیں تھپڑ بھی ماریں تو انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ جہاں مغرب میں بچوں کے تحفظ کے بعض قوانین حد سے زیادہ بے باک بنا دیے گئے ہیں وہیں عمومی طور پر یہ بہت اچھے قوانین ہیں اور ان سے بچوں کو بے حد تحفظ ملتا ہے۔بچوں سے متعلق جنسی رحجان حقیقی جرم ہے جو کہ ہمارے معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکا ہے اور اس کے آگے فوری بند باندھنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو ان بدنفس لوگوں کے ہاتھوں جو جذباتی اور نفسیاتی گھاو¿ لگتے ہیں وہ عمر بھر مندمل نہیں ہوتے اور بحیثیت معاشرہ ایسے واقعات کو روکنا ہماری ذمہ داری ہے۔مورخ کی حیثیت سے عموماً میں سماج میں کڑی تبدیلی کے حوالے سے قنوطی رویہ رکھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں ‘انقلاب’ کے بارے میں شبہات کا شکار ہوں۔ تاہم اگر معاملات واقعتاً تبدیل ہو رہے ہیں اور عوام جاگ اٹھے ہیں تو کیا ہمیں یہ آغاز اپنے معاشرے کے انتہائی کمزور اور سب سے چھوٹے ارکان کے تحفظ سے نہیں کرنا چاہئے؟ حقیقی انقلاب اسی صورت آئے گا۔

 

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.