تعمیری تعاون

44

امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی سیکیورٹی امداد روکنے کیلئے جو سب سے بڑی دلیل دی تھی اس سے عدم اتفاق کئے بغیر نیویارک ٹائمز میں چھ جنوری کو ایک آرٹیکل شائع ہوا۔ اس آرٹیکل میں امریکی صدر کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ دیگر سفارتی ذرائع بھی استعمال کریں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا پاکستان سے زیادہ تعمیری تعاون ممکن ہے۔ اسی نکتے پر مزید زور دیتے ہوئے ایڈیٹوریل میں ایک اور سمجھدارانہ اور بروقت تجویز یہ بھی دی گئی کہ صدر کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اپنی نئی دوستی کا فائدہ اٹھا کر حقانی نیٹ ورک اور طالبان کو خلیجی ممالک سے ملنے والے فنڈز روکنے کی کوشش کریں۔اس حقیقت پر کسی کو بھی شک نہیں رہا کہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کو کئی سالوں سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے فنڈز مل رہے ہیں۔ مقامی کرنسی مارکیٹ آپریٹرزآنکھیں بند کرکے برسوں سے ان رقوم کا انتقال یقینی بناتے رہے ہیں۔ پاکستان کی انیس سو نوے کی ’کھوئی ہوئی دہائی‘ میں اصل حکمرانوں نے ان
فنڈز کو اپنی فوجی کارروائیوں اور گورننس کیلئے استعمال کیا۔ رقوم کی یہ منتقلی نائن الیون کے بعد بھی جاری رہی لیکن اس بار یہ فنڈز سیدھے افغان طالبان کو ملتے رہے ہیں جن میں حقانی نیٹ ورک کے وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کہ سترہ سال سے جاری افغان جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کی طرف بھاگتے رہے ہیں۔ پاکستان نے جون دوہزار چودہ میں آپریشن ضرب عضب لانچ کر کے دہشتگردوں کی سرگرمیوں کو کامیابی سے روک لیا ہے۔ یہی آپریشن دوہزار سترہ میں آپریشن ردالفساد میں تبدیل ہو گیا۔
تاہم افغان طالبان کے گروپوں جن میں حقانی بھی شامل ہیں، ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ پاک فوج جان بوجھ کر انہیں چیلنج نہیں کررہی کیونکہ اسے خوف ہے کہ اس طرح افغان جنگ پاکستان میں گھس آئے گی اور اس کا کوئی اختتام نہیں ہو گا۔چنانچہ اگر امریکا چاہتا ہے کہ حقانی گروپ اور دیگر طالبان گروپ افغانستان میں اپنی بہت سی کارروائیوں کیلئے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنا چھوڑ دیں تو اسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر بھی دباو¿ ڈالنا ہو گا کہ وہ اپنے، اپنے ملکوں میں طالبان کیلئے فنڈز جمع کرنے والوں کے خلاف کارروائی کریں اور اس خفیہ ذریعے کو بند کردیں جس سے حقانی اسلحہ خرید رہے ہیں۔
ایسا نہیں لگتا کہ پاکستان ٹرمپ کی توہین آمیز ٹویٹ کے جواب میں امریکی سپلائی روکنے کی کوئی کوشش کر رہا ہے جو افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی بقاء کیلئے ضروری ہے، نہ ہی وہ امریکی طیاروں کے اپنی حدود سے گزر کرافغانستان جانے کو روکنے کی کوشش کررہا ہے۔ درحقیقت پانچ جنوری کووزارت خارجہ نے ایک بیان میں دو طرفہ احترام اور تحمل پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو مشترکہ خطرات کا سامنا ہے۔ پاک، چین دوستی سرد جنگ کے اس دور میں بھی محفوظ رہی بلکہ اور گہری ہوئی جب پاکستان کو امریکہ کا سب سے بڑا اتحادی قرار دیا جا رہا تھا اورامریکہ سے نان نیٹو اتحادی کا درجہ ملنے کے بعد بھی یہ دوستی اور بڑھی ہے۔ چنانچہ امریکی پالیسی سازوں کا یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ اگر امریکہ پاکستان کی معاشی اور فوجی امداد معطل کر دے گا تو پاکستان اور امریکہ کی دوستی ختم ہو جائے گی اور پاکستان بیجنگ کے کیمپ میں چلا جائے گا۔
اسی طرح امریکیوں کی یہ سوچ بھی انتہائی غلط
ہے کہ پاکستان نے عالمی برادری کو اس بات پر قائل کرلیا ہے کہ اگر پاکستان غیرمستحکم ہوا تو اس کے ایٹمی ہتھیار یا جوہری مواد دہشتگردوں کے ہاتھ لگ جائے گا۔ پاکستان نے کبھی بھی دنیا کو گمراہ نہیں کیا بلکہ امریکی سیاسی پنڈتوں نے عالمی سطح پر یہ خوف پھیلا رکھا ہے کہ پاکستان اتنا خطرناک ہے کہ دنیا اس کی ناکامی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ درحقیقت اگر امریکہ اپنی وہ ساری امداد بند بھی کر دے جو گرانٹ یا رعایتی شرح سود پر پاکستان کو دی جاتی ہے تو بھی اس سے ملکی معیشت کو کوئی بڑا نقصان نہیں ہو گا کیونکہ امریکہ مشاورتی فیسوں، شپنگ کے اخراجات، امدادی سامان کی ٹرانسفر کی قیمتوں وغیرہ کے بہانے ننانوے فیصد امداد واپس لے لیتا ہے۔ اور یہ سب کچھ ان پیشگی شرائط کے تحت ہوتا ہے جو امداد کے نام پر تیار کی گئے دلکش دستاویزی معاہدوں میں چھپی ہوتی ہیں۔ چنانچہ چین سے لئے گئے قرضے اگر پاکستان کو امریکی گرانٹ سے زیادہ فائدہ نہ بھی دے سکے تو یہ ان سے کم فائدہ بھی نہیں دیں گے۔بلاشبہ اگر کثیرالجہتی امداد ایجنسیاں امریکی دباو¿ کے تحت پاکستان کی مدد کرنا بند کر دیں گی اور وہ بھی ایسے وقت میں جبکہ پاکستان کو انتہائی سنجیدہ معاشی بحران کا سامنا ہے تو اس سے یقینی طور پر پاکستان کو شدید نقصان ہو گا۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.