پاکستان معلومات کا تبادلہ کیوں نہیں کرے گا؟

30

الیاس خان

پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے اعلان کیا کہ انھوں نے امریکہ کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ معطل کر دیا ہے جو کہ پاکستان امریکہ جھگڑے میں ایک نیا موڑ ہے ۔ لیکن اس سے فرق کیا پڑے گا؟نئے سال کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان پر ‘جھوٹ اور فریب’ کے الزام والی ٹویٹ کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔’امریکہ پاکستان میں یکطرفہ کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا‘اس کے بعد سے واشنگٹن اعلان کر چکا ہے کہ پاکستان کے لیے تمام سکیورٹی تعاون روک دے گا۔ پاکستان میں سیاستدانوں کی طرف سے اس فیصلے کو فوری طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ دونوں ملک اب اتحادی نہیں رہے اور فوج کے سربراہ نے ‘دھوکے ‘ کا لفظ استعمال کیا۔ لیکن پس منظر میں دونوں فریق محتاط گفتگو کر رہے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی تعاون کی معطلی عارضی ہے اور ضرورت پڑنے پر اور پاکستان کا عمل دیکھتے ہوئے فنڈ جاری کیے جا سکتے ہیں۔دریں اثنا، کم ہی لوگ وزیر دفاع کے بیان کو علامتی حیثیت سے زیادہ اہمیت دیں گے ۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ حالیہ دو دہائیوں میں پاکستان کی طرف سے امریکہ کو خفیہ معلومات کی فراہمی پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہے ۔پاکستان اور امریکہ 50 کی دہائی میں اس وقت سے اتحادی ہیں جب امریکہ سے پاکستان کے لیے اقتصادی اور سکیورٹی کی امداد کی آمد شروع ہوئی۔انیس سو انسٹھ اور انیس سو ستر کے درمیان پاکستان نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو پشاور کے قریب ایک اڈہ فراہم کیا تھا جہاں سے وہ سوویت یونین کے صوتی پیغامات سن سکتے تھے ۔اس کے بعد 1980 کی دہائی میں دونوں ملکوں کا افغان لڑائی میں ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون رہا جس میں زیادہ بڑا کردار ان افغان جنگجوو¿ں کا تھا جو پاکستان کی زمین سے لڑ رہے تھے اور جنہیں پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی نے منظم کیا اور تربیت دی تھی۔لیکن 11 ستمبر 2001 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مفادات کے ٹکراو¿ کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ امریکہ کو خود افغانستان میں اترنا پڑا اور اس نے پاکستان کو سپلائی روٹ کے طور پر استعمال کیا اور انہیں یہاں سے خفیہ معلومات بھی ملتی تھی۔بظاہر دونوں کے درمیان یہ سمجھوتہ تھا کہ امریکہ معلومات کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی استعمال کرے گا جس میں ڈرون کا استعمال اور کمیونیکیشن کی جدید تکنیک شامل تھی اور پاکستان انسانوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا۔اس دوستی کی بنیاد یہ تھی کہ امریکہ کو مطلوب اسلامی شدت پسندوں کے ٹھکانے پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقوں میں تھے اور انھیں پاکستان کی مدد سے ہی شکست دی جا سکتی تھی۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ 80 کی دہائی میں پاکستان نے انہی گروپوں کو افغانستان سے انڈیا کا اثر ختم کرنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور اب وہ ان گروپوں کو ختم نہیں کر سکتا تھا۔پاکستان اعلان تو یہی کرتا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کے ساتھ ہے لیکن ساتھ ہی اس نے اس گروپوں کو پاکستان کے علاقے فاٹا میں پناہ لینے کا موقع فراہم کیا۔اس طرح پاکستان نے امریکہ ایسی معلومات ضرور فراہم کی جس کی مدد سے وہ القاعدہ کے کئی اہم رہنما یہاں سے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن طالبان یا حقانی گروپ کا کوئی بڑا لیڈر یہاں سے نہیں پکڑوایا جو افغانستان میں ان کی لڑائی لڑ رہے تھے ۔واحد مثال سن دو ہزار دس میں ‘پاکستانی طالبان’ کے ایک کمانڈر ملا برادر کی ہے ۔ لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ملا برادر کو منظر سے ہٹانا پاکستانی انتظامیہ کی بھی ضرورت تھی کیونکہ وہ افغان حکومت کے ساتھ خفیہ طور پر امن کے لیے بات چیت کر رہے تھے ، جو انڈیا کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔پاکستان نے ‘پاکستانی طالبان’ کے کچھ رہنماو¿ں پر حملوں میں امریکہ کی یقیناً مدد کی جن میں بیت اللہ محسود بھی شامل تھی لیکن یہ وہ لوگ تھے جو اسلام آباد میں لال مسجد پر حملے کے بعد پاکستان کے مخالف ہو چکے تھے ۔2014 میں امریکہ کے اس وقت کے صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی افواج کی کمی کا اعلان کیا۔ پاکستان نے فاٹا میں افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔ وہ تمام عناصر جنہیں پاکستان اپنے لیے ‘نقصان دہ’ سمجھتا ہے افغانستان میں دھکیلے جا چکے ہیں لیکن ‘دوست’ عناصر ابھی محفوظ ہیں۔ پاکستان کے شہروں پشاور، کوئٹہ، کراچی اور بلکہ اسلام آباد سے بھی طالبان رہنماو¿ں کے نظر آنے کی خبریں آ جاتی ہیں۔اس ماحول میں امریکہ پاکستان سے خفیہ معلومات کا تبادلہ جاری رکھ کر کچھ زیادہ حاصل کرنے کی امید نہیں کر سکتا۔پاکستان کے لیے امریکہ کو مشکل میں ڈالنے کا ایک طریقہ افغانستان کے لیے زمینی سپلائی روٹ بند کرنا ہے لیکن اس نے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ ماہرین کے خیال میں پاکستان زیادہ سے زیادہ ٹرانزٹ روٹ کا کرایہ بڑھا سکتا ہے یا وقتاً فوقتاً کوئی ایسی رکاوٹ ڈال سکتا ہے جس سے مال کی ترسیل میں تاخیر ہو جائے ۔یہ تمام تعلقات میں کشیدگی کے اشارے ہیں لیکن یہ کشیدگی اس حد تک نہیں جس کا اندازہ دونوں طرف کی تند و تیز بیان بازی سے ہوتا ہے ۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.