بلوچستان ، حکومتیں او ر محلاتی سازشیں (6)

24

مسلم لیگ قائداعظم اور مسلم لیگ نواز کے اراکین اسمبلی نے بہت رازداری سے نواب زہری کی حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ اس مقصد کیلئے سعید احمدہاشمی کے گھر میں بھی اجلاس ہوئے۔ یقینی طور پر ان ارکان نے جن کی قیادت عبدالقدوس بزنجو اور میر سرفراز بگٹی کررہے تھے۔ پہلے ہی جمعیت علمائے اسلام ، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل، عوامی نیشنل پارٹی، مجلس وحدت مسلمین اور بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی سمیت نوابزادہ طارق مگسی کو ہم راز و ہم خیال بنالیا تھا۔ اور عدم اعتماد کی تحریک کیلئے2جنوری کے دن کا انتخاب کیا یعنی اس روز اپنے ارادوں کو فاش کردیا اور بازی پلٹنی یقینی ہوگئی۔ جمعیت علماءاسلام نے نواب زہری کے ساتھ اپنے معاملات اس پورے عرصے خراب ہونے نہیں دیئے۔ یہی پالیسی عوامی نیشنل پارٹی کے واحد رکن اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی کی تھی۔ یہ دونوں جماعتیں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے بغض میں مبتلا تھیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور بی این پی عوامی، نیشنل پارٹی اسی طرح پشتونخواملی عوامی پارٹی سے بھی رنجش رکھتی ہیں۔ گویا حزب اختلاف کا اسمبلی میں کردار فی الحقیقت پشتونخوامیپ اور نیشنل پارٹی کے برخلاف رہا ہے۔ چنانچہ عدم اعتماد کی تحریک کا ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنے کیلئے دیا۔ سینیٹ میں ڈپٹی چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے بلوچستان حکومت کے بحران کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا کہ اس طرح سینیٹ کے الیکشن کا انعقاد غیر یقینی ہوجائےگا مگر جے یو آئی نواب زہری کی حکومت تہہ و بالا کرنے کی مہم جوئی میں پہلی صف میں آکر کھڑی ہوگئی۔ممکن ہے کہ آئندہ الیکشن میں جے یو آئی اپنے وزیراعلیٰ کیلئے گراﺅنڈ بنانے کا ارادہ رکھتی ہو اس لئے نواب زہری کے مخالفین اور نواز شریف کے بدخواہوں کو خوش کرنے کیلئے اس عمل میں شریک ہوئی تاکہ آئندہ ان کی رہنمائی اور تعاون لیا جائے۔ سردار اختر مینگل نے بھی سرِدست آئندہ کا ہدف سامنے رکھا۔ میر ظفر اللہ زہری بھی ساڑھے چار سال بعد نواب زہری کے خلاف اسمبلی پہنچے۔ نوابزادہ طارق مگسی بھی غیر فعال تھے۔ میاں نواز شریف کو اچھی طرح معلوم تھا کہ جو کچھ بلوچستان میں ہونے جارہا ہے وہ ہوکر رہے گا۔ اس بناءوہ اس موضوع پر خاموش رہے۔ البتہ 8جنوری کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیرداخلہ احسن اقبال کوئٹہ پہنچ گئے۔ تحریک عدم اعتماد میں شامل کسی جماعت اور رکن اسمبلی نے ان سے ملاقات نہ کی بلکہ ملاقات نہ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ وزیرداخلہ احسن اقبال مرکزی نائب صدر صوبائی وزیر نواب جنگیز مری کی رہائشگاہ گئے مگر پھر بھی نواب جنگیز مری نے ملاقات نہ کی۔ رفتہ رفتہ نواب زہری کو اپنی جماعت کے ایم پی ایز چھوڑتے گئے۔ ان کے ساتھ ن لیگ کے6اراکین آخر تک کھڑے رہے۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے ساتھ نبھایا۔ اتحادیوں نے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی واضح کیا کہ انہوں نے نواب زہری کو مستعفی ہونے کا مشورہ نہیں دیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی نے یہ بھی کہا کہ لیگی ارکان نے بتایا کہ ان پر خفیہ اداروں کا دباﺅ ہے۔ آخر کار9جنوری2018ءکو ابھی اسمبلی اجلاس شروع ہونے میں چند لمحے باقی تھے ۔ نواب ثناءاللہ نے اپنے اتحادیوں سے آخری ملاقات کی ۔ گورنر ہاﺅس آئے اور مختصر الفاظ پر مشتمل استعفا گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی کو پیش کردیا جو فورا ًہی منظور کرلیاگیا۔ نواب زہری نے ارکان اسمبلی ، حزب اختلاف اور اپنے اتحادیوں کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا۔ نواب زہری نے ان مشکل ایام میں جذبات اور اشتعال کامظاہرہ نہیں کیا۔ فقط اتنا کہا کہ وہ اور اتحادی عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرینگے اور مخالفین کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسمبلی اجلاس میں مخالفین انہیں مبارکباد دینے لگے کہ نواب زہری نے مستعفی ہو کر پارلیمانی و جمہوری روایات کا پاس رکھا اور اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچایا ۔ ن لیگ کے اراکین نے بڑے دھڑلے سے فلور کراسنگ کی۔ آئین کی شق63اے کہتی ہے کہ اگر کوئی رکن اپنی پارٹی کی ہدایت کے خلاف اعتماد یا تحریک عدم اعتماد میں ووٹ دے گا تو پارٹی سربراہ اسے تحریری طور پر منحرف قرار دے گا۔ یہاںان منحرف ارکان کے خلاف مسلم لیگ نواز نے آئینی کارروائی نہیں کی ۔ چونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس گیم کے پیچھے اصل کھلاڑی کون ہیں۔ دوئم اس کاروائی کیلئے وقت بھی درکار ہوتا ہے ۔ اس دوران مسلم لیگ ن کے رہنماءاور وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہہ دیا کہ آصف زرداری نے بلوچستان حکومت توڑنے کیلئے پیسہ لگادیا ہے۔ طلال چودھری کا یہ الزام سردست وزن ر کھتا ہے۔ آصف علی زرداری بلوچستان کے اراکین اسمبلی یعنی لیگیوں سے رابطے میں بہت پہلے سے ہےں۔ آصف زرداری نے مارچ2017ءمیں حب میں عبدالقدوس بزنجو کی رہائشگاہ پر ان کے کزن کے انتقال پر تعزیت کے دوران بلوچستان کے کئی ایم پی ایز اور شخصیات سے ملاقات کی۔ان میں ن لیگ کے سرفراز بگٹی، طاہر محمود خان ،جان محمد جمالی، ق لیگ کے میر امان اللہ نوتیزئی، ق لیگ کے عبدالکریم نوشیروانی کے بیٹے شعیب نوشیروانی،سابق سینیٹر زمحمد علی رند، میر اسلم بلیدی، سابق صوبائی وزراءفائق جمالی ،ظہور بلیدی، نیشنل پارٹی کے خالد لانگو کے چھوٹے بھائی سمیت دیگر سابق ایم پیز اور سینیٹرز بھی شامل تھے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ بلوچستان میں ان کی حکومت ہوگی۔جس دن وزیر اعلیٰ کا انتخاب ہو رہا تھا تو اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر قیوم سومرو اور سلطان کوٹ کا مختار نامی جیالا بھی موجود تھے اور قدوس بزنجو کے ساتھ ان کی گاڑی میں گورنر ہاوس حلف برداری کی تقریب کےلئے گئے۔یہ افراد پچھلے چند دن سے کو ئٹہ میں مقیم تھے۔قدوس بزنجو غیر متو قع طور پر وزارت اعلیٰ کے لئے نامزد ہوئے۔ حیرت انگیز طور پر جے یو آئی، بی این پی مینگل، اے این پی اور بی این پی عوامی نے ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار چُن لیا۔ وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں جان محمد جمالی،سرفراز بگٹی، سردار صالح بھوتانی اور نواب جنگیز مری بھی شامل تھے۔ جب اِذن ہوا تو یہ لوگ دستبردار ہو گئے ۔ منظر نامہ تبدیل ہوا تو نیشنل پارٹی نے11جنوری کو حزب اختلاف میں بیٹھنے اور وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں غیر جانبدار ر ہنے کا اعلان کیا۔ 12جنوری کو نواز شریف کے باغی ارکان اسمبلی نے نواب ثناءاللہ زہری کی جگہ نواب جنگیز مری کو پارلیمانی لیڈر بنالیا۔ نواب زہری کے ساتھ دینے والے اراکین در محمد ناصر ، محمد خان لہڑی، اظہار کھوسہ، انیتا عرفان، کشور جتک اور ثمینہ خان نے منحرف ارکان کا ساتھ دیا۔ تاہم انہوں نے یہ فیصلہ نواب زہری کے مستعفی ہونے کے بعد کیا۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی آخر تک نہ صرف نواب زہری کے ساتھ کھڑی رہی بلکہ ان کے مستعفی ہونے کے بعد بھی مقابلہ جاری رکھا۔ قائد ایوان کے انتخاب میں عبدالقدوس بزنجو کے مقابلے میں پشتونخواملی عوامی پارٹی نے آغا سید لیاقت علی کو امیدوار نامزکیا جن کے حق میںپشتونخوامیپ کے 14 میں سے13ارکان نے ووٹ دیا۔ پشتونخوا میپ کے ایم پی اے منظور احمد کاکڑ ثابت قدم نہ ر ہے اور اپنی پارٹی کے امیدوار کی بجائے ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو کو ووٹ دیا۔ پارٹی کو ان پر پہلے ہی بھروسہ نہیں تھا اس لئے قائد ایوان کیلئے انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل ہی پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال کی جانب سے انہیں انتباہی نوٹس جاری کیاگیا تھا۔نوٹس میں منظور کاکڑ کو خبردار کیا گیا تھاکہ اگر مخالف امیدوار کوووٹ دیا گیا تو آپ کے خلاف آئین کی شق63اے کے تحت کارروائی کی جائے گی اور الیکشن کمیشن سے رجوع کرکے نشست خالی کروائی جائے گی۔ مگر منظور کاکڑ نے پارٹی حکم اور ہدایت کو ہوا میں اُڑا دیا ۔ مخالف امیدوار کوووٹ دینے کے اگلے ہی لمحے پارٹی نے انہیں نوٹس جاری کردیا۔عبدالرحیم زیارتوال نے اسمبلی فلور پر ان کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔ منظور کاکڑ پر 2015ءکے سینیٹ انتخابات میں بھی ووٹ فروخت کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا ۔ ماضی میں ان کا تعلق ق لیگ سے بھی رہا ۔2013ءکے عام انتخابات سے کچھ عرصہ قبل پشتونخوامیپ میں شامل ہوئے تھے۔ اس سیاسی بحران میں پوری نیشنل پارٹی ڈگمگا گئی۔یعنی مصلحت کی موٹی چادر اوڑھ لی۔ ان کے تین ارکان مجیب الرحمان محمد حسنی، فتح محمد بلیدی اور خالد لانگو صاف صاف اُڑن چھوہوگئے۔خالد لانگو نے 9جنوری کو یہ عذر پیش کیاکہ ”ثناءاللہ زہری کے بھائی سینیٹر میر نعمت اللہ زہری کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر معاہدہ طے ہوا تھا کہ ڈسٹرکٹ کونسل قلات کی چیئرمین شپ پہلی آدھی مدت ان کے حامی امیدواراور آخری آدھی مدت ہمارے امیدوار کو ملے گی لیکن وہ وعدے سے مکر گئے۔ ہم نواب صاحب کے پاس بھی گئے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ اس کا میرے دل میں بڑا رنج تھا اس لئے جب موقع آیا تو میں نے بدلہ لے لیا۔ “پھر13جنوری کو نئے قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر یہ عذر پیش کیا کہ مشکل وقت میں میرا دفاع کرنے کی بجائے میرا ٹیم کیپٹن نجی محفلوں میں لوگوں سے کہتا تھا کہ خالد لانگو نے پانچ ارب روپے کمائے اور تین کروڑ کی گھڑی پہنتا ہے ۔ میرے اندر بھی بلوچی خون ہے اس لئے جب موقع آیا تو اس کا بدلہ لیا۔ “انہوں نے پارٹی فیصلے سے انحراف پر شرمندگی کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ عبدالقدوس بزنجو کے احسانات کی وجہ سے پارٹی سے بے وفائی کی۔ بہر حال یہ عذر لنگ ہے۔ نیشنل پارٹی اپنے منحرف ارکان کے خلاف کاروائی کرنے کی موڈ میں دکھائی نہیں دیتی۔اس لئے کترا رہی ہے کہ کہیں غیر مرئی قوتیں ان کے خلاف نہ ہوں۔ 13جنوری کو عبدالقدوس بزنجو بلوچستان اسمبلی کے 16ویں قائد ایوان منتخب ہوئے۔ ان کے حق میں41ووٹ پڑے۔ پشتونخوامیپ کے آغا سید لیاقت علی نے13ووٹ لئے۔ کل65میں سے54ووٹ ڈالے گئے۔ ن لیگ کی ثمینہ خان پرواز میں تاخیر کے باعث اجلاس میں نہیں پہنچ سکیں۔ نواب ثناءاللہ زہری اور نیشنل پارٹی کے آٹھ ارکان بھی اجلاس میں آئے اور نہ انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ عبدالقدوس بزنجو نے اسی روز گورنر ہاﺅس میں وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھایا۔ گورنر محمد خان اچکزئی نے ان سے حلف لیا۔ 14رکنی کابینہ نے بھی حلف لیا۔ کابینہ میں تمام وہ اراکین شامل کئے گئے جنہوں نے تحریک عدم اعتماد میں حصہ لیا۔دیکھا جائے تو یہ مکافات عمل بھی ہے۔ پچھلی حکومت میں پشتونخوا میپ اور نیشنل پارٹی جے یو آئی اور بی این پی عوامی کے خلاف ہاتھ دھو کر پڑی ہوئی تھی۔ ان کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش میں لگی رہیں ۔میرے نزدیک وہ عمل بھی غلط تھا اورنا شائستہ فعل کا ارتکاب اب بھی ہواہے ۔ محمود خان اچکزئی اور سینیٹر عثمان کاکڑ نے6جنوری2018ءکو پشین کے جلسہ میں بڑا الزام لگایا کہ ان کے اراکین اسمبلی کو نامعلوم نمبروں سے دھمکی آمیز کالز موصول ہورہی ہیں۔ حقیقت خواہ کچھ بھی ہومگر سچ یہ ہے کہ پشتونخوا میپ ان محلاتی سازشوں کے خلاف صف بند رہی ۔بد قسمتی سے بلوچستان اسمبلی میں بڑے بڑے نواب ،علماء،معززین ،میر ،سردار وخوانین کے ضمیر کے افلاس کا چشم فلک نے مشاہدہ اور نظارہ کیا ۔ایک فارسی جملہ ہے جو اپنے اندر پو شیدہ وسیع معنی کے لحاظ سے مثل بن چکا ہے ،پر اپنی بات کا اختتام کر تا ہوں ،وہ یہ کہ” قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند“۔(ختم شد)

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.