پاکستان میں ہونے والے انتخابات کی کہانی۔ دوسرا حصہ

58

سات مارچ کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور جب نتائج آنے شروع ہوئے تو سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے کسی کو بھی یقین نہ آیا۔ پیپلز پارٹی نے ایک سو پچپن نشستیں جیت لیں جن میں بلوچستان کی ساتوں نشستیں بھی شامل تھیں حالانکہ وہاں فوجی آپریشن جاری تھا۔ جبکہ پاکستان نیشنل الائنس یا پی این اے کو چھتیس نشستیں ملیں۔سرکاری طور پر کہا گیا کہ ٹرن آو?ٹ تریسٹھ فیصد رھا اور کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے اٹھاون فیصد ووٹ پیپلز پارٹی کو پڑے۔ ان حالات میں پی این اے نے دس مارچ کے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کردیا اور شہروں میں حکومت کے خلاف بھرپور تحریک شروع ہوگئی۔ خاصی خونریزی کے بعد جولائی کے پہلے ہفتے میں پی این اے اور بھٹو حکومت میں سمجھوتہ ہوگیا کہ آنے والے اکتوبر میں ایک نمائندہ عبوری حکومت کے تحت دوبارہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ لیکن پانچ جولائی کی صبح جنرل ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کردیا۔انیس سو ستتر کے انتخابات کے بارے میں اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سجاد احمد جان ( وسیم سجاد کے والد) نے بعد میں یہ تبصرہ کیا کہ حکمراں جماعت کے امیدواروں نے اپنی مقتدر پوزیشن اور سرکاری مشینری کے اندھا دھند استعمال سے انتخابی عمل کو تباہ کردیا۔فروری انیس سو پچاسی میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے سائے میں ملک میں پہلی بار غیر جماعتی پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے۔اس سے قبل ضیاء الحق جو نوے دن میں اقتدار کی عوام کو منتقلی کے وعدے پر مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے تھے انہوں نے دو مرتبہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرکے انہیں منسوخ کردیا تھا۔ کیونکہ بقول ان کے وہ ایسی انتخابی فضاء قائم کرنا چاہتے تھے جس میں مثبت نتائج حاصل ہوسکیں اور منتخب نمائندوں کا قبلہ بھی درست ہو۔حزبِ اختلاف کے اتحاد ایم آر ڈی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریفرنڈم کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ شاعرِ عوام حبیب جالب نے ریفرنڈم کے دن کے بارے میں کہا:شہر میں ہو کا عالم تھا جن تھا یا ریفرنڈم تھاتاہم اسلام آباد
سے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ ریفرنڈم میں ڈالے گئے نوے فیصد سے زائد ووٹ صدر ضیا الحق کے حق میں پڑے ہیں۔ ریفرنڈم کے بعد صدر نے اعلان کیا کہ قومی اور صوبائی انتخابات با لترتیب پچیس اور اٹھائیس فروری انیس سو پچاسی کو منعقد ہوں گے۔ انتخابات کو غیر جماعتی رکھنے کے لئے ایک آئینی ترمیم کا حکم نامہ جاری کیا گیا۔ ہر امیدوار کے لیے لازم تھا کہ وہ پچاس افراد کے تائیدی دستخط ریٹرننگ افسر کے سامنے پیش کرے۔ اس مقصد کے لیے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ مجریہ انیس سو باسٹھ میں ترمیم کی گئی۔ ایم آر ڈی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ اس کے باوجود ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد نے حصہ لیا۔ سرکاری طور پر قومی اسمبلی کے لیے پڑنے والے ووٹوں کی شرح تقریباً چون فیصد اور صوبائی پولنگ کی شرح ستاون فیصد سے زائد رہی۔ان انتخابات کے نتیجے میں خاصے نئے چہرے سامنے آئے۔ محمد خان جونیجو کو وزیرِ اعظم چنا گیا۔ پارلیمنٹ نے آٹھویں ترمیم کے ذریعے ضیاء الحق کے تمام مارشل لاءاحکامات کو آئینی تحفظ دیا اور انہیں اٹھاون ٹو بی کے تحت پارلیمنٹ اور حکومت کو ختم کرنے کے صوابدیدی اختیارات بھی دے دیے۔ اس کے علاوہ اس غیر جماعتی پارلیمنٹ میں اس مسلم لیگ کا جنم ہوا جو آج تک کسی نہ کسی شکل میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کا سیاسی چہرہ بنی ہوئی ہے۔سترہ اگست انیس سو اٹھاسی کو صدر جنرل ضیاء الحق اپنے غیر جماعتی نظام سمیت طیارے کے حادثے میں ہلاک ہوگئے اور سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق خان نے قائم مقام صدارت اور جنرل مرزا اسلم بیگ نے فوج کی کمان سنبھالی۔نئی حکومت نے سولہ نومبر کو قومی اور انیس نومبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرانے کا اعلان کیا۔ سن ستتر کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ پیپلز پارٹی باقاعدہ کسی قومی انتخاب میں حصہ لے رہی تھی۔ اس خدشے کے پیشِ نظر کہ پیپلز پارٹی اکثریت سے کامیاب نہ ہوجائے، اسٹیبلشمنٹ نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ اور مسلم لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف کی قیادت میں ایک نو جماعتی اسلامی جمہوری اتحاد بنوایا۔ نتیجہ ایک معلق پارلیمنٹ کی صورت میں نکلا۔ پیپلز پارٹی کو ترانوے اور آئی جے آئی کو چون، ایم کیو ایم کو تیرہ، جے یو آئی (ایف) کو سات اور اے این پی کو دو نشستیں ملیں۔ ووٹنگ کی شرح تینتالیس فیصد بتائی گئی۔ کل اڑتیس جماعتوں نے انتخابات میں شرکت کی۔صدر غلام اسحاق خان نے ان شرائط کے تحت بے نظیر بھٹو کو حکومت سازی کی دعوت دی کہ وہ افغان اور کشمیر پالیسی اور ایٹمی پالیسی میں مداخلت نہیں کریں گی۔ خارجہ پالیسی کے تسلسل کے لئے صاحبزادہ یعقوب علی خان کو وزیرِ خارجہ کا قلمدان دیں گی اور صدارتی انتخاب میں غلام اسحاق خان کی حمایت کریں گی۔ بے نظیر بھٹو نے ایم کیو ایم، فاٹا ارکان اور کچھ آزاد امیدواروں کی مدد سے حکومت تشکیل دی اور کسی مسلمان ملک کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ پھر پاکستانی سیاست نے یہ دن بھی دیکھا کہ نوابزادہ نصراللہ خان کے مقابلے میں جنرل ضیاء الحق کے دستِ راست غلام اسحاق خان پیپلز پارٹی اور آئی جے آئی کے مشترکہ امیدوار کے طور پر پانچ برس کی مدت کے لیے صدر منتخب کرلیے گئے۔ لیکن بے نظیر اور غلام اسحاق خان میں مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کے معاملے پر اختلافات اتنے بڑھے کہ چھ اگست انیس سو نوے کو صدر نے اٹھاون ٹو بی کے تحت بے نظیر حکومت کو بدعنوانی اور نا اہلی کا مرتکب قرار دے کر برخاست کردیا۔بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد جب ان کے سیاسی مخالف غلام مصطفیٰ جتوئی کو نگراں وزیرِ اعظم بنایا گیا تو اسی وقت ہوا کے رخ کا اندازہ ہوگیا کہ چوبیس اکتوبر کو ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ اقتدار کی ہوا کو کس طرف لے جانا چاہتی ہے۔ چنانچہ جب انتخابی نتائج سامنے آنے شروع ہوئے تو بات واضح ہوگئی۔ نواز شریف کے اسلامی جمہوری اتحاد کو قومی اسمبلی کی ایک سو چھ اور پیپلز پارٹی کو چوالیس نشستیں ملیں۔ ووٹنگ کی شرح تقریباً چھیالیس فیصد بتائی گئی۔ اڑتالیس جماعتوں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ متعدد غیر ملکی مبصرین نے انتخابی عمل کو غیر شفاف قرار دیا۔لیکن اٹھاون ٹو بی کے اختیارات سے مسلح صدر اور نئے وزیرِ اعظم نواز شریف کے درمیان جلد ہی بالکل اسی انداز کی کشمکش شروع ہوگئی جو بے نظیر حکومت کے زوال کا سبب بنی تھی۔ یعنی مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کی تقرری کا معاملہ۔ چنانچہ جب یہ اختلافات سڑک پر آ گئے اور ایوانِ وزیرِ اعظم اور ایوانِ صدر دو متحارب کیمپوں میں تبدیل ہوگئے تو غلام اسحاق خان نے ڈیڑھ برس میں دوسری دفعہ آئینی وار کیا اور انیس اپریل انیس سو ترانوے کو نواز شریف حکومت برطرف کر کے میر بلخ شیر مزاری کو نگراں وزیرِ اعظم نامزد کردیا اور پارلیمانی انتخابات کے لیے چودہ جولائی کی تاریخ مقرر کردی۔ نگراں حکومت میں پیپلز پارٹی کو بھی شمولیت کی دعوت دی گئی اور آصف زرداری سمیت پیپلز پارٹی کے کئی وزراء نے حلف اٹھا لیا۔نواز شریف نے اٹھاون ٹوبی کے تحت برطرفی کے اقدام کو صدر کی بدنیتی قرار دیتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔سپریم کورٹ نے چودہ مئی کو برطرف حکومت بحال کردی اور صدر غلام اسحاق خان کے اقدام کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں کاروبارِ حکومت منجمد ہوگیا۔ چنانچہ فوج کے سربراہ جنرل وحید کاکڑ نے وزیرِ اعظم اور صدر کو رضامند کرلیا کہ وہ بحران کے خاتمے کے لئے سبکدوش ہوجائیں۔ اس سمجھوتے کے تحت معین قریشی نئے نگراں وزیرِ اعظم اور غلام اسحاق خان نگراں صدر بن گئے۔ چھ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور نو اکتوبر کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ ایم کیو ایم نے اپنے خلاف فوجی آپریشن کے سبب انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔کراچی اور حیدرآباد میں امن و امان کا آپریشن شدید تر ہوتا چلا گیا۔ بیس ستمبر انیس سو چھیانوے کو وزیرِ اعظم کے سگے بھائی مرتضی بھٹو کے قتل سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جو وزیرِ اعظم اپنے بھائی کو نہ بچا سکی وہ عام آدمی کا تحفظ کیسے کرے گی۔ بالاخر یہ افواہیں پھیلنے لگیں کہ حکومت چند دن کی مہمان ہے اور پھر پانچ نومبر انیس سو چھیانوے کو ایوانِ صدر سے ایک فیکس وزیرِ اعظم ہاوس بھیج دیا گیا کہ حکومت اور اسمبلیاں توڑ دی گئی ہیں۔ ملک معراج خالد کو نگراں وزیرِ اعظم بنا دیا گیا ہے جو تین فروری انیس سو ستانوے کو انتخابات کروائیں گے۔اگرچہ فروری ستانوے کے انتخابات اناسی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تاہم ووٹنگ کی شرح پچھلے تمام انتخابات کے مقابلے میں بہت کم رہی یعنی تقریباً چھتیس فیصد۔ البتہ پیپلز پارٹی کا گراف اتنا نیچے گرا کہ اس کی نشستیں نواسی سے کم ہو کر صرف اٹھارہ رہ گئیں جبکہ مسلم لیگ نواز کی نشستیں تہتر سے بڑھ کر ایک سو سینتیس تک پہنچ گئیں۔ اتنی اکثریت سے جیتنے کے بعد نواز شریف کا پہلا وار صدر فاروق لغاری پر ہوا جنہیں اٹھاون ٹو بی کے اختیارات سے محروم کرکے پوپلا صدر بنا دیا گیا۔(جاری ہے)

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.