پولیس کو ختم کردیں؟

33

ہم راو¿ انوار کو ساری دنیا میں تلاش کرتے رہے۔ لیکن اگر وہ پاکستان کی کسی سڑک یا گلی میں مل جاتا تو بھی کوئی حیرانی نہ ہوتی۔ بظاہر راو¿ انوار غائب ہو چکا تھا۔ لیکن انوار بھاگنے والا نہیں تھا اصل میں کچھ لوگ چاہتے تھے کہ اسے منظر سے ہٹا دیا جائے۔ راو¿ انوار جسے مجرم اور مفرور قرار دیا گیا اس کی کبھی پولیس سربراہان تعریف کیا کرتے تھے اور اسے س±پر پولیس والا کہا جاتا تھا کیونکہ وہ مجرموں کو تلاش کر کے مارڈالتا تھا۔ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ہو یا کراچی میں امن و امان کے حوالے سے جاری موجودہ آپریشن، انوار عام طور پر اس کا ناگزیر حصہ تھا۔ وہ ہمیشہ کام کرتا تھا لیکن کبھی کبھی حد سے تجاوز بھی کر جاتا تھا اور اسی وجہ سے وہ مشکل میں پھنس گیا۔ لیکن اصل مسئلہ راو¿ انوار کا نہیں ہے۔ یہ اس نظام کا مسئلہ ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔ کئی پولیس افسروں کے نزدیک تو راو¿ انوار اب بھی ہیرو ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پولیس افسران کو کراچی آپریشن میں ان کے کردار کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا تھا وہاں راو¿ انوار جیسے لوگوں نے ہی مقابلہ کیا تھا۔کراچی میں مقابلوں کے ماہر پولیس والے اکثر بالی وڈ کے ہیروز کی تقلید کرتے ہیں۔ وہ بااعتماد اور منہ پھٹ ہوتے ہیں اورب±رے لوگوں کو مارنے میں ایک منٹ کی تاخیر نہیں کرتے۔ جو لوگ ماورائے عدالت قتل کی مخالفت کرتے ہیں انہیں غلط سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ کراچی پولیس کے کچھ اراکین کو عمر شاہد حامد کی کتاب سے دائمی شہرت مل چکی ہے جو کہ خود بھی ایک معزز پولیس افسر ہیں۔ لیکن پولیس کا ایک تاریک پہلو بھی ہے جس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔گزشتہ چند برسوں کے دوران کراچی پولیس میں ایسے اہلکاروں کی بھرمار ہو چکی ہے جنہیں نہ تو زیادہ تنخواہ ملتی ہے، جو نیم خواندہ ہیں، ان میں سے زیادہ تر غیرتربیت یافتہ بھی ہیں۔ نچلی صفوں میں شامل ہونے والے زیادہ تر لوگ رشوت دے کر آئے ہیں۔ ان سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ یہ لوگ اچانک ایماندار اور قابل پولیس افسر بن جائیں گے۔
یہاں سے کرپشن کا ایک سلسلہ شروع ہوتا ہے جو چوٹی کے افسران تک پہنچتا ہے۔ عام پولیس اہلکار گاڑیوں کو روکتے ہیں، پولیس سٹیشنوں میں رشوت لیتے ہیں یا پھر مختلف جھگڑوں یا اغوا کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں تاکہ وہ اپنی آمدنی بڑھا سکیں۔ لیکن عام طور پراگر کوئی پکڑا جاتا ہے تو وہ یہی لوگ ہوتے ہیں۔ جو لوگ زیادہ کمائی کررہے ہیں انہیں کوئی چھو بھی نہیں سکتا۔ جب ہم اپنے سیاستدانوں کے متعلق سنتے ہیں کہ ان کے گھروں سے اربوں روپے برآمد ہوئے ہیں تو ذرا اندازہ لگائیے کہ اس میں سے کچھ رقم اصل میں کہاں سے آرہی ہے؟پاکستان کے زیادہ تر علاقوں میں پولیس کا نظام اندر تک گل سڑ چکا ہے۔ ہم اس نظام سے جان چھڑا سکتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ساری پولیس کو تحلیل کردیا جائے۔ رینجرز کو تعینات کر دیا جائے جو عوامی شکایات سنے اور ایک ایسا نظام بنایا جائے جس کے تحت جرائم کی تفتیش ہو اور مجرموں کو گرفتار کیا جا سکے۔
شہر میں سینکڑوں پولیس والوں کی موجودگی جو ہر جرم سے حصہ وصول کرتے ہیں صرف جرم میں مدد دیتی ہے، اسے روکتی نہیں۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران زیادتی کے جو واقعات سامنے آئے ہیں وہ بھی اس کی ایک مثال ہیں۔ تقریباً سبھی مقدمات میں پولیس نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اصل میں پولیس کی بے عملی نے مجرموں کی مدد کی ہے۔ لیکن چونکہ یہ الیکشن کا سال ہے اصل لئے سیاستدان دباو¿ ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ اور اس کے نتیجے میں کچھ نتائج بھی نکلے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر درست قدم اٹھائے جائیں تو کام ہو سکتے ہیں۔
لیکن پولیس میں کوئی بھی اصلاحات ہوں تو وہ ناکام رہیں گی کیونکہ انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پولیس فورس کی اصلاح کرنے کی ایماندارانہ کوششیں جو کہ جنرل مشرف کے دور میں ہوئی تھیں انہیں پولیس افسران کی حمایت بھی حاصل تھی۔لیکن پاکستان میں ہمیشہ سے اچھے اقدامات کا یہ حشر ہوتا آیا ہے اور طاقتور بیوروکریسی نے اسے بھی روک دیا۔ اگر پولیس کو منتخب نمائندوں کے زیر اثر کر دیا جائے تو ایک غیرمنتخب اور غیرجواب دہ بیوروکریسی کا بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ آج پاکستان میں سیاستدانوں سے بھی زیادہ پولیس افسران بیوروکریٹس کے اشاروں پر چلتے ہیں۔اگر ہم پولیس میں اصلاحات کرنا چاہتے ہیں یا کسی اور محکمے میں تو ہمیں اس مسئلے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پولیس کو جان بوجھ کرناکارہ بنایا گیا ہے جو صرف تشدد اور ہراساں کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ پولیس کو بیوروکریٹس کے شکنجے سے نکالنا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کر لیتے ہیں تو اصلاحات کامیاب ہو جائیں گی۔ ہمیں نظام کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اس کینسر کو ختم کردیں جو اسے پریشان کررہا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.