میثاق جمہوریت کے تقاضے اور پیپلز پارٹی ؟

17

”میثاقِ جمہوریت“ کے بعد ہم نے تو یہ سمجھا تھا کہ الحمد للہ ہم سیاسی بلوغت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں ۔ بد تہذیبی و بد کلامی کے دور منافرت سے ہم باہمی احترام و وقار یا کم ازکم جیو اور جینے دو کے ماحول میں پہنچ چکے ہیں لیکن لاہور کے ایک جلسے میں جو زبان استعمال فرمائی گئی ہے اُس نے ہماری تمامتر خوش گمانیوں کو راوی برد کر تے ہوئے ہمیں واپس 90کی دہائی میں ہی نہیں بلکہ 70ءکی دہائی کے عین آغاز پر لا کھڑے کیا ہے یقینا یہ خفیہ چالیں چلنے والوں ہی کی نہیں آمرانہ سوچ رکھنے والوں کی بھی فتح ہے۔۔۔جو پارٹی گذشتہ چار دہائیوں سے آمریت کے بالمقابل جمہوریت کی چمپئین بنی پھرتی تھی جو مظلومیت کی چادر میں ملبوس اپنی قربانیوں اور شہادتوں کی کہانیاں سناتے نہیں تھکتی تھی وہ اقتدار کی ہڈی دکھانے والے کے پیچھے اپنے ہوش و حواس تک کھو بیٹھے گی اس کی قطعاََ توقع نہ تھی۔ آج اگر محترمہ اپنی میراث کو یوں لٹتے دیکھتیں تو وہ یقینا اس جہان سے کنارہ کشی کے لیے کسی دہشت گرد کے حملے کا انتظار نہ کرتیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ افراد کے آنے جانے سے اداروں کو فرق نہیں پڑتا ہم کہتے ہیں کہ فرق کس چیز کا نام ہے ۔ ادارے تو عبقری افراد و شخصیات کے کرشمے ہیں ۔ چاہے بنا دیں چاہے مٹا دیں ۔ محترمہ کے بیٹے کو ضرور دیکھنا اور محسوس کرنا چاہیے ۔ 70اور90ءکی دہائیوں میں جو ہوا سو ہوا مابعد یہ بی بی کی بے نظیر قیادت تھی جس نے اپنی پارٹی کو نئی سوچ اور نئی پہچان دی۔۔۔اپنے سیاسی مخالفین سے تمامتر ناروا اختلافات کو خیر باد کہتے ہوئے آئینی و جمہوری بنیادوں پر ایک اصولی معاہدہ ”میثاقِ جمہوریت “ طے کیا ۔ مابعد ایک عملیت پسند سیاستدان کی حیثیت سے عسکری جبر کو توڑنے کے لیے انہیں اگر ایک آمر سے ڈیل بھی کرنی پڑی تب بھی انہوںنے مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا۔۔ یہ محترمہ ہی تھیں جنہوں نے 2008ءکے متوقع الیکشن میں حصہ لینے کے لیے سیاسی حریف کو دلیل کے ساتھ آمادہ و تیار کر لیا ورنہ مذہبی گروہوں کے زیرِ اثر نواز شریف صاحب بائیکاٹ کرنے والی آوازوں کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے آمادگی محسوس کرتے دکھائی دے رہے تھے مگر محترمہ نے انہیں بھائی کہاتو پھر بہن بن کر دکھایا۔ محترمہ کی جس طرح المناک شہادت ہوئی اُس پر وطنِ عزیز میں وہ کونسی بد بخت آنکھ ہے جو اشکبار نہ ہوئی ہو گی مگر اس دنیا سے راہی ملک عدم ہونے سے قبل محترمہ نے جو آخری آرزو کی وہ میاں نواز شریف سے گفتگو کرنے کے لیے تھی ۔
یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے آج میڈم ناہید کے متعلق یا عباسی صاحب کے متعلق کوئی جو مرضی کہتا پھرے مگر بی بی جب تک زندہ رہیں یہ دونوں میاں بیوی ان کے لیے جان ہتھیلی پر رکھے ہوئے تھے۔۔درویش کو ایک اہم شخصیت نے بتایا کہ جب کہیں کوئی نازک یا حساس موڑ آجاتا کوئی سخت بات بی بی سے منوانا مطلوب ہوتا تو سب کی نظر انتخاب عباسی صاحب ہوتے یعنی وہ اور میڈم ناہید بی بی صاحبہ کے اتنے لاڈلے تھے۔ افسوس آج پی پی میں ان کی حیثیت دو کوڑی کے کارکن جیسی بھی نہیں رہنے دی گئی ہے ۔۔۔ہمارے متذکرہ بالا دعوے پر جس کو شک ہے وہ آج بھی میڈم ناہید سے تصدیق کر سکتا ہے کہ بی بی صاحبہ نے اُن سے جو آخری تقاضا کیا وہ یہ تھا کہ میاں نواز شریف سے فون پر اُن کی بات کروائی جائے کیونکہ انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ میاں صاحب کے قافلے پر کسی نے حملہ کروایا ہے تو وہ افسردہ ہوئیں اور وہ فون پر نواز شریف سے ہمدردی و اظہارِ یکجہتی کرنا چاہتی تھیں ۔ اسی دوران عوامی کراو¿ڈ اُن کی گاڑی کے سامنے آگیا تو وہ اٹھیں کہ ایک سچا عوامی قائد اپنے عوام کو دیکھ کر کیسے بیٹھا رہ سکتا ہے آج اگرچہ ہم یہ اُن کی غلطی کہتے ہیں لیکن ساتھ ہی عوام کے لیے اُن کے والہانہ پن کو بھی ماننا پڑتا ہے عین اسی لمحے وہ سنگ دل دہشت گرد کا نشانہ بن گئیں۔اس کے بعد اُن کی سیکیورٹی پر مامورین کا تو علم نہیں ہوا کہ وہ کہاں پہنچ چکے تھے البتہ اس دردناک سانحہ کے بعد جو قد آور سیاسی شخصیت سب سے پہلے بغیر کسی سیکیورٹی کے ہسپتال پہنچی وہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف تھے جن کے گلے لگ کر پی پی کے کارکن بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے تھے اور خود اس وفادار بھائی کی آنکھوں سے چھلکتے آنسو نہیں رک رہے تھے۔ مابعد جب وہ محترمہ کی قبر پر گڑھی خدا بخش گئے تب بھی آنسووں سے اُن کی آنکھیں سرخ تھیں اور وہ وہاں کھڑے یہ کہتے سنائی دیے کہ میں محترمہ کے مشن کی تکمیل کے لیے جدوجہد کروں گا۔ جی ہاں یہ وہی نواز شریف تھے جو کبھی ایک زمانے میں ڈکٹیٹر ضیاءکے مشن کا علم تھامے دکھائی دیتے تھے۔ اب طعنے بازیوں کی بجائے کیا ان کی اس ذہنی کایا پلٹ پر اظہارِ مسرت و ہمدردی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ وہ نواز شریف جو کبھی ڈکٹیٹر کا ساتھی اور بھٹو دشمنی کی پہچان رکھتا تھا محترمہ کے ساتھ میثاقِ جمہوریت کرتے ہوئے آئین ، جمہوریت اور انسانی حقوق کے چارٹر کو اپنی زندگی کا مشن اور نظریہ بنا چکا تھا۔۔۔کسی کے ماضی کو پکڑ کر حال کی روشنی پر سیاہی پھیرنا اگر روا قرار دیاجائے گا تو پھر اس کی زد میں بڑی ہستیاں آئیں گی۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کا اپنا محبوب لیڈر کیا وہی نہیں ہے جس کی سیاست میں آمد ، پہچان اور پذیرائی ڈکٹیٹر شپ کی محبت اور قربت میں ہوئی جو کبھی سب سے پہلے مارشل لاءایڈمسٹریٹر ایک جنرل کو ڈیڈی کہتا تھا حالانکہ اس نوع کی ”بلندی“ میاں صاحب نے پوری زندگی کبھی نہ کی ہو گی اُس کے لیے بھی نہیں جس نے اپنی زندگی ان کو دینے کی دعا کی تھی۔یہاں غلطیاں کس سے نہیں ہوئیں ہمیں تسلیم ہے کہ میاں صاحب سے مابعد بھی غلطیاں ہوئیںاور پھر انھوں نے اپنی غلطیوں سے سیکھا بھی ہے۔
ہسٹری بلاشبہ کسی کو معاف نہیں کرتی لیکن دوسروں پر تیرو نشتر چلانے سے پہلے ہمیں یہ ادراک ضرور حاصل کر لینا چاہیے کہ آپ کا رہنما کیا وہی نہیں تھا جو شیخ صاحب کے اتنے بھاری اور واضح مینڈیٹ کے باوجود سچائی کو تسلیم کرنے سے انکاری بنا کھڑا رہا۔ جمہوریت میں تو ایک سیٹ کی اکثریت پر پارٹیوں نے پانچ پانچ سال حکومتیں کی ہیں یہاں 160سیٹوں کا مینڈیٹ جیل میں اور 81والا اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے کے لیے پر تول رہاتھا اور پھر انوکھی مثال کہ ایک سویلین چیف مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بنا کھڑا دنیا بھر نے دیکھا اور پھر جس طرح حکمرانی کی شاہی قلعے اور دلائی کیمپوں میں اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ جو کچھ کیا اس سب کو ڈھانپ ہی دیا جائے تو بہتر ہے محترمہ بے نظیر بھٹو کی البتہ یہ عظمت ہے کہ انہوں نے اپنی خونی و جذباتی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر حق اور سچ کی آواز بلند کی وہ امریکا جسے اباجی سفید ہاتھی کہتے نہیں تھکتے تھے محترمہ نے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے کارکنان کو سختی کے ساتھ اس کے خلاف نعرے بازیوں سے روک دیا امریکی پرچم جلانے والوں کو کھلی تنبیہ کی کہ یہ وتیرہ نا قابل برداشت ہو گا ۔ UNپہنچ کر جمہورتیوں کے اتحاد کی بات کی اور دنیا بھر کی آمرتیوں کے خلاف عالمی ایکا کرنے کا نعرہ بلند کیا۔
وطنِ عزیز کے اندر طاقتور ادادروں کی آئین شکنیوں کے خلاف جد و جہد کرتے ہوئے جیلوں کی صوبتیں برداشت کیں ۔ غلط عدالتی فیصلے خواہ وہ پاکستانی سپریم کورٹ ہی کیوں نہ جاری کررہی ہو اُن کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کبھی نہ ہچکچائیںاپنے خلاف ہونے والے فیصلوں کو چمک کا نتیجہ اور جوڈیشل مرڈر کہتی رہیں ۔ آج ہمارے دوست نواز شریف کے خلاف متنازع عدالتی فیصلوں کو جس عقیدتمندی سے پیش فرما رہے ہوتے ہیں کاش محترمہ کی وڈیوز نکال کر یہ سبھی اُن کے الفاظ میں تنقیدی مباحث کو سن لیں کاش محترمہ کا بیٹا اپنی والدہ مرحومہ کی تقاریر سننے کے لیے وقت نکال لے تو اُسے اپنی ماں اور باپ کی سوچ میں آسمان و زمین جتنا فر ق واضح ہو جائے گا۔ آج نواز شریف اپنے خلاف آنے والے فیصلوں پر جو حقائق آشکار کر رہے ہیں ماقبل اس نوع کی تمام تر حقیتیں محترمہ واضح فرمایا کرتی تھیں۔ کیا یہ محترمہ ہی نہیں تھیں جنہوں نے انہی عدالتوں کو کینگرو کورٹس قرار دیا تھا۔ آج آپ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ بطو ر ریفرنس دکھائی دیتا ہے تو مت بھولیں کہ ایسے ریفرنسز کے خلاف آپ برسوں سے چیخ و پکار کرتے چلے آ رہے ہیں ۔ اپنی کچھ تو کریڈ سیلٹی قائم رہنے دیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.