ہندو عورتوں کی جبری مذہبی تبدیلی

37

ہر سال سینکڑوں ہندو خواتین کو اغوا کرکے زبردستی مسلمان بنایا جا رہا ہے اور یہ کام مقامی پولیس کے تعاون سے ہو رہا ہے۔ سندھ جو کبھی صوفیاء اور برداشت کی سرزمین ہوا کرتا تھا وہاں اب بہت سے بیرونی عناصر مذہب کی اپنی تشریح مسلط کررہے ہیں۔میں گزشتہ ہفتے رانی کوٹ گیا جو کہ سان قصبے کے قریب واقع مشہور قلعہ ہے اور اس دورے سے بھی واضح ہو گیا کہ یہ علاقہ کیسے بدل گیا ہے۔ خطے کے سماجی اور سیاسی نظام میں تبدیلی کی بو± واضح طورپرمحسوس ہوتی ہے اور یہ کام صرف مساجد اور مدارس میں ہی نہیں ہے بلکہ دیواروں پر لکھی تحریروں اور لوگوں کے سراپے میں آنے والی تبدیلیوں سے بھی ظاہر ہے۔ بلاشبہ اسلام کی اس نئی تشریح کا سب سے زیادہ نقصان مذہبی اقلیتوں کو ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندو اس علاقے کی آبادی کا چھ فیصد ہیں لیکن اس تعداد کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کیونکہ مردم شماری کے اعدادوشمار مذہبی اقلیتوں کے متعلق خاموش ہیں۔ گزشتہ چند برس کے دوران ہندوو¿ں کو بہت نقصان ہوا ہے

کیونکہ ان کے پاکستان میں کردار پر سوالیہ نشانات اٹھ رہے ہیں باوجود اس حقیقت کے کہ وہ اس سرزمین کے حقیقی باشندے ہیں۔مجھے اس وقت بہت حیرانی ہوئی جب میں نے اپنے ایک دوست کپل دیو کا کالم پڑھا جنہوں نے دوہزار گیارہ کے ورلڈ کپ کے دوران لکھا تھا کہ میرے بہت سے کولیگ جانتے ہیں کہ میں ہندو ہوں اور وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ میں بھارت کی حمایت کروں گا یا پاکستان کی۔ وہ لکھتے ہیں میں سمجھ نہیں پایا کہ مجھ سے یہ فضول سوال کیوں پوچھا جا رہا ہے صرف اس لئے کہ میں ہندو ہوں۔ آخر یہی سوال عیسائیوں سے کیوں نہیں پوچھا جاتا جب پاکستان آسٹریلیا، انگلینڈ یا نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلتا ہے۔

لیکن مسائل یہیں ختم نہیں ہو جاتے۔ جب بات جبری تبدیلی مذہب کی آتی ہے تو یہ کیسز بھی زیادہ تر سندھ سے ہی سامنے آتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان تقسیم کے بعد مسلم اکثریتی ریاست بن چکا ہے اور مسلمان سیاست، معیشت اور معاشرے پر حاوی ہیں لیکن ہندوو¿ں نے صوبہ سندھ میں کچھ سماجی برتری برقرار رکھی تھی یہاں انہیں کامیاب تاجر سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب یہ سب بدل رہا ہے۔اسی دوران چھوٹی ذات کے زیادہ تر ہندو مسلسل طاقتور جاگیرداروں کی زمینوں پر مزارعے بنے ہوئے ہیں اور بہت سے جبری مشقت کا شکار ہیں۔ انہیں سماجی امتیاز کا سامنا ہے اور وہ اکثر ہندو کمیونٹی سے کٹ جاتے ہیں۔دوہزار پندرہ میں جنوبی ایشیا پارٹنرشپ پاکستان نے یہ دلیل دی تھی کہ جبری تبدیلی مذہب کیلئے سماجی، ثقافتی، معاشی اور مذہبی عوامل اصل میں جاگیردارانہ طاقت کے ڈھانچے کے ساتھ یکجا ہو گئے ہیں۔ ا س کام کویقینی بنانے کیلئے ایک پورا نظام حرکت میں آ چکا ہے۔ ایک طرف پولیس کی ملی بھگت ہے تو دوسری طرف بڑی درگاہوں کے متولی بھی کوئی سوال نہیں کرتے جہاں یہ کام ہو رہا ہے۔ جب تک لڑکی کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔نومبر دوہزار سولہ میں سندھ اسمبلی نے جبری مذہبی تبدیلی کے خلاف متفقہ بل منظور کیا تھا۔ یہ بل مسلم لیگ فنکشنل کے رکن اسمبلی نند کمار نے دوہزار پندرہ میں پیش کیا تھا جسے اقلیتوں کے تحفظ کا بل قرار دیا گیا۔ اسے اقلیتوں اور انسانی حقوق پربنائی گئی قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا تھا اور پھر یہ اسمبلی میں واپس آ گیا۔لیکن ایک ماہ کے بعد سندھ حکومت نے علماء کے اعتراضات پر اس بل پر نظرثانی کردی۔ اس فیصلے کا

اشارہ سینئر وزیر برائے پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے اپنے پالیسی بیان میں دے دیا تھا۔ کیونکہ علماء کو یقین تھا کہ بل کی کچھ شقیں اسلامی تعلیمات کے خلاف اور آئین کے برعکس تھیں۔ ریاست اور کئی معتبر مسلمانوں کا رویہ یہ ہے کہ مذہبی تبدیلی خدا کی عنایات حاصل کرنے کا طریقہ ہے۔ یہ کہنا بیکار ہے کہ اکثر مذہب کی اس تبدیلی کو طاقتور درگاہوں، مدارس اور مذہبی رہنماو¿ں کی حمایت حاصل ہوتی ہے جبکہ مقامی سیاستدان بھی اس میں شریک ہوتے ہیں۔ مدارس اور درگاہوں کی طرف سے جوڑے کی حمایت کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ لڑکی اپنی مرضی سے بھاگی ہے، اس نے مذہب تبدیل کیا اور شادی کرلی۔ اس چیز نے وکلاء اورسماجی کارکنوں کیلئے ایک چیلنج کھڑا کردیا ہے جنہیں یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کیا یہ شادیاں مرضی سے ہو رہی ہیں یا پھر ان میں دھمکیاں یا تشدد کا عنصر بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ لڑکی کی گواہی بھی موجود ہوتی ہے جو مسلسل یہ کہہ رہی ہوتی ہے کہ اس نے بالغ حیثیت میں اپنی مرضی کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے والدین کہتے ہیں کہ اس پر طاقتور لوگ دباو¿ ڈال رہے ہیں جنہوں نے اس کا مذہب تبدیل کروایا ہے۔ آخر یہ سب کب تک جاری رہے گا۔ پاکستانی ہندومدد کیلئے پکار رہے ہیں۔ ہم ان کی آواز نظرانداز نہیں کر سکتے۔

 

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.