عاصمہ جہانگیر زندہ باد

31

اگرموت کا مطلب زندگی کا خاتمہ ہے تو عاصمہ جہانگیر کی موت نہیں ہوئی ہے۔ وہ ایک عظیم شخصیت اور انسانی حقوق کی پاسبان تھیں اور انہوں نے سٹیٹس کو کو بھرپور طریقے سے چیلنج کیا۔ عاصمہ جہانگیر اتوار کو لاہور میں اپنے گھر میں انتقال کرگئیں۔ ان کے انتقال کے ساتھ ہی ہم نے اپنے زمانے کی سب سے قدآور ہیرو کو کھو دیا جو کہ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی اپنا مقام رکھتی تھیں۔میری والدہ نے مجھے فون پر یہ خبر سنائی تھی۔ان کی آواز کانپ رہی تھی اور الفاظ گڈ مڈ ہو رہے تھے۔ وہ مجھے بتانا چاہتی تھیں کہ یہ جھوٹی خبر ہے۔ میں نے بھی کئی گھنٹوں تک یہی امید رکھی کہ کاش یہ جھوٹی خبر ہی ہو۔لیکن ہم زیادہ خوش قسمت نہیں رہے۔ پھر میری دوستوں عاصمہ شیرازی، عائشہ تنظیم اور بینش سلیم کے فون آئے، وہ سب حیران تھیں۔ مہمل سرفراز نے واٹس ایپ پر بھی یہ لکھا تو پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ افسوسناک واقعہ ہو چکا ہے۔میں نے عاصمہ جہانگیر کے متعلق اپنی والدہ سے سنا تھا جب میں ابھی بہت چھوٹی تھی۔ پھر ان کا نام ہمارے کھانےکی میز پرمعمول بن گیا۔ میری امی اپنی دوستوں سےان کا نام لے کرباتیں کرتی تھیں اور ابو کے ساتھ ان کی گرما گرم بحثیں بھی ہوتی تھی اور امی اس دور کو ’تاریک دنوں‘ کے نام سے یاد کرتی ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ یہ دور ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد کا دور تھا۔ پھر انیس سو اسی کی دہائی کے شروع
میں میری والدہ مجھے ایک مظاہرے میں لے گئیں جہاں بہت سے لوگ نعرے لگا رہے تھے۔ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ مظاہرہ ضیاء الحق کے قانون شہادت کے خلاف خواتین کا مظاہرہ تھا۔ وہاں نعرے لگاتی ہوئی پانچ فٹ سے کچھ اونچی عورت میری توجہ کا مرکز بن گئی۔ یہ میرا اس بہادر اور دلیر خاتون عاصمہ جہانگیر سے پہلا تعارف تھا۔انیس سو نواسی میں میں نے طلبہ یونین کیلئے پہلا الیکشن لڑا جب بینظیر بھٹو کی حکومت نے یونینز بحال کر دی تھیں۔ تب میری ملاقات عاصمہ جی سے ہوئی۔ کیونکہ بینظیر کے بعد میں سب سے زیادہ انہی سے متاثر ہوتی تھی۔ عاصمہ جی کی مستقل مزاجی اور واضح مقصد، ان کے کردار کی طاقت اور ان کی بے مثال ہمت اور ہر قیمت پر اپنے مقصد کی خاطر لڑنے کی صلاحیتوں سے میں بہت متاثر ہوتی تھی۔ پھر انیس سو نوے، اکانوے کے دوران جب میں پری میڈیکل سٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کی صدر کے طور پر طالبات کے حقوق کیلئے لڑ رہی تھی تو میں اس وقت حیران رہ گئی جب مجھے ان کی کال آئی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں مستقل مزاجی سے ڈٹی رہوں اور انہوں نے مجھے مدد کی پیشکش بھی کی۔ اس وقت یہ صورتحال تھی کہ ہمارے پاس پری میڈیکل سرٹیفکیٹس موجود تھے لیکن اس لئے داخلہ نہیں ملا کیونکہ ان لڑکوں کو داخلہ مل گیا تھا جن کی کامیابی کا مارجن ہم سے دھا تھا۔
نواز شریف کی صوبائی کابینہ ہمیں بینظیر بھٹو کے ایجنٹ قرار دینے پر تلی ہوئی تھی اور ہماری ہر دلیل کو مسترد کر رہتی تھی۔ عاصمہ جی نے ہماری جدوجہد کو اجاگر کیا اور کامیاب مہم چلانے میں رہنمائی دی۔ انیس سو اکانوے کے اواخر تک ہم نے اپنا کیس سپریم کورٹ میں جییت لیا۔ لیکن میں عاصمہ جی کا شکریہ ادا نہ کر سکی۔ اس وقت سے پھر میرے لئے واپسی کے دروازے بند ہو گئے تھے۔ امی بہت خوش تھیں کہ میں عاصمہ جی کی پیروی کر رہی تھی کیونکہ وہ خود خاندانی دباو¿ کی وجہ سے ایسا نہ کر پائی تھیں۔ اس وقت سے اب تک عاصمہ جی ہمیشہ میری رہنمائی کیلئے موجود ہوتی تھیں۔ ان کی دعوت پر میں ایچ آر سی پی کی رکن بنی۔ ان کے مخالفین انہیں پاکستان مخالف اور اسلام مخالف کہتے تھے کیونکہ وہ ریاستی عسکریت پسندی، جبر، انتہاپسندی اور آمریت کے خلاف تھیں۔ ان کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز مہمات چلائی گئیں۔ انہیں برا بھلا کہا گیا۔ کچھ برسوں تک ان کی بال ٹھاکرے کے ساتھ تصاویر بھی مقبول ہوئیں۔ کسی کو احساس نہیں ہوا کہ عاصمہ جہانگیر ایک مشن کے ساتھ بال ٹھاکرے سے ملنے گئی تھیں جس کا مقصد یہ پتا چلانا تھا کہ مسلمانوں پر کیا مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
پاکستان کے نام نہاد قوم پرستوں نے یہ کہہ کر ان پر تنقید کی کہ وہ جان بوجھ کر کچھ معاملات پر خاموش رہتی ہیں خاص طورپر کشمیر میں ہونے والے مظالم پر۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی ظلم پرخاموش نہیں رہتی تھیں۔ گزشتہ برس انہوں نے کشمیریوں کی حمایت میں مظاہرے کئے۔ ایران میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی نمائندہ ہونے کے ناطے انہوں نے انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت بیانات دیئے اور میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کا کیس بھی اچھی طریقے سے پیش کیا۔انہوں نے خود پر اور اپنے کردار پر انتہائی گھٹیا
حملے برداشت کئے اوروہ بھی مسکرا کر۔ وہ مجھے ہمیشہ بتاتی تھیں کہ سوشل میڈیا پر ایسی تنقید پر توجہ نہ دوں جس کی وجہ سے مجھے دو سال پہلے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ وہ غصے میں کیوں رہتی ہیں۔ میں انہیں بتاتی تھی کہ وہ اس لئے غصہ کرتی تھیں کیونکہ وہ لوگوں کی پرواہ کرتی تھیں۔ انہوں نے اے جی ایچ ایس کے لیگل ایڈ سیل، ایچ آر سی پی اور کئی فورمز پربھی بھرپورخدمات انجام دیں۔ وہ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کی پہلی خاتون نمائندہ خصوصی تھیں۔ اب تک یہ اعزاز صرف تین خواتین کو ملا ہے۔ میں نے انہیں کئی بار خوشگوار موڈ میں بھی دیکھا ہے۔آخری بار ہماری بات چیت چند روز پہلے ہوئی تھی۔ وہ ’قومی مفاد‘ پر ایک قومی مباحثہ کرانا چاہتی تھیں۔ ہم نے فون پر اس حوالے سے طویل بات چیت کی۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اگلی بار جب وہ اسلام آباد آئیں گی تو تفصیلی ملاقات ہو گی۔ لیکن وہ اپنا یہ کام پورا نہ کر پائیں۔انہوں نے آخری مرتبہ اسلام آباد میں پختون دھرنے سے خطاب کیا۔ وہ قوم و مذہب کی تخصیص کے بغیر لوگوں کی مدد کرتی تھیں۔ وہ کسی ظاہری حدود کی محتاج نہیں تھیں۔ اس لئے انہیں اب انسانیت کا پیکر ہی سمجھا جانا چاہیے جو انصاف اور مساوات کی علامت تھیں۔ پاکستان کی خوش قسمتی تھی کہ اسے عاصمہ جہانگیر جیسی لیڈر ملیں جو ملک کے ضمیر کی علامت تھیں۔ وہ انسانی خوبیوں کا اظہار تھیں۔ ان جیسا ہیرو نہ تومر سکتا ہے نہ دنیا سے ہٹ سکتا ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کیلئے ہزاروں چراغ جلائے جو ان کی بقاء کے ضامن ہیں۔ عاصمہ جہانگیر زندہ باد۔ ہماری دعا ہے آپ ہمیشہ طاقتور رہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.