وہ لبرل فکر کی حاضر امام تھیں؟

69

مارچ 1997ءمیں پہلی دفعہ محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ سے ملاقات کے لیے گلبرگ میں اُن کی رہائش سے متصل دفتر گیا تو اس درویش کے لیے یہ بات دلچسپ حیرت والی تھی کہ سب لوگ اُن کا ذکر ”بی بی“ کہتے ہوئے کر رہے تھے، ”عاصمہ بی بی“۔ میرے ذہن میں تھا کہ ویسٹرن سولائزیشن کے زیر اثر سب انہیں میڈم کہتے ہونگے۔ بات اگرچہ معمولی تھی لیکن تھی دلچسپ۔۔۔البتہ یہ سوال میرے ذہن میں ہمیشہ رہا کہ جب اُن کی شہرت محترمہ عاصمہ جیلانی کے نام سے ہو چکی تھی تو انہوں نے مابعد اُسے اپنے خاوند کی مناسبت سے عاصمہ جہانگیر کیوں کیا؟بالفرض ایک بچی کو اگر طلاق ہو جائے تو وہ اپنا نام بار بار کیوں بدلتی رہے؟۔اس سوال کی وجہ شاید میری اُن کے والد مرحوم ملک غلام جیلانی صاحب سے اپنائیت تھی جو بلاشبہ ایک ہمہ پہلو بڑے انسان تھے اور شاید یہ انہی کی تربیت تھی کہ محترمہ عاصمہ بی بی اس مقام کو پہنچیںکہ آج وطنِ عزیز میں محترمہ فاطمہ جناح اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد تیسری بڑی قدآور شخصیت قرار پائی ہیں ۔ آج اُن کا احترام جس قدر پی پی کے حلقوں میں ہے اُسی قدر ن لیگ کی قیادت اور پارٹی ورکرز میں بھی عقیدت مندی کے ساتھ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے جماعتِ اسلامی کے بانی مولانا مودودی محترمہ عاصمہ بی بی کے والد مرحوم کا جس قدر احترام کرتے رہے اُن کے بیٹے سید حیدر فاروق بھی ویسا ہی احترام محترمہ عاصمہ بی بی کا عمر بھر کرتے پائے گئے اور آج بی بی کی نماز جنازہ پڑھانے کی سعادت بھی انہی کو حاصل ہوئی ۔ علاوہ ازیں وطنِ عزیز کے علمی ادبی اور صحافتی حلقوں میں بھی انہیں ان کی خدمات کے کارن بہت احترام ملا۔۔۔محض اکیس سال کی عمر میں انھوں نے اپنے والد مرحوم کا کیس سپریم جوڈیشری میں جس پامردی سے لڑا وہ انہیں امر بنا گیا۔ جسٹس حمودالرحمن کا تحریر کردہ فیصلہ اس کا بین ثبوت ہے۔
وطنِ عزیز کے قانون دان طبقے میں اُن کا اس قدر
احترام تھا کہ وہ ججز کے ساتھ ساتھ جنرلز پر بھی کھل کر برستی تھیں مگر کسی میں اُن پر ہاتھ ڈالنے کا یارا نہیں تھا۔ وکلاءمیں کبھی حامد خان گروپ کا طوطی بولتا تھا تو اب عاصمہ جہانگیر گروپ چھایا دکھائی دیتا ہے۔۔ جب وہ سپریم کورٹ بار کی صدر منتخب ہوئیں تو درویش نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس آرزو کا اظہار کیا کہ وہ پہلی خاتون صدرِ مملکت بھی منتخب ہوں اگر زندگی وفا کرتی تو یہ سوچ آنے والے دنوں میں حقیقت کا روپ دھار سکتی تھی لیکن سچ تو یہ ہے کہ وہ ان دنیوی عہدوں سے کہیں بلند تر انسانی خدمت کے اُس مقام پر فائز ہو چکی تھیں جس کے سامنے یہ تمام عہدے ہیچ ہیں۔ ہمیں یہاں یہ بھی تسلیم ہے کہ وطنِ عزیز کے تنگ نظر یا شدت پسند مذہبی طبقات میں ان کی مخالفت ہوئی اور بہت شدید ہوئی۔ کافروزندیق سے لے کر کون سا رذیل الزام ہے جو اُن کی روشن خیالی یا لبرل اپروچ پر نہیں لگایا گیا۔ انہیں احمدی یا احمدیوں کی ایجنٹ تک کہا گیا ۔ ویمن رائٹس یا آنر کلنگ کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں ویسٹرن سولائزیشن کا نمائندہ یا ترجمان قرار دیا گیا جو مغربی دنیا میں پاکستان کو بدنام کروانے پر تلی بیٹھی ہے۔۔۔جنوبی ایشیاءمیں امن و سلامتی کے لیے انہوں نے جب انڈیا دشمنی ختم کرنے کی سوچ کو ابھارا تو انہیں وطن دشمن اور انڈیا کی ایجنٹ تک کہا گیا مگر سلام ہے اس عظیم خاتون کے ولولے اور پہاڑ جیسے عزم و ہمت پر، تمام تر الزامات کی بوچھار اور قیدو بند کی صعوبتیں اس کے پائے استقلال میںلغزش پیدا کرنے سے قاصررہیں۔وہ اتنی بہادر نڈر اور ولولہ انگیز خاتون تھیں کہ کوئی بہادر سے بہادر مرد بھی ان کا ثانی نہ ہوگا۔ بڑے بڑے لیڈر بھی اُن سے حوصلہ پاتے تھے ۔ اتنی بے باکی سے اتنا واضح اور ٹھوس بولتی تھیں کہ بڑوں بڑوں کی بولتی بند ہو جاتی تھی۔ اُن کی آواز میں ایک وقار اور الفاظ میں ایک کاٹ تھی۔وہ ہمیشہ ایشوز اور نان ایشوز کے فرق کو واضح کرتے ہوئے گویا ہوتیں کہ کیوں پوری قوم کو نان ایشوز میں الجھایا جاتا ہے ۔ قوم کے اصل ایشوز یہ ہیں کہ یہاں سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو بے انصافی اور جنسی امتیاز کا خاتمہ ہو۔ قانون کی حکمرانی کا مطلب ہے کہ کوئی ادارہ قانون کی گرفت سے ماوراءنہ ہو ہماری سوسائٹی کو مذہبیت کے نام پر یرغمالی بنایا گیا ہے ہمیں خواہ مخواہ انڈیا دشمنی میں الجھایا گیا ہے ڈکٹیٹر شپ اور آمریت سے جتنی وہ متنفر تھیں شاید ہی کوئی دوسرا لیڈر ہو گا۔ وہ ایسی بے چین روح تھیں جو پاکستان کو ماڈریٹ ترقی یافتہ سیکولر اور خوشحال ملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہتی تھیں جہاں مذہب نسل اور جنس کی بنیاد پر کسی کا استحصال نہ ہو خواتین اور اقلیتوں کو برابری کے حقوق حاصل ہوں ۔فکری آزادیوں کے ساتھ وہ آزادی اظہار کی علمبردار تھیں ۔اُن سے آخری ملاقات ہائیکورٹ کے کمرہ عدالت میں ہوئی تو دیکھتے ہی بولیں کہ ”آپ نے صحافت کے ساتھ ساتھ وکالت بھی شر وع کر دی ہے کیا“؟ کہا”نہیں بی بی جی اخبار کے ساتھ سرکار کا کام بھی کرنا پڑتا ہے “۔بولیں وہ کیا؟ عرض کی کہ ”قبرستان میانی صاحب کی ذمہ داری ہے وہاں کے کئی کیسز ہیں جن کے لیے عدالتی پیشی ہوتی رہتی ہے “ ”اچھا اچھا کسی روز مجھے میرے چیمبر میں ملیے گا“ یہ وہ آخری الفاظ ہیں جو اپنی اس محبوب ہستی سے با لمشافہ سننے کو ملے ۔لیکن اتوار کی صبح جب شامی صاحب نے فون پر یہ کہا کہ ”ذرا اس خبر کی تصدیق کیجیے کہ کیا عاصمہ جہانگیر وفات پا گئی ہیں “ تو دل کو چوٹ لگی تب تک بہت سے دوستوں کو علم نہیں تھا تصدیق ہونے پر شامی صاحب کو جوابی فون کیا تو وہ بھی بہت دلگرفتہ تھے وہ اُن کے ساتھ اور ان کے والد محترم کے ساتھ بیتی یادوں کے واقعات سناتے رہے مثلاََ ایک دن انہوں نے کہاکہ شامی صاحب اگر رائیٹسٹ آپ جیسے ہوں تو پھر رائیٹ لیفٹ کا کوئی جھگڑا باقی نہیں رہ جاتا۔
ہماراگمان ہے کہ وطنِ عزیز کے موجودہ حالات کے تناظر میں عاصمہ جہانگیر صاحبہ کی موت کا سب سے زیادہ نقصان نواز شریف کو پہنچا ہے ہماری قومی سیاست میں وہ ان کا مقدمہ جس بیباکی اور دلائل کے ہتھیاروں سے لڑ رہی تھیں وہ لاجواب تھا ۔ وہ ایجنسیوں کے رول اور اس میں عدالتی گٹھ جوڑ کی پوری تاریخ سے جتنی باخبر تھیں اتنی ہی باریک بینی اور انہاک سے وہ اس پراظہار خیال بھی کرتی تھیں ۔ ملک کے دبے ہوئے طبقات بالخصوص اقلیتوں اور غریب خواتین کے حقوق کی بھی وہ عدالتی اور معاشرتی ہر دو حوالوں سے سرپرست و وکیل تھیں بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ وہ پاکستان کے تمام سیکولر اور لبرل خواتین و حضرات کی فکری امامت و قیادت کے مقام جلیلہ پر فائز تھیں۔ اُن کے یوں اچانک چلے جانے سے فکری و نظری ہی نہیں عملی ترجمانی کے لیے بھی بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے ۔ ہم نے جناب نجم سیٹھی صاحب کی خدمت میں گزارش کی ہے کہ اب وہ کھیل تماشے کی سرپرستی کو خیرباد کہتے ہوئے محترمہ عاصمہ بی بی کا فکری مورچہ سنبھالیں اور وطنِ عزیز کے روشن خیال طبقات کی رہنمائی فرمائیں ۔آخر میں ہم محترمہ عاصمہ جہانگیر صاحبہ کے جنازے کا احوال بیان کرتے ہوئے تین خوبصورتیوں کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں اول یہ کہ ہم نے زندگی میں پہلی مرتبہ کسی جنازے میں خواتین کی اس قدر دلسوزی کے ساتھ شرکت ملاحظہ کی ہے دوسرے اس میں اقلیتی نمائندگی ہوئی ہے تیسرے ان کی گردن ٹیڑہی نہیں کی گئی ہے ۔ ہمارے احباب جو ذرا ذرا سی بات پر فتاویٰ اٹھائے پھرتے ہیں اُن کی خدمت میں گزارش ہے کہ حوصلہ رکھیں ہمارا مذہب محض الفاظ کا گور کھ دھندہ نہیں ہے بلکہ اس سے ماو راءانسان نوازی و دلسوزی کا صوفیانہ پیغام ہے ہمیں روز اول یہ بتایا گیا تھا کہ اچھائی و دانائی تو آپ کی اپنی گمشدہ متاع ہے لہٰذا یہ جہاں سے بھی ملے اسے اٹھا لو۔۔اقبال ؒ فرماتے ہیں ۔ عقل و دل و نگار کا مرشد اولین ہے عشق عشق نہ ہو تو شرع و دیں تبکدہ تصورات اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلماں نہ ہوتو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق۔۔۔بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے ۔مرحومہ عاصمہ بی بی زندگی بھر تمام مذاہب کا احترام کرتی رہیں تو آج تمام مذاہب والے اُن کے احترام میں کھڑے تھے نسلی طور پر تمام صوبوں کی نمائندگی موجود تھی وہ بلوچوں اور پختونوں کے حقوق کی بات کرتی تھیں وہ باچا کی تعلیمات کے حوالے دیتی تھیں آج باچا خان کے عقیدتمندہ افراسیاب خٹک اور میاں افتخار کی صورت یہاں موجود تھے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.