زبان خلق کو نقارہ خُدا سمجھو

75

پچھلے ماہ وسط جنوری میں کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ ویسے تو سفر وسیلہ معاش اور صحافتی و ادبی سرگرمیوں کے سلسلے میں وقتاً فوقتاً ملک کے مختلف شہروں کا چکر سالا سال لگا رہتاہے جسکی برکت سے ریاستی کارندوں کے تحکمانہ رویوں کاحاکمانہ و فاتحانہ چلن اس کا رعب و دبدبہ برداشت کرنے کا کافی حوصلہ و تربیت کا ملکہ حاصل ہوچکاہے۔مگر اس بار بہُت کُچھ زیادہ غیر متوقع واقع ہوا۔اور کیوں نہ ہو ان دنوں میں میڈیا پر ملتان ریلوے اسٹیشن پر ریاستی محافظوں کے انسداد دہشت گردی مہم میں پگڑی (دستار) پہنے، چادر اُڑھے، پشتوں کلچرل واسکٹ جیسی خود کش جیکٹ پہنے، مولویوں کے بتائے ہوئے شرعی نصاب کے مطابق مگر روایتی لمبی داڑھی رکھے دو پشتون کلچرل لباس میں ملبوث موٹے تازے دہشت گردوں کا سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مقابلے کو ٹریننگ کا حصہ بنا ئے جانے نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ہماری دینی، اخلاقی ، جمہوری، ادبی و سیاسی قدروں کی یہ پوری شکست
تھی۔اس حسرت ناک انجام نے ثابت کردیا کہ ہماری سیاست و جنونیت ابتداء ہی سے جن بنیادوں پر استوار تھی وہ سرے سے ہی کھوکھلے تھے۔ہمارا فکر اُمت اور افغان مداخلت پالیسی فاسد اور شرانگیز تھی۔ہمارا فکر و سماج روگی ہوچکا ہے اور یہ کہ ہمارا قومی،مذہبی اور جمہوری ذہن مذہبیت، قومیت اور جمہوریت کی اصل روح سے اب تک بے گانہ ہی ہے۔ہمارے ملکی ادارے و جمہوری تنظمیں نہ صرف اخلاقی حس سے محروم ہیں بلکہ ان کا یہ نعرہ محض ایک نمائش سے زیادہ کُچھ نہیں ہے۔ مذہب جس کا اولین کام انسانوں کے اندر انسانیت کا شعور بیدار کرنا تھا معاف کرنا وہ ملک کے اس بڑے صوبے کے مذہبی جماعتوں کے منشور میں یکسر مفقود ہے۔بات سفر کی ہورہی تھی ۔سویرے سویرے ٹیکسی میں سفر کے دوران ریاستی محافظوں کی وردی میں ملبوس محافظ نما لوٹیرے جابجا جامعہ تلاشی، بیگ تلاشی کے ساتھ ساتھ بٹوے کی بھی خوب خبر لیتی ہے۔ میرے بٹوے پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے پریس کارڈ دیکھ کر ان کی مایوس کن مگر شرمناک حالت قابل دید نی تھی۔کراچی شہر میں رہنا پشتون برادری کے مزدوروں ،ٹرانسپورٹروں ، ریڑی بانوں اور کاروباری حضرات کیلئے عذاب بنا دیا گیا ہے۔ کرب و خوف کی فضا میں جب نقیب اللہ کے ریاستی قاتلوں کے گرفتاری کے حوالے سے قائم احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا تو پتا چلا کہ یہاں تو مسنگ پرسنز اور ان کاﺅنٹرز کی فہرستیں اور داستانیں رقم ہے۔ چارسو چوالیس افراد ان کاﺅنٹر کی جو بات ہے وہ تو صرف ایس ایس پی راﺅ انوار کی ضلع ملیر کے حدود میں ہے اس شہر کے دیگر تھانوں میں ڈھائے گئے مظالم کی داستانیں اس سے الگ ہے۔ جو ابھی تک صیغہ راز میں ہے ۔یہ تو سنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب ، دھرم ، فرقہ،مسلک اور دین نہیں ہوتا مگر یہ نہیں سنا تھا کہ دہشت گردوں کا ایک کلچر، ثقافت،زبان ،رنگ اور نسل بھی ہوتا ہے ملتان ریلوے اسٹیشن پر ریاستی محافظوں کے ٹریننگ میں مذکورہ پشتون ثقافت کو دہشت گردی کے علامات کے طور پر شامل کرنے سے اس امر پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے۔یہ پہلی دفعہ نہیں تھا اس سے پہلے بھی جب اپریشن ردالفساد اور ضرب عضب کے دوران پنجاب میں پشتونوں کے خلاف کریک ڈاﺅن ہوا تھا تبھی ریاستی محافظوں کاکاروبار خوب چمکا تھا انہیں یہ احساس دلایا گیا تھا کہ چونکہ وہ اس صوبے کے شہری نہیں تو یہ کاروبار ان کا کیسے ہوسکتا ہے۔ جب لوگ شکایت کرتے ہیں انہیں نسل پرست، فاشسٹ اور غدار جیسے القابات سے نواز اجاتا ہے۔۔ ایسے میں رعایا اور ریاست کے درمیان بد اعتمادی کے اس خطرناک خلاءسے فائدہ نہ اُٹھانے والا دشمن ہماری طرح احمق ہی گرداناجائے گا۔ہمارابیانیہ اُمہ نے جو عملی تشکیل کی او ر اس تشکیل کے تحت جو ادارے پیدا کئے اس پر سکتہ طاری ہے۔ہمیں اس شکست کا کھُلے دل سے اعتراف کرلینا چاہیئے، اس ضمن میں ہماری اصلاحی کوششیں کارگر ثابت نہیں ہورہیں ۔ بنیاد کمزور ہونے کی وجہ سے دیواریں بوسیدہ ہوگئی ہے انہدام کے انتظار میں وقت گنوائے بغیر اس کو متبادل بیانیہ دے کر بچانے کی کوششں کرنی چاہیئے خصوصاً ایسے حالات میں کہ باسیان وطن میںا پنے وجود تمدنی کا احساس شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ دو طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ اس بیانیے کے بانیان کے پیروکاروں کے سبب پنجاب یونیورسٹی میں دیگر صوبوں کے طلباءپر علم کے حصول کے دروزے بند کئے جارہے ہیں طلباءخوف ،دہشت اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہے۔۔مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کے مصداق اس بیانیے کی ناکامی کا ملبہ بھی دیگر لسانی قوموں پر ڈالا جایا جارہا ہے جسکی سزا پنجاب یونیورسٹی کے معصوم پشتون وبلوچ طلباءبھگت رہے ہیں ۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.