عاصمہ۔۔۔انتہائی دلیر خاتون

43

میں جب آخری بار عاصمہ جہانگیر سے لندن میں ملا تھا تو میں نے ان سے کہا کہ عاصمہ آپ ہمارا آخری سہارا ہیں، آپ کے بعد سیلاب آجائے گا۔ جب جرنیل یہ باتیں کررہے تھے کہ ستر ہزار سے زائد معصوم پاکستانیوں کے قاتلوں اور ان کے سروں سے فٹبال کھیلنے والوں کو مرکزی دھارے میں شامل کر لیا جائے تو عاصمہ جہانگیر کی موجودگی میں اس بات کی امید تھی کہ ہم یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ میرے جیسے زندگی کے آخری حصے میں پہنچنے والے لوگوں کو شاید ایسی امید کی ضرورت بھی تھی لیکن ان کی بے وقت موت سے یہ امید بھی ٹوٹ گئی حالانکہ اس وقت پاکستان کو بطور ملک اور معاشرہ ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔جب بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا تھا تو میں نے خود سے سوال کیا تھا کہ کیا ہمیں اپنے ملک کو تباہ کرنے کیلئے کسی اور چیز کی بھی ضرورت ہے؟ اب جبکہ قومی افق پر مذہبی انتہا پسندی ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے اور انتہاپسندوں نے قائد کے پاکستان کو دفن کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تو کیا ہم اپنی بقاءکی اس جنگ میں عاصمہ جہانگیر جیسی انتہائی دلیر خاتون کو کھونے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟عاصمہ جہانگیر کی موت پر وہ بھی افسردہ ہیں جو اچھائی اور برائی میں تمیز کرسکتے ہیں۔ جب کبھی بھی بے یارومددگار لوگوں کی چیخ و پکار سنائی دے گی تو یہ عاصمہ جہانگیر
کی موت کا ماتم ہو گا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جن الفاظ میں عاصمہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے اس سے بہتر الفاظ ملنا مشکل ہے۔ انہوں نےکہا کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے ’انسانی حقوق کے دیو‘ کی موت ہو گئی ہو۔ انہوں نے عاصمہ کی انصاف اور مساوات کیلئے جدوجہد کو بھی سراہا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے عاصمہ جہانگیر کی وفات پر افسردہ لوگوں سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔ان کے الفاظ تھے کہ عاصمہ جہانگیرانسانی حقوق اور مساوات کی ان تھک داعی تھیں۔ انہوں نے ایک پاکستانی وکیل ہونے کے ناطے نظام انصاف کے ندر بھی اپنی خدمات انجام دیں اور عالمی سطح پر سول سوسائٹی کی رکن اور اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ہونے کے ناطے بھی اپنے فرائض بخوبی نبھائے۔ عاصمہ جہانگیر بہت شاندار، با اصول، باہمت اور مہربان خاتون تھیں۔مجھے معلوم ہے کہ انہیں تاریکی کی قوتوں سے مسلسل دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔ انہیں کباب میں ہڈی سمجھا جاتا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ ایک دیو ان کی مخالفت پر کمربستہ ہے۔وہ لوگ اس بات سے پریشان تھے کہ یہ خاتون لاپتہ افراد کے لیے آواز کیوں اٹھا رہی ہے۔ ان کا بلوچستان کو غیرفوجی علاقہ بنانے، اس کے لوگوں کو جمہوری اور آئینی حقوق سے استفادہ کرنے کا مطالبہ بھی ایسی چیز تھا جس کی وجہ سے ان کی زندگی مسلسل خطرے میں رہتی تھی۔ ان کی زندگی پر مسلسل حملے ہوئے لیکن وہ ہر بار محفوظ رہیں۔ وہ شاید بینظیر بھٹو کے بعد دوسری لیڈر تھیں جو یہ سمجھتی تھیں کہ موت کا خطرہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو وہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں گی۔ جب کبھی بھی میں انہیں وارننگ دیتا تھا تو وہ بینظیر کے الفاظ دوہرایا کرتی تھیں۔ وہ الفاظ یہ تھے ”اگر موت کو آنا ہے تو آ جائے۔ اس سے ڈرنا چاہیے نہ اپنے ان مقاصد کو چھوڑنا چاہیے جس کیلئے انہوں نے ساری زندگی جدوجہد کی ہے“۔
میری ان سے پہلی ملاقات انیس سو نواسی کے شروع میں ہوئی تھی۔ میں راولپنڈی میں وزیراعظم ہاو¿س کے ایک ڈنر میں شریک تھا۔ وہاں آئی ایس آئی کے چیف لیفٹیننٹ جنرل حمید گل بھی میز پر ہمارے ساتھ موجود تھے۔ وہ بڑے جوشیلے تھے۔ مجھے عاصمہ کا تو علم نہیں لیکن میں پہلی مرتبہ ایک جرنیل کی باتیں سن رہا تھا۔ ہم اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے بظاہر ایک ریاستی راز سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ جلال آباد جلد ہی مجاہدین اور آئی ایس آئی کے مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں قبضے میں آجائے گا۔ میں نے اور عاصمہ نے ان کے تفصیلی بیان کی مخالفت کی۔ اور ایک پنجابی ک±ڑی کی طرح انہوں نے گل کو اپنے دل کی بات بھی کہہ دی جب گل نے کہا کہ ہماری سرحدیں دریائے آکسس تک بڑھ جائیں گی۔ انہوں نے پنجابی میں حمید گل سے کہا کہ جنرل صاحب ذرا سنبھل کررہیے گا کہیں ہماری سرحدیں بڑھنے کی بجائے سکڑ نہ جائیں۔ بلاشبہ یہ ایک دلچسپ بحث تھی اور میں دیکھ سکتا تھا کہ ان کے اندر ایک جوالا مکھی موجود ہے جسے ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا اور جب بھی انہیں لگتا تھا کہ وہ حق پر ہیں تو وہ
بھرپور طریقے سے آواز بلند کرتی تھیں۔ شاید ان کی وارننگ کا مطلب یہ تھا کہ آج آپ افغانستان کو اپنی تزویراتی گہرائی سمجھتے ہیں کل شاید یہ معاملہ الٹ ہو جائے۔ بعد میں خطے میں جو کچھ ہوا اس نے عاصمہ جہانگیر کی وارننگ کو سچ ثابت کیا۔ جن مجاہدین کی حمید گل نے تربیت کی تھی اور انہیں مسلح کیا تھا انہوں ںے الٹا اپنی بندوقیں ہم پر ہی تان لی ہیں۔ پاکستان ان کیلئے تزویراتی گہرائی بن گیا ہے اور امریکہ ان کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کی دھمکی دے رہا ہے۔ عاصمہ جہانگیر ایک بہت ہی حساس شخصیت تھیں اور انہوں نے خطے کے ممالک میں غریبوں کی حالت زار دیکھی تھی۔ وہ امن اور تنازعات کے پرامن حل کی حامی تھیں۔ اکثر میں دیکھتا ہوں کہ لوگ ان کی پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہیں۔ انہوں نے جب بھی بھارت سے امن کی بات کی تو پاکستان کے مخصوص ایوانوں میں لوگ اس سے ناراض ہوئے جو تاریک ریاست کے تحت کام کررہے تھے۔ اور میڈیا میں بیٹھے ان کے زر خرید لوگ عاصمہ جہانگیر کو راءکی ایجنٹ قرار دیتے رہے۔ عاصمہ مانتی تھیں کہ ہتھیار، ہتھیار ہی ہوتا ہے اور وہ اصولوں کو ذاتی تعلقات پر قربان نہیں کرتی تھیں۔ وہ بینظیر کے بہت قریب تھیں اور بی بی بھی ان کی بہت عزت کرتی تھیں۔ آخری بار وہ برطانیہ میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیڈی مارگریٹ ہال میں آئی تھیں۔ وہاں انہوں نے پانچ فروری دوہزار اٹھارہ کو بینظیر کی یادگار پر اپنی دوست بینظیر کو خراج تحسین پیش کیا۔ درحقیقت یہ انتہائی یادگار لمحہ تھا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.