عاصمہ کی مشعل کون اٹھائے گا

36

مستقبل میں عاصمہ جہانگیر کی مشعل کون اٹھا کر دوڑے گا؟ ان کی جوت کون جگائے رکھے گا؟ اب تاریکی کا شکار بے آواز پاکستانیوں کیلئے صرف بہادر، دلیر اور ہمت والے لوگ ہی لڑیں گے۔ صرف وہی لوگ کرپٹ ایلیٹ کلاس کا مقابلہ کریں گے جن کے ضمیر زندہ ہیں۔ کچھ ہی لوگوں میں یہ ہمت ہے کہ وہ ان غیرانسانی، مذہبی قدامت پسند اور ظالم قوتوں کا مقابلہ کریں جو مسلسل پاکستان پر اپنی گرفت مضبوط رکھے ہوئے ہیں۔ عاصمہ کے تاریخی کیریئر نے کئی لوگوں متاثر کیا لیکن اب سوال یہ ہے کہ ان کے نقش قدم پر کون چلے گا؟ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان کے ساتھی آئی اے رحمان کو امید ہے کہ بہت سے نوجوان مردوخواتین جو عاصمہ سے متاثر ہیں اور جن کی عاصمہ نے تربیت کی تھی اور وہ ان کے ساتھ کام بھی کر چکے تھے وہی لوگ اب آگے آئیں گے۔جب دوہزار پانچ کے زلزلے سے پاکستان کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا تو عاصہ جہانگیر نے نیویارک میں پریمیرئر ایشیا سوسائٹی میں ماحولیات کے حوالے سے بات کی تھی۔ اس وقت برنارڈ کالج کولمبیا یونیورسٹی کی ایک طالبہ رابعہ بات کرنے کیلئے میرے ساتھ گئیں۔ ان کے کالج میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے زلزلہ متاثرین کیلئے کافی رقم جمع کی تھی۔ ایشیا سوسائٹی کی سربراہی ایک بھارتی خاتون کر رہی تھیں۔ توقع کے مطابق آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ زیادہ تر لوگ بھارتی شہری تھی جو پاکستان کی عظیم ترین انسانی حقوق کی کارکن کو سننے آئے تھے۔ انہیں مایوسی نہیں ہوئی۔ لیکن میں مایوس تھی۔ لیکن مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ زلزلے کے بعد کوئی شخص ایک غیرملکی پلیٹ فارم پر اپنی مسلح افواج کو تنقید کا نشانہ بنائے۔ چنانچہ میں نے سوال، جواب کے سیشن کے دوران عاصمہ سے سوال کیا کہ کیا ان کیلئے یہ زیادہ اہم نہیں تھا کہ وہ امریکہ آنے کی بجائے واپس ملک میں رہ کر لوگوں کی مدد کرتیں؟انہوں نے مجھے ایک سیکنڈ میں خاموش کروا دیا۔ چنانچہ میں بیٹھ گئی۔ انہوں نے جس اندازمیں بات کی تھی اس سے حاضرین محظوظ ہوئے اور سب ہنسنے لگے۔
دو ماہ بعد جب میں اپنے سابق ایڈیٹر کے گھرڈنر پر گئی اور وہاں میڈیا کے بہت سے سینئر لوگوں سے ملی۔ وہاں بھارتی صحافی کلدیپ نائر بھی موجود تھے۔ میں نے ان سے یہ واقعہ بیان کیا۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں اپنی کہانی ختم کر پاتی۔ ان میں سے ایک نے موبائل نکالا اور عاصمہ کا نمبر ڈائل کر کے ان سے فوری طور پر وہاں آنے کیلئے کہا۔ میڈیا کے باقی لوگ اور میزبان خاتون کو بھی غصہ تھا کہ میں نے یہ بات کی ہی کیوں۔ میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ اب لوگ ہم سے اکتا چکے ہیں اور اب یہاں سے جانے کا وقت ہے۔ جب میں گھر واپس جا رہی تھی تو مجھے احساس ہوا کہ جو لوگ عاصمہ سے محبت رکھتے ہیں وہ ان کے متعلق کوئی تنقید برداشت نہیں کریں گے۔ اس بہادر خاتون کو وہ اس طریقے سے آئیڈیلائز کرتے تھے۔ لیکن یہاں میں ان سے سوال کرتی ہوں کہ وہ لوگ جو میڈیا میں شاندار ملازمتیں کر رہے ہیں اور شہزادوں جیسے تنخواہیں پا رہے ہیں کیا ان میں سے کوئی عاصمہ جہانگیر جیسا کردار ادا کر سکتا ہے جو انہوں نے کئی دہائیوں کے دوران برائی کی قوتوں کے خلاف ادا کیا تھا؟ کیا ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر تجزیے کرنے والے یہ لوگ سڑکوں پر نکل کر جیل جانے، مار کھانے یا قتل ہونے کا خطرہ مول لیں گے؟آخر میں ان کاغذی اور ٹی وی شیروں سے میں پوچھوں گی کہ کیا ان میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دائیں بازو کی مذہبی طاقتوں کا مقابلہ کریں؟ جب غیرت کے نام پر کوئی قتل ہوتا ہے یا جب کسی خاتون یا بچے سے زیادتی ہوتی ہے، یا طاقتور لوگوں کا کوئی گروہ کسی کی سرعام بے عزتی کرتا ہے تو کیا وہ اس پرآواز اٹھا سکتے ہیں؟ کیا ان میں اتنی جرات ہے کہ وہ آ کر متاثرہ فرد کا ساتھ دیں؟ عاصمہ ہمیشہ ان کی آواز بنتی تھیں۔ وہ کسی سے خوفزدہ نہیں تھیں۔ وہ اپنے راستے میں آنے والے کسی بھی شخص کو مسترد کرنے، ہرانے یا خاموش کرانے کی صلاحیت رکھتی تھیں اور میں نے بھی شرمندگی اٹھا کر یہ بات سمجھ لی تھی۔ میرا خیال تھا کہ ایک صحافی کے طور پر یہ میرا حق تھا کہ میں ان سے ایسا سوال کروں جس سے وہ شاید اتفاق نہ کریں۔ میں نے ان کے کئی ٹی وی شوز دیکھے تھے جس میں وہ دوسرے مہمانوں کے ساتھ بحث میں الجھ جاتی تھیں۔ تو ان میں سے کون جیتتا تھا؟ بلاشبہ عاصمہ جہانگیر۔ ان کے اندر اتنی طاقت تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کو پیچھے دھکیل سکیں۔ اور اسی وجہ سے وہ غیرمعمولی شخصیت کی حامل تھیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.