کچھ تو غلط ہو رہا ہے

46

جب کبھی بھی میں پی آئی اے سے سفر کرتا ہوں تو عام طور پر جہاز بھرا ہوتا ہے اورمقامی ائرلائنز میں جو رجحان ہے اس میں دیکھا جائے تو جتنا کرایہ پی آئی اے مجھ سے اسلام آباد جانے کا لیتی ہے اس میں میں دو بار دبئی سفر کرسکتا ہوں۔اگر ہم دیکھیں کہ پرواز کے دوران کس قسم کا کھانا اور سہولیات فراہم ہوتی ہیں تو ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ جب مسافروں کی بات آتی ہے تو ائرلائنز کا پیسہ اصل میں کہاں خرچ ہوتا ہے۔ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا ائرلائنز منافع نہیں کما رہی؟َ لگتا ہے کچھ تو غلط ہو رہا ہے۔ جب کبھی بھی قومی ائرلائنز کا سوال اٹھتا ہے تو ایک کے بعد ایک حکومت ہمارے لئے کوئی نیا پیکیج لے آتی ہے۔ سیاستدان پی آئی اے کے معاملے میں ہمیں ہمیشہ ہی ہمیں لوٹتے رہے ہیں۔ میں نے ایک بار پی آئی اے کی پریمیئر سروس کے متعلق لکھا تھا اور یہ بھی کہ یہ ایک غلط تصور کیوں ہے۔ اس بات پرتعلقات عامہ کے شعبے کے سربراہ نے مجھے کال کی کہ آخر میں کیوں ایسے لوگوں سے ملا جونواز شریف کی طرف سے پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کے اقدامات کو دیکھ ہی نہیں سکتے۔ میں نے جواب دیا کہ جب نواز شریف نے شجاعت اعظم کو مقرر کیا تھا
تو اسی وقت سمجھ آ گیا تھا کہ وزیراعظم معاملات کو درست کرنا ہی نہیں چاہتے۔ حتیٰ کہ صحیح الدماغ شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی پی آئی اے میں تعینات شخصیت مشاہداللہ نے بھی اس ائرلائنز کو اپنی مرضی سے استعمال کیا اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے رہے۔ اس سب کیلئے صرف یہ دیکھنا ہی کافی ہے کہ پی آئی آکے مختلف اہم عہدوں پر ان کے کتنے قریبی ساتھی اور عزیز و اقارب تعینات ہیں۔ اور یہ کام میرٹ سے ہٹ کر کیا گیا ہے، معمول سے ہٹ کر لوگوں کو ترقیاں دی گئی ہیں۔ جبکہ پہلی حکومت بھی کسی سے پیچھے نہیں رہی تھی۔آج مفادات کا ایک اور ٹکراو¿ مجھے پریشان کر رہا ہے۔ ہمارے وزیراعظم کے مفادات پی آئی اے کے مقابلے کی ائرلائنز سے ہیں۔ کیا وہ ائرلائن کو ٹھیک کرنے کی کسی کوشش سے انصاف کر پائیں گے؟ مجھے اس پر شک ہے.ان تمام دعوو¿ں کو ایک طرف رکھ دیں جن میں کہا جاتا ہے کہ پی آئی اے دوبارہ بلندیوں پر نہیں پہنچ سکتی۔ اگر دیکھا جائے تو ایماندار، مخلص لوگ اس میں تعینات ہو جائیں تو یہ پھر سے عروج پر پہنچ جائے گی۔ لیکن میں سوچتا ہوں کہ ایسے لوگ ملیں گے کہاں سے؟ہمیں یہ سیاستدان ملیں گے کہاں سے جو کہ ائرلائن کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے؟ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا ہی کارنامہ تھا کہ انہوں نے پی آئی آے کی مینجمنٹ سنبھال کر ٹریفک کی راہ ہموار کی اور اسے اپنے شعبے میں ایک بڑا نام بنا دیا۔کہا جاتا ہے کہ تاریخ خود کو دوہراتی ہے۔ اے وی ایم ظفر کے علاہ یہ وزیراعظم کے والد خاقان عباسی تھے جو ستر کی دہائی کے شروع میں پی آئی اے کے ڈپٹی مینجنگ ڈائریکٹر تھے۔ انہوں نے یہ تجویز دی تھی کہ بنگلہ دیش بننے کے بعد ہمیں پی آئی اے کا ادارہ بھی آدھا ختم کر دینا چاہیے کیونکہ بنگلہ دیش بننے کے بعد پاکستان آنے والے ٹریفک بھی آدھی ہو جائے گی۔ لیکن بھٹو نے کہا کہ ایسا نہیں ہو گا اور انہوں نے ملک کے ایک بڑے بزنس مین رفیق سہگل کو چیزیں درست کرنے کا کام سونپ دیا۔
سہگل نے ائرلائن کوسنبھالا، اس کی ساکھ بحال کی اور اسے ائرمارشل نور خان کے حوالے کردیا۔ نور خان کے دور میں پی آئی اے کو نئے روٹس ملے، اس نے کامیابی سے ڈی سی ٹین اور بوئنگ سیون فور سیون طیارے اپنے بیڑے میں شامل کئے اور خطے کی ایک بڑی ائرلائنز بن گئی۔ اور ایسا اس لئے ہوا کہ حکومت نے انہیں فری ہینڈ دیا تھا اور سیاسی مداخلت ختم کردی تھی۔تاہم جنرل ضیاءالحق کے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ بعد ہی نور خان نے انیس سو اٹہتر میں استعفیٰ دے دیا کیونکہ پی آئی اے میں سیاسی مداخلت ہو رہی تھی۔ اس کے بعد سے پی آئی اے مسلسل زوال پذیر رہی ہے۔ یہاں کک بیکس اور اقرباءپروری کا رواج چل نکلا ہے اور ائرلائنز کو اس کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دوہزار چار میں پی آئی اے کا منافع آٹھ سو سینتیس ملین ڈالر تک گر گیا اور دوہزار پانچ میں یہ ساڑھے چار
ارب روپے کے خسارے میں چلی گئی۔ دوہزار سات میں یہ خسارہ اڑتیس اعشاریہ اٹھہتر ارب تک پہنچ گیا اور دوہزار تیرہ تک یہ ایک سو ستانوے اعشاریہ سات سو ستانوے ارب تک پہنچ چکا تھا۔ جون دوہزار سترہ تک یہ خسارہ تین سو انیس ارب روپے ہو گیا۔ میں سوچتا ہوں کہ جب پی آئی اے نقصان میں جاتی ہے تو فائدہ کسے ملتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا چیلنج علاقائی ائرلائنز سے ہے۔ خاص طور پرخلیج کی ائرلائنز سے۔ تیرہ ملین پاکستانی اس روٹ پر ہر سال سفر کرتے ہیں۔ ان میں سے آٹھ ملین پی آئی اے سے سفر کرتے تھے لیکن دوہزار اآٹھ تک یہ تعداد کم ہو کر پانچ اعشاریہ چھ ملین رہ گئی اور دوہزار پندرہ میں یہ تعداد تینتالیس لاکھ ہو چکی ہے۔
ٹریفک میں یہ کمی انیس سو بانوے سے آنا شروع ہوئی تھی جب نواز شریف نے کی اوپن سکائیز پالیسی نےدوطرفہ ٹریفک رائٹس کے معاہدے کی جگہ لے لی اور یکطرفہ طور پر ہی ٹریفک کے حقوق منتقل ہو گئے۔ اس سے صرف خلیجی ریاستوں کی ائرلائنزکو فائدہ پہنچا اور ہماری حکومتوں نے خلیجی ریاستوں کے دباو¿ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ حتیٰ کہ آج بھی ہمارے تمام سیاستدانوں نے انہی ملکوں میں اپنی دولت چھپا رکھی ہے۔ اگر یہ کافی نہیں تھا تو موجودہ حکومت نے ترک ائرلائن کے منافع کمانے کے ارادوں کو تقویت بخش دی ہے۔ پی ا?ئی اے کی عظمت رفتہ بحال ہو سکتی ہے۔ لیکن ہمیں اس کیلئے مخلصانہ اور ایماندارانہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ ہمیں پہلے پاکستان کے متعلق سوچنا ہو گا۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.