سیاسی رقبے کا معاملہ

44

2013 میں انتخابات سے قبل مختلف سیاسی جماعتوں نے عوام سے کئی وعدے کیے تھے۔ بعض جماعتوں نے نیا پاکستان بنانے کا اعلان کیا تو بعض نے یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کو ایسی ریاست بنا دیں گی جس کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا۔ سبھی جماعتیں موجودہ حالات برقرار رکھنے کے بجائے بنیادی تبدیلی کا وعدہ کرتی ہیں۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ کسی جماعت نے زرعی اصلاحات کے حوالے سے کبھی کوئی بات نہیں کی۔کیا ہم زمین کی سیاست کو بدلے بغیر بنیادی تبدیلیوں کی بات کر سکتے ہیں؟ خواہ یہ زمین دیہی ہو یا شہری۔ بعض لوگ اب یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں جاگیرداری باقی نہیں رہی اور شاید ان کا کہنا درست بھی ہو۔ اگر جاگیردار معاشرے کی تعریف نظام پیداوار یا پیداواری اثاثوں کی ملکیت کے مفہوم میں کی جائے تو آج پاکستان میں زمینداری نظر نہیں آتی۔ لیکن زمین اور اقتدار کا گٹھ جوڑ آج بھی بہت مضبوط ہے۔بعض ذات برادریوں اور طبقات کے لیے زمین خریدنا اور فروخت کرنا ناممکن ہے۔ زمین کے مالکانہ حقوق کا تعلّق بہت سی اہم خدمات سے ہوتا ہے۔ پولیس، عدالت اور افسر شاہی کی سطح پر یہ تعلق واضح نظر آتا ہے۔ ایسی صورت میں کیا زمینوں کی خرید و فروخت کے تناظر میں زرعی اصلاحات کی
کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی؟ ملک کے بعض حصوں میں بڑی بڑی جاگیریں اب بھی مسئلہ ہیں اور اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم اصلاحات اراضی کے معاملے میں صرف غوروفکر ہی کافی نہیں ہو گا۔ اصلاحات اراضی کا مطلب یہ ہے کہ زمینوں کی خریدوفروخت کی منڈی کو تمام لوگوں کے لیے کھول دیا جائے تاکہ ہر طبقے یا ذات برادری سے تعلق رکھنے والا شخص زمین خریدنے کا اہل ہو سکے۔ اس حوالے سے سرکاری زمینوں کو پیداواری استعمال کے لیے قابل حصول بنانا، فوجی یا سرکاری زمینوں کو کم یا انہیں ختم کرنا، انتشار اراضی کا خاتمہ، پٹواری کا کردار کم کرنے کے لیے زمینوں کے ریکارڈ کو موثّر انداز میں تیار کرنا، مارکیٹ میں زمینوں کی ہمہ وقت موجودگی یقینی بنانے کے لیے ملکیت کا تازہ ترین اندراج نیز زمینداروں یا ریاستی اداروں میں گٹھ جوڑ توڑنے جیسے اقدامات اہم ہو سکتے ہیں۔غربت کو ختم کرنے کا ایک موثر ترین طریقہ یہ ہے کہ پیداواری اثاثوں کو غریبوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ دیہی علاقوں میں جہاں غریبوں کی اکثریت پہلے ہی زراعت سے سے وابستہ ہے، یا جہاں ان کی افرادی قوت موجود ہو وہاں غریبوں کو زمین یا مویشی فراہم کرنا قابل فہم طریقہ ہے۔ غربت کی موجودہ شرح کو پیش نظررکھتے ہوئے کیا ہم ان میں زمین تقسیم کرنے یا اراضی کی ازسرنو تقسیم کی بابت نہیں سوچ سکتے؟بڑی سیاسی جماعتوں نے اس مسئلے کو بالکل نظرانداز کر دیا ہے یا ان کا محض سرسری ذکر ہی کرتی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے 1972 میں اصلاحات اراضی کیلئے قانون سازی کی تھی تاہم اب یہ مسئلہ اس کی توجہ حاصل نہیں کر پاتا۔ مسلم لیگ (ن) نے صرف کمپیوٹرائزیشن اور اشتمال اراضی پر ہی توجہ مرکوز رکھی ہے۔اگرچہ دیگر جماعتوں کی طرح تحریک انصاف بھی غریبوں کو سرکاری زمینیں دینے اور ریکارڈ وغیرہ کی کمپیوٹرائزیشن کا وعدہ کرتی ہے۔ لیکن اس کا وعدہ صرف یہی ہے کہ وہ اصلاحات اراضی کے موجودہ قوانین پرعمل کرے گی۔ تین ججوں اور دو علما پر مشتمل سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے یہ فیصلہ سنا رکھا ہے کہ زرعی اصلاحات غیراسلامی ہیں۔ یہ فیصلہ اس اپیل کے نتیجے میں سنایا گیا تھا جو وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے کے بعد کی گئی تھی۔اگر سیاسی جماعتوں کا وعدہ یہ ہے کہ موجودہ قوانین پرعمل درآمد ہو گا اور اپیل کی سماعت کرنے والی عدالت کا فیصلہ بھی یہی رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اصلاحات اراضی کی جانب قدم اٹھانا ممکن ہی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا جائے اور کیس کی دوبارہ سماعت ہو۔ یہ متفقہ فیصلہ نہیں تھا (ایک جج نے فیصلے سے اختلاف کیا اور اپیل خارج کردی تھی) یہی نہیں بلکہ اصلاحات اراضی کے مقدمات میں شریعت بنچ کے اختیارات سے متعلّق بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے عدالت نے اس مقدمے کو خارج کر دیا تھا۔لیکن یہ بات کو تسلیم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ ہم ایک کمزورعدالتی فیصلے کے باعث
کسی ایسے معاملے کو بالائے طاق رکھ دیں جس کا تعلق مساوات، سماجی انصاف اور سماجی ہم آہنگی سے ہو۔ بینچ کے سربراہ نے تسلیم کیا تھا کہ اس مقدمے میں عدالت کی مناسب معاونت نہی کی گئی۔کیا واقعی اسلام اصلاحات اراضی کی مخالفت کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ کیا اس کا تعلق نجی ملکیت پر ریاستی حاکمیت قائم کرنے سے ہے؟ کیا یہ کلیہ تمام حالات میں درست ہے؟اگر ایسا ہے تو پھر ان امور کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو حلال یا مذہبی بنیادوں پر قابل قبول نہیں ہیں؟ اگر ریاست نجی املاک کو خرید کر اسے غریبوں میں تقسیم کر دیتی ہے تو کیا اسے قبول کرلیا جائے گا؟ اگر حکومت اس املاک کو مارکیٹ کی قیمت پر خریدے تو کیا یہ بھی قابل قبول ہوگا؟ اگر قیمت مارکیٹ سے کم ہو تو کیا یہ قابل قبول نہیں؟اصلاحات اراضی کے دیگر معاملات اسلامی نقطہ نظر سے کم متنازع ہیں۔ ان کا تعلق پٹواری کے رول کو کم کرنے، اشتمال اور انتقال سے ہے۔ تمام سیاسی جماعتیں ان امور کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنا سکتی ہیں اور انھیں ایسا کرنا بھی چاہئے۔مذکورہ بالا امور سے قطع نظر کسی جماعت نے بھی اصلاحات اراضی کو اپنے منشور کا اہم حصہ نہیں بنایا اور نہ ہی ان کے جلسوں میں اس کا ذکرہوتا ہے۔ کیا یہ چیز زمیندار طبقے کی قوت کی عکاس ہے؟ کیا اب بھی یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ مسئلہ کیوں اہم ہے؟ کیا اس سے ہماری جمہوریت کی کمزوری کا اظہار نہیں ہوتا کہ ملک میں غریبوں کی بھاری اکثریت کے باوجود اس قدر اہم مسئلہ قومی سطح کی جماعتوں کے ایجنڈے میں شامل ہی نہیں ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.