انصاف میں تاخیر کا مطلب، انصاف سے انکار

54

لاہور میں اس ہفتے انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے قصور میں بچوں سے زیادتی کے انتیس مقدمات میں نامزد بارہ افراد کو رہا کردیا ہے۔ یہ کیس دوہزار پندرہ میں سامنے آیا تھا۔ پراسیکیوٹرز نے ملزموں کے خلاف سولہ گواہ پیش کئے لیکن وہ الزامات کو ثابت نہ کرسکے اور ایسا زیادہ تر مقامی پولیس کی خراب تفتیش کی وجہ سے ہوا۔ چنانچہ عدم ثبوت کی بناء پر ان افراد کو رہا کردیا گیا۔گزشتہ برس انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے اس اسکینڈل میں نامزد گیارہ لوگوں کو رہا کیا تھا۔ ان میں سے چار اگست میں اور سات لوگ ستمبر میں رہا ہوئے تھے۔ اس ماہ کے شروع میں ایک اے ٹی سی نے اس اسکینڈل کےا یک کیس میں تین لوگوں کو عمرقید سنائی تھی۔ لیکن اگر ہم مجموعی طور پر دیکھیں تو پولیس نے چونتیس مقدمات درج کئے تھے۔ تفتیشی ٹیم نے پانچ مقدمات کو جعلی قرار دے کر مسترد کردیا۔ اب دو سال کے بعد تقریباً تمام گرفتار لوگوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے قصور
کا دورہ کر کے اس بات پر لوگوں سے سوالات کئے کہ پولیس کو ملزموں کے خلاف کافی ثبوت کیوں نہیں ملے۔ اس کی بظاہر یہی وجہ نظر آتی ہے کہ وزیراعلیٰ کے دعوو¿ں کے باوجود مقامی پولیس اہلکاروں نے لاکھوں روپے کی رشوت وصول کی اور مناسب تحقیقات کرنے کی بجائے الٹا عدالتوں کو گمراہ کردیا۔ کئی ایسے ظاہری اورمستند شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزموں نے بڑی تعداد میں بچوں کوزیادتی کا نشانہ بنایا تھا بلکہ یہی نہیں زیادتی کے واقعات کئی برسوں تک جاری رہے، کم ازکم دوہزار دس تک۔ جن بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا ان کی عمریں دس سے سولہ برس کے درمیان تھیں جب ان سے زیادتی کے واقعات ہونا شروع ہوئے۔ اب بھی اس جرم کے سینکڑوں ویڈیو کلپ موجود ہیں۔ایسے واقعات میں ایک ہی گاو¿ں اور قریبی علاقوں کے لوگ شامل تھی۔ کچھ معاملات میں تو اس بات کا ٹھوس شواہد ہیں کہ یہ انتہائی سنگین جرم تھا۔تاہم جو بات قرار واقعی شرمناک ہے وہ یہ ہے کہ مقامی پولیس نے اس بات پر اصرار کیا کہ اسے یقین نہیں ہے کہ بچوں سے زیادتی ہوئی یا پھر وہ جان بوجھ کر اس عمل کا حصہ بنے۔ اب حسین خان والا کے گاو¿ں میں دو سو ایسی بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز بنائی گئیں۔ ایسا کرنے والے گینگ نے بچوں کے والدین کو بلیک میل کیا کہ ان کے خلاف کارروائی ہوئی تو ان کی ویڈیوز لیک کر دی جائیں گے اوریہ کہ وہ رقم لے کر خاموش ہو جائیں۔ پولیس پہلے والدین کی درخواستوں کے باوجود واضح طور پر ایکشن لینے میں ناکام ہو گئی تھی لیکن جب یہ معاملہ میڈیا پر آ گیا اور پولیس اور متاثرین کے رشتے داروں میں تصادم شروع ہو گیا تو پولیس نے درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا۔
مارچ دوہزار سولہ میں سینٹ نے ایک بل بھی پاس کیا تھا جس میں بچوں پر حملوں، ان کی ویڈیوز بنانے اورٹریفکنگ کو پہلی بار جرم قرار دیا گیا تھا۔لیکن پولیس نے یہ بیان دے دیا کہ کہ گاو¿ں کے اندر دو گروپ زمین کے تنازعے پر لڑ رہے ہیں اور یہ اسکینڈل شاید اسی کا نتیجہ ہے۔ اصل میں پولیس کا یہ بیان اس کرپٹ محکمے کی سازش تھی اور اس کا مقصد مقدمے میں ابہام پیدا کرنا تھا۔زمین کے تنازعے کا معاملہ اس تناظر میں بیکار ہو جاتا ہے کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے معاملات کی تحقیقات کرائے اور بچوں اور کم عمر لوگوں کو استحصال سے تحفظ فراہم کرے۔ موجودہ حالات میں دیکھیں تو متاثرہ بچوں اور ان کے
خاندانوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جرم کو چھپانے کی اصل وجہ یہ تھی کہ متاثرہ بچوں یا ان کے خاندانوں نے ملزموں کو بھتہ دیا جس کا ایک حصہ پولیس کو پہنچا دیا گیا۔متعلقہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او نے ایک موقعے پر ان لوگوں کی فلم بھی بنائی تھی جو شکایت درج کرانے آئے تھے اور پھر یہ ویڈیو ملزموں کے حوالے کر دی گئی۔ ایس ایچ او کو شکایات کی وجہ سے معطل بھی کیا گیا لیکن اب وہ بحال ہونے والا ہے۔ بڑی آسانی سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اتنے شور شرابے کے باوجود پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات نہیں کی۔ شروع میں کسی گواہ کا بیان نہیں لیا گیا۔ کوئی شواہد اکٹھے نہیں کئے گئے، حتیٰ کہ جو قابل اعتراض ویڈیوز گاو¿ں میں گردش کر رہی تھیں انہیں بھی ضبط نہیں کیا گیا۔ بہت تاخیر سے کچھ کوششیں ہوئیں لیکن تب تک ملزموں نے سارے ثبوت مٹا دیئے تھے۔ لیکن بدترین جرمم یہ تھا کہ متاثرہ افراد پر اس واقعے کے نفسیاتی اور جسمانی اثرات کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔ حکام اور خاندانوں میں سے کسی نے اس بات کی کوشش نہیں کی کہ بچوں کا مناسب علاج ہو اور انہیں نفسیاتی امداد ملے۔ بطور قوم ہماری کیا حالت ہو گئی ہے؟ ہم بچوں سے زیاتی کرنے والوں کو تو بچا رہے ہیں لیکن زیادتی کا شکار بچوں کو مکمل طورپر نظرانداز کررہے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.