بایاں بازو کہاں کھڑا ہے

33

گزشتہ چند برس میں دنیا کے چند ممالک میں ہی عدم مساوات، غیر ملکیوں سے نفرت اور معاشی کفایت شعاری کے خلاف سماجی تحریکوں کا احیا ہوا ہے۔اس سلسلے میں امریکا میں وال سٹریٹ پر قبضے کی تحریک اور امریکی صدارت ک لیے برنی سینڈرز کی مہم، یورپ میں سریزیا اور پوڈیموز اور برطانیہ کی لیبر پارٹی میں جیریمی کوربن اور مومینٹم موومنٹ نمایاں ہیں۔مروجہ سیاسی نظام کی مخالفت کرنے والوں میں کچھ توپہلے سے قائم سیاسی ڈھانچوں میں جاری باغی تحریکیں ہیں جیسا کہ کوربن اور سینڈرز، جب کہ کچھ نچلی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں کے باعث جلد بازی میں تشکیل دی گئی نئی جماعتیں، نوآموز سیاست دان اور موجودہ تنظیموں میں شامل نالاں ترقی پسند رہنما شامل ہیں۔وہ بنیادی طور پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ معاصر بایاں بازو اور سوشل ڈیموکریٹ جماعتیں اپنے معاشروں میں عدم مساوات کے مسائل، سماجی جمود اور محنت کش طبقے کی مایوسی ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ صرف معدودے چند مثالوں میں ہی ایک اور الزام (جو اکثر و بیشتر حقیقت پر بھی مبنی ہوتا ہے) لگایا گیا ہے کہ مروجہ جماعتیں اور ان کی قیادت طبق? اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے اور وہ رجعت پسند جماعتوں سے مختلف نہیں ہیں۔اس حوالے سے اکثروبیشتر ‘نیا بایاں بازو’ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تاہم اس کی کامیابی کی شرح غیرمستحکم ہے۔ سینڈرز نے نمایاں کامیابی حاصل کی لیکن صدارتی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ کارکنوں میں کوربن خاصے مقبول ہیں لیکن
لیبر پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے پارٹی کی ہیئتِ مقتدرہ اور منتخب ارکانِ پارلیمان کی وجہ سے وہ بہت زیادہ دباو¿ میں ہیں۔اسی طرح سریزیا کا کفایت شعاری کے خلاف ایجنڈا ایک پیچیدہ معیشت کی حقیقتوں اور یورپی یونین کی رجعت پسند قیادت کا سامنا کرنے کے بعد کمزور ہوا ہے۔ پوڈیموز اور اس کے اتحادی ترقی پسند گروہ مضبوط دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ بھی سپین میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں تیسری پوزیشن ہی حاصل کر پائی۔کامیابی یا ناکامی کے باوجود بہرحال یہ تحریکیں سیاسی حقیقت کا حصہ ہیں جس کے پیچھے بہت سے عوامل کا ہاتھ ہے۔ دولت اور آمدن کے حوالے سے بیشتر اعداد وشمار ترقی یافتہ دنیا (اور ترقی پذیر دنیا کے کچھ حصوں میں) میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کو ظاہرکرتے ہیں۔ممکن ہے غربت کم ہو گئی ہو اور وہ لوگ جنہیں کبھی غریب قرار دیا جاتا رہا ہے، ماضی کی نسبت اب کہیں بہتر حال میں ہیں لیکن سماجی تفریق اور احساس محرومی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نچلے طبقات میں بڑھتا ہوا غصہ اور مایوسی یہ ظاہر کرتی ہے کہ حکومتوں کی موجودہ منڈی نواز پالیسی ایک بنیادی مسئلے کو حل کرنے میں کسی حد تک (اگر پوری طرح نہیں) ناکام رہی ہے۔ چنانچہ اس غصے اور محرومی نے اب مرکزی دھارے کی سیاست کا ر±خ کر لیا ہے۔دوسری بات یہ کہ مرکزی دھارے کی سیاست میں ناصرف امکانات محدود ہو گئے ہیں بلکہ اس طرز سیاست میں بھی بڑے پیمانے پر نجی امداد پر انحصار کیا جاتا ہے۔ پہلی شرط کا مطب یہ ہے کہ مرکزی دھارے کے سیاست دان بڑی حد تک اب ایک الگ ‘سیاسی طبقہ’ بن چکے ہیں جو سماجی اشرافیہ کے گروہوں پر انحصار کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اس سماج اور ان رائے دہندگان سے دور ہوچکے ہیں جن کی نمائندگی کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے لیے سرمایہ کاری، مہم کے لیے امداد اور سیاست میں ہونے کے عمومی اخراجات اس کا دوسرا سبب ہیں جس نے ساری دنیا کو متاثر کیا ہے۔ اسی بنا پر وہ محرومی کے بجائے دولت کے مقابل زیادہ اثرپذیر نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کارکنوں کی نئی نسل ہیئتِ مقتدرہ کو چیلنج کرنے میں پرجوش دکھائی دیتی ہے۔تیسرا نکتہ یہ کہ گزشتہ دہائی کے دوران انٹرنیٹ اور اعلیٰ تعلیمی ادارے روشن خیالی کے متبادل تصورات کے فروغ کا مرکز بن چکے ہیں۔ اس سے نئے روشن خیال متوسط طبقے کے حجم میں اضافہ ہوا ہے جو کاسموپولیٹن ازم، شناخت کی سیاست، سوشل ڈیموکریسی اور ماحولیاتی استحکام کے تصورات کو مہمیز دینے کی وجہ بنا ہے۔ امریکا میں مشرقی و مغربی ساحلوں کے روشن خیال اور لندن و دیگر میٹروپولیٹن شہروں میں ان کے ہم عصر نئی ترقی پسند سماجی تحریکوں کی بنیاد ہیں۔کوئی جس بھی نئے بائیں بازو کی جانب دیکھتا ہو، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مرکزی دھارے کی ترقی پسند سیاست اپنی بقا اور اہلیت کے حوالے سے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔برطانیہ میں بلیرائٹ لیبر پارٹی طویل عرصہ سے روشن خیال متوسط اور محنت کش طبقے کے ووٹ پر انحصار کرتی رہی ہے جو اس وقت کاسموپولیٹن ازم اور نیولبرل ازم کے حوالے سے اپنے وعدوں اور عالمگیریت و ثقافتی تبدیلی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے غم و غصے کے درمیان معلق ہے۔ اسی باعث رجعت پسند اور نسلی اعتبار سے فعال قوتیں جیسا کہ لی پین، ٹرمپ اور بریگزٹ ریفرنڈم میں ‘الگ’ ہونے کے حامی کیمپ نے خود کو محروم طبقے کے ‘حقیقی نمائندوں’ کے طور پر پیش کیا ہے۔ان
حالات کا حتمی نتیجہ سیاست کی مختلف حصوں میں تقسیم کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔ آپ نے نئی سماجی تحریکوں کا مشاہدہ کیا ہو گا جو کسی حد تک عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں لیکن ان کا نظریہ غیر مقبول ہے اور انہوں نے ایک بڑے محروم طبقے کو نظرانداز کر دیا ہے۔دوسری جانب ‘اعتدال پسند’ تخلیق کیے گئے ہیں جو طبقہ اشرافیہ اور محروم طبقات کا اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر کے سب کے لیے ہی کچھ نہ کچھ پیش کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ ہلیری کلنٹن اور لیبرپارٹی کا بلیرائٹ کیمپ اسی رجحان کی نمائندگی کرتا ہے، جو شکست و ریخت کا شکار ہے اور اسے مقبولِ عام رہنماو¿ں سے خطرات لاحق ہیں۔20 ویں صدی کے اوائل میں اطالوی کارکن اور فلسفی انتونیو گرامشی نے اپنے ملک میں جاری افراتفری کا جائزہ لیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا کہ ‘بحران کا تعلق اس حقیقت سے ہے کہ قدیم نظام زمین بوس ہورہا ہے اور نیا ابھر نہیں سکتا۔ اس درمیانی عرصے میں بہت سی مضر علامات جنم لیتی ہیں’اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مرکزی دھارے کی سنٹر لیفٹ اور روشن خیال جماعتوں کی جانب سے سوشل ڈیموکریسی کے حوالے سے تشکیل دیا گیا ماضی کا اتفاقِ رائے ختم ہو رہا ہے۔ عالمگیریت، نیولبرل ازم کو بڑے پیمانے پر اختیار کرنے اور رجعت پسند قوتوں کی یلغار نے ان کی طویل المدتی بقا ناممکن بنا دی ہے۔اس میں بھی شبے کی بہت کم گنجائش ہے کہ ان کے متوقع متبادل، نئی سماجی تحریکیں اور رہنما جیسا کہ سینڈرز اور کوربن فی الحال ابھر کر سامنے نہیں آئے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ نظریاتی طور پر مخلص کارکنوں اور عام لوگوں میں مقبول ہوں لیکن ان کی تنظیمی بنیاد انتہائی کمزور ہے اور ان کی راہ میں حائل ہونے والا عدم مساوات کا نظام ان کو منظرنامے سے ہٹانے کے لیے ہی تخلیق کیا گیا ہے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.