رضا ربانی کیوں نامنظور

21

سینٹ الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ میں 10 نشتیں، خیبر پختون خوا سے دو نشستیں ملنے اور بلوچستان سے منتحب ہونے والے آٹھ سینٹرز کے آصف علی زرداری پہ اعتماد کے اظہار نے پی پی پی کی سب سے بڑی حریف جماعت مسلم لیگ نواز کو فرنٹ فٹ پہ آکے کھیلنے پہ مجبور کردیا ہے۔مسلم لیگ نواز کے غیر اعلانیہ سربراہ میاں محمد نواز شریف نے سینٹ چئرمین کے لیے پیپلز پارٹی کے میاں رضا ربانی کا نام پیش کیا جسے آصف علی زرداری نے رد کر دیا۔آصف علی زرداری کی جانب سے میاں رضا ربانی کے نام کو مسترد کرنے کے بعد سے مسلم لیگ نواز اور اس کے حامی صحافیوں اور سوشل میڈیا پہ متحرک لوگوں کی جانب سے کھل کر تنقید کی جانے لگی اور یہ تک کہا گیا کہ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی طرف سے ملنے والے سیاسی ورثے سے دست بردار ہوگئی ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سعید نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ آصف زرداری کی قیادت میں پی پی پی بے نظیر بھٹو کی سیاسی وراثت سے دستبردار ہوگئی۔پاکستان کے موقر انگریزی اخبار روزنامہ ڈان کے 8 مارچ،2018ءکے اداریے میں فرحت اللہ بابر کے بطور ترجمان آصف علی زرداری استعفے ہٹائے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اداریہ میاں رضا ربانی کو نواز شریف کی جانب سے چئرمین سینٹ بنائے جانے کی تجویز پہ آصف علی زرداری کے ردعمل کو پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاسی وراثت سے انحراف قرار دیتا ہے۔سوال یہ ہے آیا آصف علی زرداری کی ’جوڑ توڑ کی سیاست‘ پیپلز پارٹی کے لیے کوئی اجنبی حکمت عملی ہے؟ پی پی پی کی تاریخ میں ایسے جوڑ توڑ کی مثالیں نہیں ملتیں؟اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں تھوڑا ماضی میں جانا پڑے گا۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے
1993ءمیں پنجاب میں مسلم لیگ نواز سے الگ ہونے والے دھڑے مسلم لیگ (جونیجو) جو بعد میں چٹھہ گروپ کہلایا کے 17 ارکان صوبائی اسمبلی سے مل کر پنجاب میں حکومت بنائی تھی اور چیف منسٹر میاں منظور وٹو اور پھر عارف نکئی بنے تھے۔اس اتحاد کا مقصد نواز شریف کو ہر صورت اقتدار لینے سے روکنا تھا۔پاکستان کی اربن لبرل چیٹرنگ کلاس کا یہ المیہ رہا ہے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کیے بغیر مثالیت پسندی سے چیزوں کو دیکھتی ہے اور اس کی اس منفی مثالیت پسندی کا اکثر و بیشتر فائدہ دائیں بازو کی قوتوں کو پہنچتا رہا ہے۔1972ء میں بھٹو صاحب اور سوشلسٹوں کے باہمی راستے جدا ہوئے اور پھر پاکستانی لیفٹ اور قوم پرستوں کا ایک حصّہ پاکستان نیشنل الائنس کا حصّہ بن گیا جس میں مذہبی رجعت پرست واضح اکثریت کے ساتھ موجود تھے۔پھر اینٹی بھٹو سیاست ’نظام مصطفی تحریک‘ کے نام پہ پاکستان میں ملائیت کے غلبے اور ضیاالحقی طرز سیاست کے چلن میں بدل گئی۔اس زمانے میں بھی پاکستانی اربن لبرل مڈل کلاس اور کئی ایک لیفٹ کے لوگ مثالیت پسندی کی ہواو¿ں میں ا±ڑ رہے تھے۔چودھری اعتزاز احسن صوبائی اسمبلی کی سیٹ سے مستعفیٰ ہو کر تحریک استقلال میں چلے گئے اور بعد میں اپنے اس اقدام پہ نادم ہوتے رہے۔انھوں نے بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی خواہش اور ہدایات کے برعکس چودھری افتخار پہ جو جوا لگایا،اس کا انجام سب کو معلوم ہے۔فرحت اللہ بابر اور میاں رضا ربانی پاکستان پیپلزپارٹی کے وہ دماغ ہیں جو بلاشبہ بہت ذہین ہیں لیکن یہ پاکستانی سیاست کے زمینی حقائق سے نابلد ہیں اور اپنی مثالیت پسندی کو زمینی حقائق سے مطابقت دینے میں اتنے ہی ناکام رہتے ہیں جتنے پاکستان کی کمپراڈور (خارجی عناصر کے نمائندہ) لبرل مڈل کلاس کے اشراف رہتے ہیں۔میاں نواز شریف سیاسی گند پھیلانے کے ماہر ہیں اور وہ کینچلی بدلتے رہتے ہیں۔اپنی نااہلی کے بعد سے انھوں نے پوری کوشش کی کہ اپنی ذاتی سیاست کی بقا کی لڑائی وہ پاکستان پیپلزپارٹی کو آگے رکھ کر لڑلیں۔وہ عدالتوں اور فوج سے خود ٹکر لینا نہیں چاہتے اور انہیں اپنے اردگرد کھڑے لوگوں کی صلاحیتوں کا بھی علم ہے۔وہ اس کام کے لیے سٹف بائیں بازو اور پیپلز پارٹی سے ڈھونڈ رہے ہیں۔لیکن آصف علی زرداری ان کی راہ کی ر±کاوٹ بن گئے ہیں۔میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ کے اندر پیپلز پارٹی کی دوسری صف کی قیادت میں نقب لگانے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے پہلے خورشید شاہ پہ کام کیا، پھر وہ یہ کام میاں رضا ربانی پہ کرتے رہے اور فرحت اللہ بابر کو بھی شیشے میں اتارنے کی کوشش کرتے رہے۔آصف علی زرداری نے اپنے تازہ ترین بیان میں واضح کردیا ہے کہ وہ کیوں میاں رضا ربانی کو سینٹ میں ڈرائیونگ سیٹ پہ بٹھانے پہ آمادہ نہیں ہیں؟ان کا کہنا ہے کہ میاں رضا ربانی نے بطور چئرمین سینٹ مسلم لیگ نواز سے 18ویں ترمیم پہ مکمل طرح سے عمل درآمد نہیں کرایا اور نہ ہی انھوں نے بطور چئرمین سینٹ پی پی پی کی پالیسیوں کو اس طاقت سے اپنایا جس کی ضرورت بنتی تھی۔قارئین کو یاد ہو تو بے نظیر بھٹو نے وکلا تحریک کے دوران چودھری اعتزاز احسن کو تحریک میں لو پروفائل نہ رہنے پہ پی پی پی کی فیصلہ سازی سے دور کردیا تھا۔میاں نواز شریف کو اچھی طرح سے علم تھا کہ آصف علی زرداری رضا ربانی کو کبھی چئرمین سینٹ نہیں بنائیں گے۔میاں نواز شریف جمہوری عمل کے واقعی حامی تھے تو ان کو پی پی پی کے تین سے چار ناموں کی لسٹ پیش کرنا چاہئیے تھی۔خود اعتزاز احسن کے نام میں کیا خرابی تھی؟ اور ایسے ہی سینٹ میں پیپلز پارٹی کے اور کئی معتبر نام تھے جنہیں تجویز کیا جاسکتا تھا۔نواز شریف نے ایک چال چلی تھی جبکہ اس دوران ان کے خاص مشیر مشاہد اللہ خان اور دوسرے لوگ فنکشنل لیگ، متحدہ کے دونوں دھڑوں سے مذاکرات کررہے تھے۔وہ اے این پی
اور جماعت اسلامی کے ساتھ بھی بات چیت میں مصروف ہیں۔نواز شریف اپنے اتحادی فضل الرحمان، محمود اچکزئی اور حاصل بزنجو کے ساتھ ساتھ ایک ایک سیٹ رکھنے والی اے این پی اور بی این پی (مینگل) کے ساتھ بھی جوڑ توڑ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ان کی کوشش ہے کہ وہ پی ٹی آئی، پی پی پی اور بلوچستان کے آزاد سینٹروں کو بائی پاس کریں اور ان میں نقب لگے تو لگائیں اور اپنا چئرمین اور ڈپٹی چئرمین منتخب کرالیں۔پاکستان کے مین سٹریم میڈیا میں نواز شریف اور ان کے اتحادیوں کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا لقب دے کر مسلسل ان کی تعریف کرنے والے سینٹ کے الیکشن کے بعد سے پیپلز پارٹی پہ کھل کر گولہ باری کررہے ہیں اور ٹیپ کا فقرہ ہے کہ پی پی پی اینٹی اسٹیبلشمنٹ نہیں رہی۔پیپلز پارٹی اینٹی اسٹیبلشمنٹ اس لیے نہیں رہی کہ وہ نواز شریف کی بی ٹیم بن کر نواز شریف کی سیاسی بقا کے لیے جدوجہد نہیں کر رہی۔پاکستان پیپلزپارٹی کو انتخابی سیاست میں جوڑ توڑ سے روکنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نواز ہونے کا طعنہ دینے والی پاکستان کی لبرل اربن چیٹرنگ کلاس نواز شریف کی جانب سے سینٹ کے حالیہ انتخابات میں سرائیکی خطے میں مقامی لوگوں کو نمائندگی سے بالکل محروم رکھنے، اقلیتوں کو سینٹ کا ٹکٹ نہ دینے اور سابق آئی جی سندھ رانا مقبول اور تعلیمی فراڈ میں ملوث اور مبینہ سعودی فنڈنگ سے سرائیکی خطے میں مذہبی شدت پسند مدارس کو پروان چڑھانے والے حافظ عبدالکریم کو منتخب کروانے جیسے انتہائی متنازع فیصلوں پہ خاموش ہیں۔ان کو نواز شریف، سپاہ صحابہ جیسی تنظیموں کو بطور اتحادی ساتھ چلانے کے باوجود بھی، جمہوریت پسند لبرل اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست دان لگتے ہیں لیکن ان کے خیال میں پیپلز پارٹی اپنے اینٹی اسٹیبلشمنٹ ورثے سے دست بردار ہوگئی ہے۔ان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کو سو فیصدی مثالیت پسند ہونا چاہیے اور وہ الیکشن پالیٹکس میں پیدا ہونے والے تقاضوں کو یکسر نظر انداز کردے اور بائیں بازو اور بعض لبرل گروپوں کی طرح تانگہ پارٹی بن جائے۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.