ایک بار پھرسرائیکی صوبے کا مطالبہ(1)

9

کل سوشل میڈیا ویب سائٹ پر ایک ”پیشگی معذرت“ کے عنوان کیساتھ ایک مختصر نوٹ تحریر کیا کہ ”اگر پی ٹی اے پندرہ بیس فیس بک اکاونٹ بلاک کر دے تو سرائکی صوبے کی ڈیمانڈ ختم ہو جائے گی۔ مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ صوبہ لیکر دینے والی چار صوبوں کی زنجیر جماعت کو گزشتہ ضمنی الیکشن میں صرف۰۰۰۳ ووٹ ملے تھے۔ نون لیگ کا بد ترین نقاد ہوں، مگر یہ پانچ سات ابن الوقت ایم این اے اس مشکل وقت میں صوبے کا بہانہ بنا کر نون لیگ چھوڑنے پر کس کو پاگل بنا رہے ہیں؟ بلا شبہ اس ابن الوقت اور لوٹا سیاست کی بنیاد ضیا منحوس کے انیس سو پچاسی کے غیر جماعتی انتخابات میں رکھی گئی اور بعد میں بھی نواز لیگ ہی ایک مدت تک اس بے غیرتی کی آبیاری کرتی رہی۔ تاہم اب وقت ہے کہ یہ غلام ابن غلام قوم تھوڑی غیرت کا مظاہرہ کرے اور دھڑے بندیوں اور برادریوں سے نکل کر ایسے تمام بے غیرت، بے نظریہ کرداروں کو ہمیشہ ہمیشہ کیلیے دفن کردے (خواہ انکا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو) جو اپنی جماعتوں کو مشکل اوقات میں چھوڑ کر ہر آنیوالی حکومت میں شامل ہونے کی خواہشمند رہتے ہیں۔ اس وقت میں نواز لیگ کو چھوڑ کر جانیوالا جو بھی شخص دوبارہ منتخب ہوا تو یقیناً اسے ووٹ دینے والی عوام کیا کہلائے گی“۔ اس کے جواب میں میرے عزیز ترین دوست اوربھائی روف کلاسرا نے ایک طویل اور بھرپور جواب(کمینٹ) لکھا کہ ”سر جی۔ میرا فیس بک اکاونٹ بھی اس فہرست میں
رکھ لیں جو بقول اپ کے بند ہو جائیں تو سرائیکی صوبے کا مطالبعہ ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ میں بھی اس مطالبے میں شامل ہوں۔ اپ جیسے ایک سمجھدار اور اچھے دانشور اور انسان کے یہ خیالات پڑھ کر افسوس ہوا کہ اپ کے اندر بھی ایک عدد آمر موجود ہے جو اپنے مزاج کے خلاف کسی بات پر مخالفین کا حقہ پانی بند کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ اپ کو رائے کا حق ہے لیکن سرائیکی صوبے کے حامی کو نہیں ہے؟ اپ شاید موجودہ زمینی حقائق سے دور ہیں۔ اس وقت صوبے کا مطالبہ صرف سرائیکی نہیں بلکہ وہاں رہنے والے پنجابی اور اردو سپیکنگ بھی کرتے ہیں۔ اور اس وقت ملتان ہائی کورٹ بار بھی علیحدہ صوبے کا یہ مطالبہ کئی دفعہ کر چکی ہے۔ یہ مطالبہ وہاں اب بہت پاپولر ہے۔ اکاونٹ بند کرانے سے ختم نہیں ہوگا اور نہ اپ کے غصے کرنے سے۔
اگر پندرہ بیس اکاونٹ کا مسلہ تھا تو پھر پنجاب اسمبلی میں دو صوبوں کی قراردایں کیوں منظور ہوئیں؟ ہر پارٹی کے منشور میں نیا صوبہ لکھا ہوا ہے۔ بارہ کروڑ ابادی کے ملک نہیں رہے اور اپ ایک صوبہ چلا رہے ہیں۔لگتا ہے اپ بھی ہمارے وہ پنجابی دانشور دوست ہیں جو لفظ سرائیکی سے چڑتے ہیں۔ اپ کو پنجابی سندھی پختون اور بلوچی سے کوئی مسلہ نہیں ہے۔ لفظ سرائیکی اپ لوگ سن لیں تو اپ لوگوں کے تن بدن میں اگ لگ جاتی ہے۔ اپ کو فوراً لسانیت یاد اجاتی ہے۔ لگتا ہے ابھی اسمان گرنے والا ہے۔ حالانکہ سرائیکی سب سے بڑی اور میٹھی زبان ہے۔ اگر وہاں کے سیاستدانوں نے خود کو سینٹرل پنجاب کے ہاتھوں ڈیل کر کے بیچا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سب چپ رہیں اور اپنے علاقے کے مسلسل استحصال پر نہ بولیں۔ کسی دن باقی چھوڑیں تلہ گنگ سے میانوالی سے بکھر ،لیہ ،مظفرگڑھ، ملتان روڈ پر سفر کر کے دیکھ لیں اپ کے چودہ طبق روشن ہوں گے۔ اپ کو پتہ ہے ابھی قومی اسمبلی میں رپورٹ پیش ہوئی جس مطابق بہاولپور سمیت دس اضلاع سرائیکی علاقوں میں سب سے زیادہ غریب ہیں۔ جی بہاولپور سمیت جس نے پاکستان بننے بعد اپ لوگوں کو تنخواہیں دی تھیں اج غریب اضلاع میں شامل ہے۔ تیرہ بدترین اضلاع جہاں کالا یرقان ہے دس اضلاع سرائیکی علاقوں میں ہیں۔ ویسے اگر سرائکی صوبہ کوئی عوامی مطالبہ نہیں تو پھر اسمبلی میں قراداریں کیوں پاس ہوئیں یا ہر جماعت کیوں صوبہ بنانے کے حق میں ہے؟ یا وہ سب بیوقوف ہیں اور ہم چند فیس بک دانشور زیادہ عقل مند ہیں؟ یاد ایا کبھی نواز شریف کہتے تھے میں پیپلز پارٹی کا نام سنتا ہوں تو میرا لہو کھولتا ہے۔ اپ کے سرائیکی بارے پوسٹ پڑھتا رہتا ہوں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ اپ کا بھی سرائیکی لفظ پڑھ اور سن کر لہو کھولنے لگتا ہے۔ دھیرج مہاراج ہم بھی انسان ہیں۔ سرائیکی اتنے برے بھی نہیں ہیں جتنا اپ نے سن رکھا ہے اورہمارے اکاونٹس تک بند کرانے جارہے ہیں۔ پی پی پی اس لیے سرائیکی علاقوں میں ہاری کیونکہ اس نے سیاسی فراڈ کیا اور اقتدار میں رہتے ہوئے وعدہ کر کے صوبہ نہیں بنایا۔ نواز لیگ نے دو صوبوں کی کہانی ڈال دی۔ اوپر سے کرپشن الزامات اتنے شدید تھے جسے نواز لیگ نے استعمال کیا۔ چلیں سرائیکی علاقوں میں پی پی پی ہاری اور سرائیکی بیکار نکلے تو اپ کے سینٹرل اور شمالی پنجاب میں کیوں ہاری جہاں صوبے کا کوئی ایشو نہیں تھا ؟ اب کی دفعہ اپ دیکھیں گے نواز شریف کی پارٹی کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو پی پی پی ساتھ
ساوتھ میں ہوا تھا۔ ساوتھ میں ایک نیا سیاسی ٹرینڈ ا±بھر رہا ہے کہ دو ہزار تیرہ میں بھی ازاد امیدوار بڑی تعداد میں جیتے تھے اور اب بھی اپ دیکھیں تو ازاد گروپ جنم لے چکا ہے۔ پہلے اپ سوچ نہیں سکتے تھے کہ اپ پی پی پی اور نواز لیگ ٹکٹ بغیر جیت سکیں۔ اب جیت جاتے ہیں۔ جمشید دستی دو سیٹوں پر جیتا اور الیکشن میں سرائکی صوبے کا نعرہ مار کر جیتا تھا۔ اس نے اسمبلی جا کر نواز شریف کو وزیراعظم کا ووٹ ڈالا اور اس کا بھائی ضمنی الیکشن میں اسی سیٹ سے ہار گیا۔ اپ میرا خیال ہے ساوتھ میں نئے صوبے کی حمایت بارے حقائق سے دور ہیں۔ پہلے مسلہ نام پر تھا اب وسیب کے سرائیکی پنجابی اور اردو سپیکنگ اس بحث سے نکل ائے ہیں اور جنوبی پبجاب نام پر بھی متفق ہیں۔ کبھی دورہ فرمائیں ساوتھ کا اور ڈھونڈیں کوئی اہم لوگ جو اپ کو صوبے کے خلاف باتیں کرتے ملیں۔ سب متفق ہیں اب۔باقی اپ کو پی ٹی اے کا ایڈریس پتہ نہ ہو بتائے گا بھجوا دو گا تاکہ اپ ہمارے اکاونٹس بند کرا دیں ،تاکہ صوبے کا مطالبہ ختم ہو۔ ویسے تو جب سندھ کو بمبئی سے علحیدہ کرنے کا مطالبہ سامنے ایا تھا تو اس طرح کا ردعمل سامنے ایا تھا جو اب اپ دے رہے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم میں دنیا میں بیس تیس کے قریب ملک تھے دوسری جنگ عظیم بعد پچاس تھے اج ستر سال بعد دو سو سے زائد ہیں۔ اگر فیس بک اکاونٹس بند کرنے سے ہی مسلہ حل ہوتا تو نئے ملک تک نہ بنتے۔ یہ تاریخی عمل ہے۔ جہاں دنیا بھر میں ملک بنتے ٹوٹتتے رہتے ہیں۔ وہیں ان ملکوں اندر صوبے بھی بنتے رہتے ہیں اور کوئی اسمان بھی نہیں گرتا۔ باقی جیندے رہو۔ وسدے رہو سائیں“ روف کلاسرا
بھائی کلاسرا کے اس زبردست کمینٹ پر میرا جواب اپ اگلے دو کالموں میں پڑھ سکیں گے (جاری ہے)

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.