نون لیگ میں ٹوٹ پھوٹ، نئی سیاسی بساط بچھ گئی؟

15

پاکستان میں حکمراں جماعت مسلم لیگ نون میں نواز شریف کی بطور وزیراعطم نااہلی کے بعد سے جماعت میں اندرونی اختلافات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔اگرچہ نہ صرف نواز شریف بلکہ ان کی صاحبزادی مریم نواز اور بھائی شہباز شریف کی جانب سے وقفے وقفے سے ان خبروں کی تردید سامنے آتی رہی ہے تاہم اب مسلم لیگ نون کے ٹکٹ سے منتخب ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی جماعت سے منحرف ہونا شروع ہوئے ہیں۔اس کی تازہ کڑی پیر کو جنوبی پنجاب سے آٹھ ارکان کی جماعت سے علحیدگی کا اعلان ہے ۔عام انتخابات سر پر ہیں اور اسلام آباد میں نگراں حکومت کے بارے میں مشاورت بھی شروع ہو چکی ہے تو اس ماحول میں مسلم لیگ نون کے اندر توڑ پھوڑ کیا کہانی بیان کر رہی ہے ۔اس سوال کے جواب میں سینیئر تجزیہ کار راشد رحمان نے کہا کہ ماضی میں عام انتخابات سے پہلے ’ فصلی بٹیرے ‘ ایک جماعت سے دوسری جماعت میں جاتے ہیں جو کہ ایک معمول کی بات ہے لیکن ابھی جو ہو رہا ہے اس کے پیچھے بظاہر ایک بڑا منصوبہ لگتا ہے ۔‘’لگتا ہے کہ پارٹی کی صفوں میں موجود اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے
رہنماو¿ں کو تلاش کیا جا رہا ہے جن کے قیادت سے اختلافات ہیں، کوئی رنجش ہے تو اس بنیاد پر ان کو الگ کر کے ان کی مدد سے مسلم لیگ نون کی طاقت کو بتدریج کم کیا جا سکے اور اس کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ انتخابات میں یہ جماعت سادہ اکثریت سے ایوان میں نہ آ سکے ‘اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب سے دلچسپ بیان خود عمران خان کا ہے کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ۔’کون سی پارٹی شروع ہوئی ہے ؟ یہ ہی پارٹی شروع ہوئی ہے کہ مسلم لیگ نون کی مزید توڑ پھوڑ ہو گی، کچھ آزاد گروپ بنیں گے اور پھر انتخابات سے پہلے بڑا گٹھ جوڑ ہو گا۔ آصف علی زرداری نے بڑی ایمانداری سے کہہ دیا کہ آئندہ حکومت مسلم لیگ نون کی نہیں ہو گی بلکہ وزارتِ عظمیٰ ان کی ہو گی تو ایسا ممکن اسی طرح کے ہتھکنڈوں سے ہو گا۔ ‘نواز شریف کی گذشتہ برس جولائی میں سپریم کورٹ کے ہاتھوں نااہلی اور اس کے بعد اسی عدالت سے اپنی جماعت کی صدارت کھونے کے بعد سے نواز شریف کھلے عام عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ڈھکے چھپے الفاظ میں اسٹیبلشمنٹ کی اپنے خلاف سازش کی بات کر رہے ہیں۔کیا اس تلخ سیاسی ماحول کے نتیجے میں مسلم لیگ نون کے ارکان جماعت سے پیچھے ہٹ رہے ہیں؟’چھوڑ کر جانے والے کبھی نون لیگ کا حصہ تھے ہی نہیں‘ایسی پارلیمنٹ پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجرم کو پارٹی کا صدر بنائے : عمران خان پنجاب میں مسلم لیگ ن، سندھ میں پیپلز پارٹی کی برتری مشرف کا 23 جماعتوں کے اتحاد کا اعلان اس پر راشد رحمان نے کہا ’ جب عدالت نے نواز شریف کو وزیراعظم کے عہدے اور پارٹی قیادت سے نااہل قرار دیا تو یہ نظر آ رہا تھا کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ کوئی منصوبہ ہے اور اس منصوبے کے تحت ذہن میں سوال یہ تھا کہ اتنے تردد کے بعد کیا مسلم لیگ نون کو اجازت مل جائے گی کہ وہ پنجاب میں ملنے والی اکثریت کی بنیاد پر دوبارہ اقتدار میں آ جائے ؟ تو یہ فہم میں نہیں آ رہا تھا اور اب جو کچھ ہوا ہے اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس کو روکنے کا کوئی پروگرام ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مزید واضح ہوتا جائے گا۔ ‘
تاہم عارف نظامی نے کہا کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جس میں صرف مسلم لیگ نون ہو گی بلکہ اس سے جمہوریت کو نققصان پہنچے گا۔’اس سارے عمل میں مسلم لیگ نون کو کمزور کرنے کے علاوہ زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ یہ جمہوریت اور سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے کہ یہاں ایسی سیاسی بساط بچھائی جائے جس میں کسی جماعت کو اکثریت حاصل نہ ہو اور مخلوط حکومت ہو، اور گٹھ جوڑ پر مبنی ایسا نظام نافذ کیا جائے ، اور یہ اوپر یا کسی اور جگہ سے نافذ
ہوتا ہے اس سے استحکام نہیں آئے گا بلکہ جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ ‘ایک سوال کہ نواز شریف نے کیوں یہ کہا کہ چھوڑ کر جانے والے رہنما کبھی ان کی جماعت کا حصہ تھے ہی نہیں تھے ۔اس کے جواب میں عارف نظامی نے کہا کہ اب نواز شریف کے بارے میں نوشت? دیوار پر لکھا نظر آ رہا ہے کہ ان کو اقتدار میں نہیں آنے دیا جائے گا اور اب یہ تاثر زور پکڑتا جا رہا کہ شاید مسلم لیگ نون کو آئندہ انتخابات میں پہلے کی طرح کامیابیاں حاصل نہ ہو سکے ۔’نواز شریف معاملے کے حل کا حصہ نہیں بلکہ اس وقت مسئلے کا حصہ ہیں کیونکہ اب چھوڑ کر جانے والے ارکان نے فروری 2013 میں انتخابات سے پہلے مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی تھی تو اس وقت نواز شریف نے بڑی گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا تھا بلکہ اس وقت مریم نواز نے ٹویٹ میں اس کو بہت بڑی فتح قرار دیا تھا۔ تو اب نواز شریف کہتے ہیں کہ یہ مسلم لیگی نہیں ہیں، مسلم لیگ تو کنگز پارٹی کے لیے ایک طرح کا لیبل ہے چاہیے نواز شریف کی ہوں یا آئندہ بننے والی کوئی اور ہو۔‘منحرف ارکان کی مسلم لیگ نون سے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے اعلان کے ساتھ الگ ہونے پر عارف نظامی اور راشد رحمان دونوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی نعرہ ہے اور اگر یہ کہہ جائے کہ ان کو جنوبی پنجاب کے لیے بڑا درد ہے تو انھوں نے گذشتہ چار برس یا اس سے پہلے مشرف کے دورِ حکومت میں شامل ہوتے ہوئے جنوبی پنجاب کے لیے کیا کیا؟

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.