ٹیکس ایمبسنٹی سے کچھ حاصل ہو پائے گا!

8

صدر مملکت نے 8اپریل کو ایک آرڈیننس کا اجراءکیا ہے جس کے تحت دو سے پانچ فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر بیرونی ملکوں کی آمدنی اور اثاثوں کو ظاہر کیا جا سکتا ہے جن کو اب تک ٹیکس حکام سے پوشیدہ رکھا گیا ہے یاد رہے ایسے اثاثے اور آمدنی جس کو ڈکلیئر نہ کیا جائے یا اس پر ٹیکس نہ ادا کیا جائے وہ کالا دھن کہلاتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ کسی معیشت کا دستاویزی نہ ہونا ہے ، پاکستان میں لاکھوں افراد گاڑیوں، بنگلوں، پلازوں اور کاروباروں کے مالک ہیں جبکہ وہ کسی قسم کا کا ٹیکس نہیں ادا کرتے ہیں، انکم ٹیکس کا ادا نہ کرنا عام شہریوں کا معمول ہے ، ان ٹیکس کے نا دہندگان کو نیٹ ورک میں لانے کےلئے مختلف سکیموں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے جن کا تعلق مقامی اثاثوں کے حوالہ سے تھا جب موجودہ ایمبسنٹی سکیم پاکستان کے بیرون ملک اثاثوں کے حوالے سے ہے پاکستان میں دہشت گردی کی وجہ سے امن و امان کی بد ترین صورتحال ، بھتہ خوری کا کلچر، اغواءبرائے تاوان کی وارداتیں اور کراچی میں ایک لسانی گروپ کی وارداتوں کی وجہ سے لوگ سرمایہ بیرونی ممالک بھجوانے پر مجبور ہوئے تھے جس کی کئی دہائیوں میں مالیت 150ارب ڈالر ہو چکی ہے آف شور کمپنیوں کی تحقیقات اور منی لانڈرنگ کی سخت تحقیقات کی وجہ سے ان اثاثوں کو بیرون ملک رکھنا مشکل ہو گیا ہے ان حالات میں بھارت نے بھی بیرونی اثاثوں اور آمدنی کو قانون بنانے کےلئے سکیم کا اعلان کیا تھا جس میں 64ہزار افراد9.8ارب ڈالر ظاہر کر کے اپنے اثاثے قانونی بنا چکے ہیں ، پاکستانی اسکیم انڈو نیشی ماڈل سے لی گئی ہے جس سے انڈو نیشیا کو 100ارب ڈالر حاصل ہوئے تھے جنوبی افریقہ، روس اور کچھ یورپی ممالک نے بھی ایسی سکیموں کا اجراءکیا تھا ، یاد رہے ٹیکس چوری اور ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت کا بڑا حصہ پاکستان میں موجود ہے ، جو کہ مجمومی قومی پیدا وار کے مساوی ہے جو جائیدادوں، گاڑیوں، بینکوں کے ڈیپاوزٹ قومی بچت کی سکیموں حکومتی
تمسکات اور سٹارک مارکیٹ کی شکل میں موجود ہے ان اثاثوں کی مکمل تفصیلات بمعہ متعلقہ فرد کے قومی شناختی کارڈ نمبر ریکارڈ میں موجود ہے ، میں نے اپنے متعدد کالموں میں لکھا ہے کہ اگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ان اثاثوں کا تعین کر لیا جائے جو ٹیکس حکام سے پوشیدہ بنائے گئے تھے اور مروجہ قوانین کے تحت کاروائی کی جائے چند ماہ میں تقریباً 200ارب کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے یاد رہے کہ پاکستان میں آج تک اعلان کی جانے والی ایمبسنٹی سکیموں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے بلکہ اعتماد کا بحران پید اہوا ہے۔
21کروڑ کی آبادی میں انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد 13لاکھ سے زائد نہیں ہے جن میں سے صرف 12لاکھ افراد ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں جبکہ چھ لاکھ کوئی ٹیکس نہیں ادا کرتے ہیں ، صرف سات لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں ان میں90%برائے راست تنخواہ دار ہیں اس اسکیم کے ایک حصہ میں انکم ٹیکس لیب کو 35%سے کم کر کے15%کر دیا گیا ہے اور ایک لاکھ ماہانہ یا سالانہ 12لاکھ آمدنی پر انکم ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 12سے چوبیس لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر5%چوبیس لاکھ سے48لاکھ آمدنی پر 10%اور48لاکھ سے زائد سالانہ آمدنی پر15%ٹیکس عائد ہوگا ، تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی سے مڈل کلاس کو فائدہ ہوگا اس اسکیم میں پراپرٹی کی رجسٹری کےلئے کم از کم DCریٹ کا ٹیبل ختم کر دیا گیا ہے ، اب یہ پراپرٹی مالک کی مرضی ہوگی کہ وہ کس مالیت پر اپنی جائیداد کی رجسٹری کراتا ہے ، جائیداد کی رجسٹریشن پر زیادہ سے زیادہ ایک فیصد پراپرٹی ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے پاکستان میں کالا دھن چھپانے کےلئے لوگ زیادہ سرمایہ کاری جائیدا د کی خریدو فروخت میں کرتے ہیں اور اس کی اصل قیمت ظاہر نہیں کی جاتی ہے اس عمل کی حوصلہ شکنی کےلئے اعلان شدہ جائیدادوں کی مالیت کی 2018-19میں سو فیصد زیادہ ادائیگی پر مالک سے حکومت خریدنے کی مجاز ہوگی جبکہ2019-20میں 75%زیادہ ادائیگی پر 2020-21میں پچاس فیصد زیادہ ادائیگی پر نہایت کم قیمت رجسٹر ڈ کی گئی جائیدادیں خریدی جا سکیں گی ، اسی طرح کی اسکیم بھارت میں بھی نافذ العمل ہے مگر اس میں بہت پچیدگیاں حائل ہیں اسکیم میں اعلان کیا گیا ہے بیرون ملک سے ایک لاکھ ڈالر سالانہ ترسیلات زر پاکستان بھجوانے والوں کو ذرائع کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا مختلف تاجر تنظیموں نے اس اسکیم کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ جائیداد کی رجسٹری میں وفاق اور صوبوں کے ٹیکسوں میں ہم آہنگی ہونی چاہیے جائیدادوں کی منتقلی پر 8%ٹیکس دراصل پراپرٹی کی اصل مالیت ظاہر کرنے میں رکاوٹ ہے یکم جولائی 2018سے بارہ لاکھ روپے کی سالانہ آمدنی پر ٹیکس چھوٹ دینے سے تقریباً5لاکھ22ہزار افراد ٹیکس نیٹ سے نکل جائیں گے اور تقریباً100ارب روپے کی ٹیکس وصولی کم ہوگی جو مالی خسارے میں اضافے کا باعث بنے گی حکومت کا شناختی کارڈ نمبر کو ٹیکس نمبر تصور کرنے میں ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا مودی انٹر نیشنل کے مطابق اس اسکیم سے حکومت کو دس ارب ڈالر تک مل سکتے ہیں جس سے توازن ادائیگی بہتر ہو سکتا ہے ۔
ایمبسنٹی اسکیم کے نفاذ میں یہ جوازپیش کیا گیا ہے حکومت زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا چاہتی ہے مگر یہ اقدام اقتدار کے آخری دو ماہ میں کیا جا رہا ہے بہتر تھا اس کو آئندہ حکومت پر چھوڑ دیا جاتا حکومت نے غریبوں کےلئے مہنگائی بے رو ز گاری، تعلیم اور صحت کے حوالے سے کسی پیکج کا اعلان کرنے کی بجائے دو فیصد امیر طبقات کےلئے رعایتی سکیم کا اعلان کر دیا گیا ہے اس دوران سابق وزےر اعظم میاں نواز شریف نے نئی حکومت منتخب ہونے تک نیب کے قوانین کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، مگر ان دونوں اقدامات کےلئے پارلیمنٹ سے کوئی منظوری نہیں لی جائے گی ، ایسے میں ووٹ کے تقدس کی بات کرنے والوں کا دوہرا کردار سامنے آتا ہے ۔ کہ عوام کے مفادات میں قانون سازی کی بجائے حکمران طبقات کے مالی مفادات کو ترجیح دی جائے اس اسکیم میں پیسے لانے والوں سے ذرائع آمدن کے بارے میں کچھ نہیں پوچھا جائے گا دو فیصد سے پانچ فیصد ٹیکس ادائیگی سے کالا دھن سفید ہو جائے گا جبکہ سالوں سے ایماندار ی سے ٹیکس ادا کرنے والوں کے ساتھ یہ
ظالمانہ مذاق ہوگا ۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایمبسنٹی سکیم کے ذرئع جو دولت ملک کے اندر آئے گی وہ سفید دھن بن کر بیرون ملک چلی جائے گی بلکہ سرمایہ کا تیزی سے پاکستان سے باہر بہاﺅ شروع ہا جائے گا یاد رہے اس سکیم کا اعلان اس وقت کیا گیا ہے کہ جب منی لانڈرنگ کےخلاف کام کرنے والی عالمی تنظیم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈال دیا ہے کیونکہ پاکستان پر الزام ہے اس کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کو فنانسنگ روکنے کے اقدامات کمزور ہیں یہ قدم اس تنظیم کو اعتماد دلانے کےلئے کیا گیا ہے حالیہ ایمبسنٹی سکیم کی پیپلز پارٹی نے مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے اس سے کرپشن اور منی لانڈرنگ کو فروغ حاصل ہوگا اس سکیم سے ممکنہ فوائد حاصل کرنے کےلئے ضروری ہے کہ آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق بورڈ آف ریونیو میں سٹرکچرل اصلاحات کی جائیں جبکہ صوبائی ٹیکس کلےکشن والے ادارے بھی نا اہلیت سے دو چار ہیں اور ان معاملات کو مستعدی کے ساتھ ہنڈل نہیں کر سکتے ہیں تحریک انصاف نے بھی اس اسکیم کی بھرپور مخالفت کی ہے ۔اس ایمبسنٹی سکیم کے اعلان اور نیب قوانین کی معطلی کے مطالبہ سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت کرپٹ لوگوں کے مفادات کے تحفظ کےلئے آگے بڑھ کر قانون سازی کر رہی ہے ملک اس وقت خوفناک معاشی سیاسی سماجی بحران سے دو چار ہے ایسے اقدامات سے امیروں کی دولت میں اضافہ اور غریبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے درمیانی طبقہ معدوم ہوتا جا رہا ہے حکومت کے عجلت میں مکمل کےے ہوئے بجلی پلانٹس بند ہوتے جا رہے ہیں ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے ہر ادارے میں رشوت سرایت کر چکی ہے بل واسطہ ٹیکسوں نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے ملک تیزی سے اکنامک ڈ س آرڈر کی طر ف بڑھ رہا ہے دیکھنا یہ ہے کالے دھن والے ہمارے سرمایہ دار حکمران جو بیرون ملک سرمایہ کاری میں حیران کن صلاحیتوں کے جوہر دکھا چکے ہیں وہ اس اسکیم سے ریاست کےلئے کیا فائدہ حاصل کرتے ہیں ، حکومت کے اقدامات سے ثابت ہوا ہے معاشی امور کی ماہر اس تجربہ کار حکومت کے اقدامات سے معیشت زوال پذیر ہوئی ہے اور ترقی ہمیں صرف اشتہاروں میں دکھائی دیتی ہے ۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.