ڈھول بجنا چاہیے

8

کچھ عرصہ قبل مجھے نئی دہلی میں دفاعی امور پر کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک کی کانفرنس میں شرکت کا اتفاق ہوا۔ ‘جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کے لیے ثقافتی کردار’ اس کانفرنس کا موضوع تھا۔دفاعی امور سے متعلق کسی ادارے کی جانب سے ثقافت کی اہمیت کا اعتراف اور اسے علاقائی تعاون کے لیے استعمال کرنے کی بات یقیناً اہمیت کی حامل ہے۔جب بھارتی وزیراعظم اپنے ملک کی یک ثقافتی شناخت کی ترویج میں مصروف ہوں اور ملک میں متنوع عناصر انتہائی دباو¿ اور خوف کا شکار ہوں، ایسے میں کسی سرکاری ادارے کی جانب سے جنوبی ایشیائی ثقافتوں کی تکثیریت پر کانفرنس کا انعقاد قدرے مزاحیہ بات معلوم ہوتی ہے۔تاہم اسے بھارت میں جاری حالیہ ثقافتی نزاع کی پیچیدگی کی علامت بھی کہا جا سکتا ہے جہاں بہت سی قوتیں باہم برسرپیکار ہیں اور یہ مخاصمت حکومت کے اندر بھی جاری ہے۔جنوبی ایشیا کے تمام ممالک رنگ ونسل سے ماورا ایک مشترک ثقافت کے مالک ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت اور پاکستان میں بہت سی ثقافتی مشابہت پائی جاتی ہے۔ پنجابی اور سندھی قومیت سے تعلق رکھنے والے لوگ دونوں ممالک میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔اسی طرح بنگلہ دیش مغربی بنگال (اہم بات یہ ہے کہ بنگال کے اس حصے
کے ساتھ لفظ ‘مغربی’ تاحال برقرار ہے) سے مماثل ہے، تامل ناڈو اور شمالی سری لنکا میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں جبکہ افغانستان اور خیبرپختونخوا عملی طور پر ایک جیسے ہی دکھائی دیتے ہیں۔مختلف حکومتوں کی جانب سے ایسے روابط توڑنے کی کوششوں کے باوجود یہ تعلق بدستور قائم اور بعض جگہوں پر مزید فروغ پا رہا ہے۔پاکستان اور بھارت کے پاس باہمی تعلقات میں کھونے کے لیے کچھ نہیں مگر ثقافتی تعاون کی بدولت ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیںپاکستان اور بھارت کے پاس باہمی تعلقات میں کھونے کے لیے کچھ نہیں مگر ثقافتی تعاون کی بدولت ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ تقسیم سے 70 برس بعد بھی مشرقی اور مغربی پنجاب کا کلچر بڑی حد تک ایک جیسا ہی ہے۔ یہ درست ہے کہ اب بہت سی چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں مگر 1947 سے اب تک تین نسلیں آ چکی ہیں اور اس عرصے کو دیکھتے ہوئے یہ تبدیلیاں قابل ذکر نہیں کہی جا سکتیں۔درحقیقت پنجاب کے دونوں اطراف لوگ ابھی تک 1947 کے واقعات کو ‘تقسیم’ کہتے ہیں کہ پنجاب آزاد ہونے کے بجائے تقسیم ہوا تھا۔ یہ بات دونوں حکومتوں کے لیے انتہائی برہمی کا باعث ہے۔سیاسی مسائل اپنی جگہ برقرار ہیں اور ایسے میں جنوبی ایشیائی ممالک کو اپنی مشترکہ ثقافت اور روایات اپنانے اور انہیں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔سب سے پہلے تمام ممالک کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جنوبی ایشیا میں کوئی ملک یک رخی تمدن کا حامل نہیں ہے۔ پاکستان کو ابتدا سے ہی عملی طور پر ثقافتی جنگ کا سامنا رہا اور اب بھارت اسی دور سے گزر رہا ہے۔صرف ایک ثقافت کو تسلیم کرنے اور اسی کو فروغ دینے سے سکالر بھی مبالغہ آمیز دعوے کرنے لگیں گے جیسا کہ حالیہ دنوں بھارت میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ویدی تہذیب دریائے سندھ کی تہذیب سے بھی زیادہ قدیم ہے۔ہندوتوا کا ایجنڈا ناصرف دوسرے مذاہب اور ثقافتوں کے لوگوں پر حملہ ہے بلکہ اس سے تاریخ کے بارے میں دروغ گوئی بھی پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ عمل ہندو مذہب اور ثقافت کے لیے بھی ضرر رساں ہے اور اس سے محض مزید واہمے اور بناوٹ ہی جنم لے گی جبکہ شناخت اور کلچر کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلیں گی۔ثقافت کی بنیاد مشترکہ اقدار پر ہوتی ہے اور یہی اقدار جنوبی ایشیا کے باسیوں کو ایک بناتی ہیں۔دوسری بات یہ کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو ایسے مواقع تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جن کی بدولت ان کی متنوع ثقافتوں کو نہ صرف ان کے اپنے ممالک بلکہ خطے کے دوسرے ملکوں میں بھی فروغ دیا جا سکے۔ اس سے ہماری ثقافتوں کی مشترکہ ترقی میں اضافہ ہو گا اور دوسروں کے تمدن و روایات کے بارے میں سمجھ بوجھ بھی بڑھے گی۔ جنوبی ایشیائی ثقافت کو مشترکہ طور پر دوسرے خطوں میں بھی متعارف کرایا جانا چاہیے جس سے ہمارے خطے کو ان مقامات پر بھی شناخت ملے گی جہاں جنوبی ایشیائی
ممالک کا اثر موجود نہیں ہےدوسری ثقافتوں اور روایات کے بارے میں سوجھ بوجھ کے فقدان کی وجہ سے بیشتر ممالک میں یہ عمل کھٹائی کا شکار ہے، چنانچہ ثقافتوں کے باہم ملاپ کی صورت میں ایک دوسرے کو گہرائی سے سمجھنا اور روابط میں مضبوطی لانا ممکن ہو جائے گا۔اس حوالے سے تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا کی ثقافت کو مشترکہ طور پر دنیا کے دوسرے ممالک اور خطوں میں بھی ترقی دی جانی چاہیے۔ اس سے ناصرف خطے کے مختلف ممالک میں تعاون کو فروغ ملے گا بلکہ ہمارے خطے کو ان مقامات پر بھی شناخت ملے گی جہاں جنوبی ایشیائی ممالک کا اثر موجود نہیں ہے۔جنوبی ایشیائی ممالک کی مشترکہ کوششیں (یہ کام سارک یا کسی دوسرے پلیٹ فارم سے ممکن ہو سکتا ہے) خطے کے تمام ارکان کے لیے سود مند ثابت ہوں گی، خصوصاً چھوٹے ملک ان سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گے۔ یوں اکٹھے کام کرنے سے انہیں زیادہ تشہیر ملے گی، دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگ ہم اور ہمارے تمدن سے واقفیت پائیں گے اور خطے کا تاثر مزید بہتر ہو جائے گا۔مثال کے طور پر پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے لیے یورپ میں موسیقی میلے کے انعقاد میں کیا حرج ہے؟ان تمام ممالک میں موسیقی کی اصناف ایک سی ہیں اور یہاں بولی جانے والی زبانیں بھی ملتی جلتی ہیں، اسی لیے ایسی مشترکہ کوشش خطے کے تمام ممالک کی ‘نرم طاقت’ میں مجموعی اور خصوصی طور پر مزید اضافہ کر دے گی۔ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں مگر ثقافتی تعاون کی بدولت ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.