مقبوضہ کشمیر: جدوجہدِ آزادی کا ساتھی کون؟

18

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو ایک ایسی نڈر عوامی بغاوت کا سامنا ہے جس نے جھکنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ریاستی ظلم و ستم کی انتہا بھی اس عوامی ابھار کو کچلنے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ اس قتل و غارت میں اتوار 6 مئی کو مزید 11 کشمیریوں کا خون کیا گیا۔ اس جارحیت اور قبضے کی حاکمیت نے اس سال کے پہلے چار ماہ میں اب تک 120 سے زائد کشمیریوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔ یہ جدوجہد قربانی کی ایک ایسی عظیم داستان ہے جس میں حالیہ ابھار تقریباً دو سال سے مسلسل اور نڈر ہو کر بار بار بھڑکتا ہے ۔ بھارتی حاکمیت نہ اس کو روک سکتی ہے اور نہ ہی اس کو مٹانے کے کوئی آثار ہیں۔آل پارٹیز حریت کانفرنس کے لیڈر میر واعظ عمر فاروق نے بیان دیا ہے کہ ” اس خطے میں ہونے والے ان واقعات کے درد کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا“۔ اسی حریت کانفرنس کے دوسرے لیڈروں کے بیانات کہ ‘عالمی طاقتیں اور ادارے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر کوئی توجہ اور رد عمل نہیں دے رہے ‘ دراصل ان کی عالمی برادری سے مایوسی کا اظہار ہے ۔پچھلے ستر سال سے حکمران اور بیشتر کشمیری لیڈر کشمیر کا حل بس یہی دہراتے رہے ہیں کہ ”اقوام متحدہ کی قراردادوں“ پر عمل درآمد کروانے سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت ملے گا‘ اور انہیں بھارتی استبداد سے نجات حاصل ہو گی‘ لیکن اب کشمیری نوجوانوں کی اس بے دھڑک اور جرات مندانہ جدوجہد نے ایک ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ اس اقوام متحدہ کے بارے میں پیدا کردہ حکمرانوں اور لیڈروں کی آس اور امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ واضح تر ہو رہا ہے کہ عوام اب مزید انتظار نہیں کر سکتے ۔ اقوام متحدہ کے فریب‘ منافقت اور سامراجی گماشتگی ان کے شعور میں بے نقاب ہو چکے ہیں۔ تحریکوں کی سیاسی سبقت یہ ہوتی ہے کہ ان میں
مداخلت کرنے والے طلبہ‘ نوجوانوں اور محنت کشوں کا شعور کہیں آگے چلا جاتا ہے ۔ حکمرانوں کا سماجی و اقتصادی نظام جب شدت اختیار کرتا جاتا ہے تو ایک طرف قابض ریاستیں بھارتی حاکمیت کی طرح ظلم و جبر کی انتہاﺅں پر اترآتی ہیں جبکہ جو حاکمیتیں ان تحریکوں کی حامی ہوتی ہیں‘ ان کے پاس موجود حمایت کے سیاسی اور سفارتی طریقوں کی گنجائش سکڑنا شروع ہو جاتی ہے ۔ ایسے پیچیدہ اور المناک مسائل کے یہی حل ہوتے ہیں جن سے تحریک میں قربانی پیش کرنے اور جدوجہد کرنے والے بیزار ہو جاتے ہیں اور پھر ایسے مصنوعی مصالحتی اداروں سے متنفر بھی ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے وجود پر مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر سب سے بڑے سوالیہ نشان ہیں۔ یہ ادارہ اب عالمی حکمرانوں کی سیاسی و خارجی پالیسیوں کا ایک ایسا لاغر اور مفلوج ذریعہ بن چکا ہے کہ کسی کلیدی اور تلخ مسئلے کو حل کرنا جہاں اس کے بس کی بات ہی نہیں رہی وہاں اس کی صلاحیت اور اہلیت بھی نہیں اور نہ ہی موجودہ خستہ حال اور گلے سڑے عالمی جبر کے اس نظام اور اس کے مروجہ ادارے انسانی بربادی کے ایسے مسائل کو حل کروا سکتے ہیں۔ لیکن پھر جو عالمی طاقتیں اپنی اقتصادی اور مالیاتی طاقت کے ذریعے اقوام متحدہ کو فنڈ کرتی ہیں‘ آخری تجزیے میں کنٹرول بھی انہی کا ہوتا ہے ۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل جو کسی دور میںچھوٹے موٹے مسائل کا حل کرواتی تھی‘ اب اس صلاحیت سے بھی عاری ہو چکی ہے ۔ پانچ بڑی طاقتوں کی ویٹو پاور ایسے ہی ہے جیسے ان کے ہاتھوں میں کوئی پستول ہو۔ جہاں ان کے مفادات سے کسی مسئلہ کا حل ٹکراﺅ کھاتا ہے وہاں یہ اقوام متحدہ کی کنپٹی پر یہ اوزار رکھ کر اس سے اپنی بات منواتے ہیں اور جہاں ان طاقتوں کو مالیاتی اور سٹریٹیجک مفادات حاصل ہوں وہاں مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ لیکن ایسے خطے اور ان کے مسائل ہیں ہی بہت کم‘ کیونکہ ملکوں اور خطوں پر قبضے ، قومی و طبقاتی جبر اور عوام کو مقید اور محروم رکھنے کی زیادہ تر وارداتوں میں مالیاتی سرمائے کے یہ بین الااقوامی اَن داتا ہی ملوث ہوتے ہیں۔ اس لئے سامنے کی بات ہے کہ کشمیر جیسے مسائل‘ جو انہی طاقتوں کے مفادات کے لیے پیدا کیے گئے تھے وہ انہی طاقتوں کی محکوم اقوام متحدہ بھلا کیسے اور کیونکر حل کروائے گی؟ پہلے کشمیر کی تقسیم کی بنیادی سازش برطانوی سامراج نے شروع کی پھر برصغیر کے مقامی گماشتہ سیاسی قائدین کے ذریعے یہ جھگڑا بڑھوایا‘ نتیجتاً 1948ئ کی جنگ ہوئی۔ برطانوی سامراج نے جاتے ہوئے جہاں برصغیر کا خونریز بٹوارہ کروایا تھا وہاں انہوں نے کشمیر کا تنازعہ شعوری طور پر ایک ترکیب کے ذریعے چھوڑا تھا تاکہ ان کے جانے کے بعد بھی کشمیر کا یہ سلگتا ہوا زخم‘ برصغیر کے ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی اور تناﺅ کو ابھارتا رہے اور یہاں کے عوام اس درد سے کراہتے رہیں‘ لیکن اس کشیدگی سے جو عدم استحکام ایک معمول کے طور پر برصغیر کی سیاسی اور سماجی زندگی میں سرایت کر رہا ہے اس سے یہاں کی خلق مسلسل کرب میں مبتلا ہے ۔ اس تناﺅ اور ان تنازعات سے سامراجی ثالثی اور مداخلت کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے ‘ لیکن اس سے بڑھ کر سامراجی اسلحہ ساز کمپنیوں کے انسانی بربادی کے آلات پر یہاں کے سامراجی گماشتہ حکمران عوام کے خون اور پسینے سے پیدا ہونے والی دولت اور وسائل لٹاتے رہے ، اپنے کمیشن بناتے رہے اور سامراجی لٹیرے ہولناک منافع کماتے رہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازع پر تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ ان سے کشمیری عوام کی آزادی کے لئے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ مذاکرات کے لا متناعی دھارے اور سربراہی ملاقاتیں ناکام ہی رہی ہیں۔ اس وقت بھی بھارت دنیا کی سب سے بڑی غربت کا حجم ہے اور دنیا کے پہلے چند سب سے زیادہ اسلحہ کے خریداروں میں بھی شامل ہے ۔ پاکستان کے حکمران بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں‘ اور یہاں بھی غربت‘ ذلت اور محرومی سے بھاری اکثریت مجروح اور گھائل ہے ۔سرد جنگ کے دوران روس اور بھارت کے قریبی تعلقات کی وجہ سے کشمیر کے قوم پرست لیڈروں نے آس لگوا رکھی تھی کہ
امریکہ اور یورپ ان کی آزادی کے لئے اقدامات کریں گے ‘ لیکن اس دور میں بھی سامراجی ممالک اپنی اجارہ داریوں کے منافعوں کے لئے بھارت کی بڑی منڈی کے مرہون منت ہی رہے ۔ امریکہ اور بھارت کے اس وقت بہت قریبی تعلقات بھی انہی مالیاتی مفادات اور نظام کے بڑھتے ہوئے بحران سے بچنے کے لئے مفاہمت کا کھلواڑ ہی ہیں۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ برصغیر کے کسی خطے کے مظلوم طبقات اور قوموں کو بھلا کون سی آزادی دلوا سکتا ہے ؟ پھر کشمیر کی تحریک میں کچھ عرصے تک کچھ اور حوالوں سے بھی آزادی کے حصول کا نعرہ دیا گیا۔ اس کی ناکامی ہمارے سامنے ہے ۔ لیکن بھارتی فوجی جرنیل طاقت کا بہت بے دردی سے استعمال کر رہے ہیں اور متحرک نوجوانوں اور تحریک میں کلیدی کردار کے حامل لوگوں پر دہشت گردی کا الزام عائد کر کے ان کو ختم کرنے کا وحشیانہ سلسلہ بھی انہوں نے جاری رکھا ہوا ہے ‘ جبکہ مسلم ممالک کے حکمران ان معاملات سے لا تعلق نظر آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بھارتی درندگی پر وہ خاموش ہیں اور اس کے حکمرانوں سے تعلقات بھی اپنے مالیاتی مفادات کے لئے بڑھا رہے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے چین سے امیدیں باندھ لی گئی ہیں‘ لیکن نریندر مودی کے حالیہ نجی دورہٓ چین کے دوران جس طرح چین کے حاکم شی جن پنگ نے مودی کی خاطر مدارت کی اور کشمیر کا نام تک نہ لیا گیا‘ اس نے یہ امید بھی ختم کر دی ہے ۔ ان دنوں بھی خونریزی جاری ہے لیکن کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کی چیخیں کسی تک نہیں پہنچ رہی ہیں۔ 70 سال کی جدوجہدِ آزادی سے کشمیر کے نوجوان اور محنت کش عوام جو سبق سیکھ رہے ہیں‘ وہ یہی ہے کہ ان مظلوموں کا ساتھ مظلوم ہی دے سکتے ہیں۔ مخلصی اور سچائی کا رشتہ صرف طبقاتی جڑت کا رشتہ ہے ‘ کیونکہ ان کے درد اور تکلیفیں ایک ہیں۔ کشمیر کی یہ نڈر تحریک پورے برصغیر میں جو جذبے اور حرارت ابھار رہی ہے ‘ یہ ایسی بغاوت کو جنم دے گی جو پورے خطے سے اس ظلم و ستم اور طبقاتی و ریاستی جبر کے نظام کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.