نواز شریف کا سیاسی مستقبل اب کیا موڑ اختیار کرنے جارہا ہے؟

143

ملک میں شریف خاندان کے خلاف جاری احتساب عمل کے حوالے سے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تا حیات قائد نواز شریف کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے۔ملتان میں نااہلی کے خلاف نکالی گئی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ریلی کے دوران دیے گئے انٹرویو میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف نے اپنے اور اہل خانہ کے خلاف جاری احتساب کے عمل کے بارے میں رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں 2 یا 3 متوازی حکومتیں ہوں تو آپ وہ ملک نہیں چلا سکتے، ا س کے لیے صرف ایک آئینی حکومت کا ہونا ہی ضروری ہے۔خصوصی انٹرویو میں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو چھوڑ جانے والے ارکان بالخصوص جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے سابقہ اراکین کے بارے میں کہا کہ ’وہ پارٹی چھوڑ کر نہیں گئے، ا±نہیں لے جایا گیا ہے‘ اور ساتھ ہی سوال کیا کہ انہیں کون لے کر گیا؟ان کا جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے حوالے سے کہنا تھا کہ اگر وہ واقع ’محاذ‘ تھا تو وہ 2 دن بھی اس پر کیوں نہ ڈٹ سکے اور فوری طور پر تحریک انصاف میں شامل ہونے کے لیے ا±نہیں کس نے مجبور کیا؟واضح رہے گزشتہ برس وزیراعظم
کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد نواز شریف کا جنوبی پنجاب کے کسی بڑے شہر کا یہ پہلا دورہ تھا جو انہوں نے ملتان ریلی میں شرکت کرکے کیا، انٹرویو کے دوران نواز شریف علاقائی سیاست سے زیادہ شکایات پر گفتگو کرنے میں دلچسپی لیتے نظر آئے۔اس موقع پر انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ رواں ہفتے جہلم میں نکالی گئی ریلی میں شرکاء کی کم تعداد، عوام میں ان کی حمایت اور مقبولیت میں کمی کا اشارہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ ریلی کا انعقاد جس مقام پر کیا گیا وہ چھوٹا تھا لیکن مکمل طور پر عوام سے بھرا ہوا تھا، لوگوں میں ’مجھے کیوں نکالا؟‘ کا نعرہ بہت مقبول ہے اور لوگ اس حوالے سے خاص جذبات رکھتے ہیں۔تاہم جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ آئندہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت کون کرے گا اور کیا شہباز شریف ممکنہ طور پر وزارت عظمیٰ کے اگلے امیدوار ہوں گے، تو انہوں نے اس سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کی خدمات کے سب ہی معترف ہیں، آپ شہر پر نظر دوڑائیں انہوں نے اس کا حلیہ بدل کے رکھ دیا ہے۔اس موقع پر سابق وزیراعظم اپنے دور حکومت میں شروع کیے گئے سڑکوں، بجلی کے منصوبوں اور معاشی شرح نمو اچھی ہونے کا تذکرہ کرنے میں زیادہ پرجوش نظر آئے، گفتگو کے دوران وہ مسلسل اس بات کی نفی کرتے رہے کہ ان کی حکومت بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کرنے میں ناکام رہی، چاہے وہ معاشی اصلاحات ہوں ، قانونی یا پھر سیاسی۔تاہم انہوں نے 2014 میں عمران خان کے دھرنے کے تناظر میں کہا کہ جب پہلے سال سے ہی غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی جائیں گی تو اصلاحات کیسے ممکن ہوں گی؟
جب نواز شریف سے پوچھا گیا کہ ان کی حکومت کے خاتمے کی وجہ کیا تھی، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات کا تذکرہ کرتے کہا کہ ہم نے اپنے آپ کو تنہا کرلیا ہے، ہماری قربانیوں کے باوجود ہمارا موقف تسلیم نہیں کیا جارہا، افغانستان کا موقف سنا جاتا ہے لیکن ہمارا نہیں، اس معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اس بارے میں مزید گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ممبئی حملوں کے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کے حوالے سے کہا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں انہیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔یہ عمل ناقابل قبول ہے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، یہ بات روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور چینی صدر ڑی جنگ نے بھی کہی، ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری مجموعی ملکی پیداوار کی شرح
نمو 7 فیصد ہوسکتی تھی لیکن نہیں ہے۔
انہوں نے اس رائے سے اختلاف کیا کہ تیسری مرتبہ وزیراعظم کے عہدے سے برطرفی ان کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی، ان کا کہنا تھا کہ اگر پھر حکومت ملی تو وہ اس سے مختلف کچھ نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آئین سب سے مقدم ہے اور اس کے علاوہ کوئی راہ نہیں، ہم نے ایک آمر کے خلاف مقدمہ چلایا جو اس سے قبل کبھی نہیں ہوا، یہ بات انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے حوالے سے کہی۔جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا وہ ماضی کی طرح حراست سے بچنے کے لیے جلاوطنی اختیار کرنے کے لیے ڈیل کی کسی پیشکش پر دوبارہ غور کریں گے؟ جس پر ان کا کہنا تھا کہ میں 66 پیشیاں بھگتے کے بعد ایسا کیوں کروں گا جب کہ مجھے اتنی بھی مہلت نہیں دی گئی کہ لندن میں زیر علاج اپنی اہلیہ سے ملاقات کرنے جا سکوں، دور رہنا آسان نہیں ہے۔ریلی سے خطاب کرنے کے لیے جانے سے قبل انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں، یہ کھیل بہت عرصے سے جاری ہے اب کچھ تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔لیکن نواز شریف جیسا اعتماد اور دلجمعی ان کے ساتھیوں میں نہیں دیکھی جارہی، اور حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کی جماعت کے مزید ارکان کی جانب سے وفاداریاں تبدیل کیے جانے کا امکان ہے، جس سے انہیں مضبوط انتخابی نعرہ اور ہمدرد دانہ ووٹ تو مل جائیں گے لیکن پارلیمنٹ میں ان کے ارکان کی تعداد میں کمی ہوجائے گی۔

مزید خبریں

اپنی رائے دیجئے

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.